امن کس لئے
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
امن کی تعریف اہل علم حضرات اس طرح کرتے ہیں کہ امن عدم جنگ (absence of war)
کا نام ہے مگر وہ لوگ جو مختلف مقامات پر حق اور انصاف کے اصول کے نام پر جنگ چھیڑے ہوئے ہیں وہ اس تعریف کو نہیں مانتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امن برائے امن کوئی چیز نہیں۔ اُن کے نزدیک امن وہ ہے جو امن مع انصاف (peace with justice) ہو، نہ کہ امن بغیر انصاف (peace whithout justice) یہ سوچ ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔ انصاف امن کا نتیجہ نہیں ہے۔ انصاف خود طالبِ انصاف کے عمل کا نتیجہ ہے۔ امن کے ذریعہ وہ معتدل حالات پیدا ہوتے ہیں جو مواقع کے استعمال کو ممکن بناتے جنگ کی حالت مواقع (opportunities) کے استعمال میں رکاوٹ ہے۔ امن کی حالت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مواقع کی راہ سے یہ رکاوٹیں ختم ہو جائیں تاکہ اُن کو استعمال کر کے اپنا مطلوب حق یا اپنا مطلوب انصاف حاصل کیا جاسکے۔
اگر آدمی کی سوچ یہ ہو کہ وہ فریق ثانی سے امن کا معاملہ کرنے پر صرف اُس وقت راضی ہوگا جب کہ امن کے ساتھ ساتھ اُس کو انصاف مل رہا ہو، تو آدمی کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ امن اس دنیا میں کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ یہ سوچ ایک غیر فطری چیز ہے جو اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز ہونے والی نہیں۔ صحیح سوچ یہ ہے کہ امن کو مواقع عمل سے جوڑا جائے، نہ کہ حصولِ انصاف سے۔ کو فریق ثانی سے معاہدہ کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے مگر انصاف یا حق کسی کو صرف اپنے عمل سے ملتا ہے، نہ کسی اور کے دینے سے۔