وقت کے پیچھے سوچنا
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
مارچ ۲۰۰۲ء میں مسئلہ فلسطین کے حل کے بارے میں عرب ملکوں کے درمیان ایک نیا وہ یہ کہ اسرائیل اگر ۱۹۶۷ کی حد پر واپس چلا جائے تو عرب ممالک اسرائیل کو باقاعدہ طور پر قبول کر لیں گے۔ ایک تعلیم یافتہ عرب نے ایک یہودی سے بات کرتے ہوئے اُس کے سامنے یہ تجویز رکھی۔ یہودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ عزیز پڑوسی، تم نے بہت دیر کر دی: Dear Neighboure, you are too late. عرب حضرات کی مذکورہ تجویز بہت اچھی ہے مگر یقینی طور پر وہ قابل عمل نہیں۔ یہ دراصل وقت
کے پیچھے سوچنا ہے جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ ایک اُردو شاعر نے درست طور پر کہا ہے کہ : گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز ۱۹۱۷ء میں ممکن تھی وہ ۱۹۴۸ء میں ناممکن ہو چکی تھی ۔ اسی طرح اُن کے لیے جو چیز ۱۹۴۸ء میں ممکن تھی وہ اُن کے لیے ۱۹۶۷ء میں ممکن نہ رہی تھی۔ اسی طرح اُن کے لیے جو چیز ۱۹۶۷ء میں ممکن تھی وہ اب ۲۰۰۲ء میں اُن کے لیے ممکن نہیں ہے۔ یہ حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ ہو مگر وہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اور تاریخ کو بدلنا کسی کے لیے ممکن نہیں، نہ عربوں کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے۔
۲۰۰۲ء میں عربوں کے لیے فلسطین کے معاملہ میں جو چیز ممکن ہے وہ صرف ایک ہے۔ یہ ہے کہ غزه اوراریحا کی صورت میں اُن کو جو چیز ملی ہے اُس کو قبول کر لیں۔ وہ اس حاصل شدہ خطے پر اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اپنے پُر جوش رہنماؤں کی غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی کے نتیجہ میں انہوں نے اس حاصل شدہ ٹکڑے کو بھی اپنے لیے مشتبہ بنا لیا ہے۔ عربوں کو جاننا چاہئے کہ وہ حماس اور انتفاضہ جیسی پر تشدد تحریکوں کے بل پر کوئی چیز حاصل نہیں منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ بر آمد نہیں ہوتا۔ حماس اور انتفاضہ جیسی تحریکیں حقیقت کے اعتبار سے تحریکیں نہیں ہیں، وہ صرف جذباتی رد عمل کا مظہر ہیں۔ اور حقائق کی اس دنیا میں سوچے سمجھے عمل کے ذریعہ کوئی نتیجہ نکلتا ہے، نہ کہ جذباتی اُبال کے ذریعہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کی بنیاد پر کبھی حال کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ حال کا فیصلہ ہمیشہ حال کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ ایک نا قابلِ تنسیخ تاریخی اس میں کوئی استثناء کبھی ممکن نہیں، نہ ایک قوم کے لیے اور نہ کسی دوسری قوم کے لیے۔ بُرائی کی جڑ اکثر لیڈر سوچ کی اس غلطی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اُن کے زمانہ میں جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہیں وہی تمام برائیوں کی جڑ ہیں۔ اگر اُن کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے تو تمام بُرائی ختم ہو جائے یہ سوچ اپنے تجربہ میں بار بار غلط ثابت ہوئی ہے۔
مصر کی جماعت الا خوان المسلمون نے یہ سمجھا کہ شاہ فاروق کی حکومت ملک کی تمام خرابیوں کی اگر کسی طرح اس حکومت کا خاتمہ کر دیا جائے تو اُس کے بعد ملک کا نظام ہر اعتبار سے درست ہو جائے گا۔ اس ذہن کے تحت انہوں نے مصر کے کچھ فوجی افسروں کے ساتھ مل کر شاہ فاروق کی حکومت کو ختم کر دیا اور اُنہیں ملک سے نکال دیا۔ مگر اُس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔
اسی طرح پاکستان کی جماعت اسلامی نے یہی غلطی مزید اضافہ کے ساتھ دہرائی۔ مثلاً صدر محمد ایوب خاں کی حکومت کے زمانہ میں انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ ملک کی تمام خرابیوں کی جڑ ایوب خاں کی فوجی حکومت ہے۔ انہوں نے اس حکومت کے خلاف ہنگامہ خیز مہم شروع کی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر ملکی حالات میں کوئی سدھار نہ ہو سکا۔ اس کے بعد دوبارہ یہی ہوا کہ انہوں نے فرض کر لیا کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ چنانچہ وہ دوسرے اسلام پسندوں کو ساتھ لے کر مسٹر بھٹو کے سیاسی اقتدار کو اکھاڑنے میں مصروف حتی کہ جنرل ضیاء الحق کی مدد سے مسٹر بھٹو کو پھانسی پر چڑھانے میں کامیاب ہو گئے ۔ کے حالات بدستور بگڑتے چلے گئے۔
”برائی کی جڑ‘‘ کے نظریہ کا تجربہ موجودہ زمانہ میں بار بار دہرایا گیا ہے مگر ہر بار وہ مکمل طور پر ناکام ہوا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ دوسرے لیڈر بھی بار بار اس غلط فکری میں مبتلا ہوئے۔ مہاتما گاندھی نے یہ سمجھا کہ برٹش راج ہندوستان کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ اسی طرح جے پرکاش نرائن نے یہ سمجھا کہ کانگریسی راج ملک کی ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔ مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے بعد جب برٹش راج اور پھر کانگریسی راج ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ ملک کے اصل حالات میں مطلوب تبدیلی نہ پورن سوراج اور پورن کرانتی ملک کی اصل برائیوں (مثلاً کرپشن) میں جزئی اصلاح بھی نہ لا سکے، پورن سدھار کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے بگاڑ کا تعلق سوچ سے ہے۔ اصلاح کا راز یہ ہے کہ انسانی سوچ
میں تبدیلی لائی جائے ۔ انسانی سوچ کو بدلے بغیر کوئی بھی اصلاح ممکن نہیں۔