سوچ کے بغیر
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
بہار کے ایک شہر میں ہندو۔ مسلم فساد ہوا۔ اس فساد میں مسلمانوں کا بہت زیادہ نقصان ہوا۔ کے مسلمانوں کی معاشیات تباہ ہو کر رہ گئی۔ اس شہر کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ آپ کے شہر میں یہ فساد کیوں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوؤں کا ایک جلوس مسلم محلہ میں پہنچ کر اُس نے مخالفانہ نعرہ لگانا شروع کیا۔ اس پر مسلمان بھڑک اُٹھے۔ نوجوانوں نے ’’ایک اسٹیپ لیا‘‘۔ اس کے بعد دنگا شروع ہو گیا۔ وہ لوگ مسلم گھروں اور مسلم دکانوں کو جلانے اور لوٹنے لگے۔
میں نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں کہ مسلم نوجوانوں نے ایک اسٹیپ لیا، یہ اسٹیپ کیا تھا۔ کے بعد انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں نے جلوس کے اوپر کچھ دستی بم پھینکے، اس کے بعد وہ لوگ مشتعل ہو کر تخریبی کارروائیاں کرنے لگے۔ پھر میں نے پوچھا کہ وہ نعرہ کیا تھا جس پر آپ لوگوں نے اسٹیپ انہوں نے بتایا کہ نعرہ یہ تھا : جے ماں کالی، مسلمان محلہ کرو خالی۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اشتعال انگیز منصوبہ کا جواب دینا تو ضروری میں نے کہا کہ اس کو اشتعال انگیز منصوبہ نہ کہیے بلکہ ایک ایسا خیالی منصوبہ کہیے جو کبھی وجود میں آنے والا ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ نعرہ اور فساد کے بعد کیا آپ کا محلہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا۔ انہوں نے جوش کے ساتھ کہا کہ ہرگز نہیں، مسلمان آج بھی پہلے کی طرح اپنے محلہ میں موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا نعرہ ہوا میں تحلیل ہو گیا، وہ زمین پر واقعہ نہ بن سکا۔ میں نے اُن کی بات سن کر کہا کہ میرے بھائی، جو نعرہ اتنا کمزور تھا کہ خونیں فساد کرانے کے بعد بھی وہ محلہ کو مسلمانوں سے خالی نہ کر سکا ایسے کمزور نعرہ پر آپ کو بھڑکنے کی کیا ضرورت۔ ایسے نعرہ کا سادہ جواب قدیم مثل کے مطابق، یہ تھا : کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے صحیح سوچ کا فقدان۔ صحیح سوچ لوگوں کو مکمل طور پر خونیں فساد سے بچا سکتی تھی، مگر غلط سوچ
نے اُن کو ذلت اور نقصان کی دوطرفہ تباہی میں مبتلا کر دیا۔ غلط سوچ آدمی کو بم کے اوپر بم مارنا سکھاتی ہے، اور صحیح سوچ اُس کو وہ تدبیر بتاتی ہے جس کے ذریعہ وہ بم کو ڈیفیوز (defuse) کر کے اُس کو غیر مؤثر بنا دے۔