سیکنڈری پوزیشن
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد کی نماز با جماعت میں ہر روز ایک سبق دیا جاتا ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ دس ہزار نمازیوں میں سے نو ہزار نوسوے نمازی جب مقتدی بن کر اپنے لیے ثانوی حیثیت (secondary position) کو قبول کرتے ہیں، اُس وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص کی امامت میں نماز با جماعت ادا کی جاسکے۔ یہی فارمولا مسجد کے باہر کی زندگی کے لیے بھی مطلوب ہے۔ جس سماج یا گروہ کے اندر یہ مزاج نہ ہو وہاں نہ اتحاد قائم ہوگا اور نہ کوئی ترقی ممکن ہو سکے گی۔ زندگی میں ثانوی حیثیت کو قبول کرنا کسی بھی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ملی یا اجتماعی زندگی کے لیے یہ مزاج انتہائی طور پر ضروری ہے۔ مگر یہ مزاج اپنے آپ پیدا نہیں اُس کے لیے شعوری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی قوم میں سب سے زیادہ اہمیت ایسی تحریک کی ہے جو لوگوں میں اس قسم کا مزاج پیدا کرے۔ شعور کی بیداری اصل کام کی حیثیت رکھتی ہے۔ بھی تعمیری تحریک کا نقطۂ آغاز شعور کی تربیت ہے، نہ کہ پرجوش مظاہرہ یا عملی اقدام۔ موجودہ زمانہ میں لوگوں کی سوچ میں جو بگاڑ آیا ہے اُس کا غالباً سب سے بڑا سبب وہ جدید ظاہر ہ ہے جس کو میڈیا کلچر کہا جاسکتا ہے۔ جدید میڈیا، خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا، سب کا طریقہ یک طرفہ رپورٹنگ (one sided reporting) کا ہے۔ چونکہ عام لوگ خبروں کو میڈیا کے ذریعہ لیتے ہیں اس لیے لوگوں کی رائے ہر معاملہ میں ناقص ہوگئی ہے۔ وہ یک طرفہ سوچ کے تحت رائے قائم کرتے ہیں۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ کا اُصول یہ ہے کہ بُری خبروں کو لو اور اچھی خبروں کو چھوڑ دو۔ حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ اور انڈسٹری ہونے کے اعتبار سے اُس کے لیے یہی مفید طریقہ ہے کہ وہ
کسی ملک یا سماج کی بُری خبروں کو نمایاں کرے۔ اور اچھی خبروں کو قابل تذکرہ نہ سمجھے۔ میڈیا کی اس روش نے عالمی سطح پر انسانی سوچ کو منفی بنا دیا ہے۔
اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ میں اکثر بی بی سی لندن کی نشریات کو ایک دن میں بی بی سی لندن کا ہندی پروگرام سن رہا تھا۔ اپنے طریقہ کے مطابق ، انہوں نے آخر میں کچھ خطوط پڑھ کر سنائے۔ ایک خط ماریشش میں مقیم ایک ہندو کا تھا۔ اُس نے اپنے خط میں یہ شکایت کی تھی کہ آپ ہندی بولنے والے علاقہ کی خبریں نشر کرتے ہیں، ماریشش میں بھی بہت سے لوگ ہندی بولتے ہیں مگر آپ کبھی ماریشش کی کوئی خبر نہیں دیتے۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے ہنستے ہوئے اس خط کا جواب دیا۔ اُس نے کہا کہ میڈیا تو بُری خبروں کی رپورٹنگ کا نام ہے۔ آپ کے ملک میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں، اور اچھی خبر میڈیا کے نزدیک کوئی خبر نہیں۔