Good news is no news.
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ فطرت کے نظام کے خلاف ہے کہ دنیا میں صرف برائی ہی برائی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ خود نظام فطرت کے تحت دنیا میں اگر ایک فیصد برائی ہوتی ہے تو عین اُسی وقت ننانوے فیصد اچھائی موجود رہتی ہے، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ مگر میڈیا کبھی لوگوں کو اس واقعہ کی خبر نہیں دیتا کہ ہم جن برائیوں کی رپورٹ کر رہے ہیں وہ پورے سماج کا ایک فیصد حصہ ہے، نہ کہ کل حصہ۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے برصغیر ہند کے اخبارات انگریزوں کے بارے میں صرف اُن کے ”ظلم“ کی خبریں دیتے تھے، انگریزی نظام کے مثبت پہلو اخباروں میں جگہ نہیں پاتے تھے۔ ہندوستانیوں کو انگریزوں سے نفرت ہوگئی۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے مسلم لیگ سے متاثر اخبارات یہاں کے ہندوؤں کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے تھے اور اُن کے بارے میں صرف منفی باتیں چھاپتے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں کے ہندوؤں کے بارے میں بدظن اسی طرح آج کل تمام دنیا کا مسلم میڈیا امریکہ کے مثبت پہلوؤں کا کوئی تذکرہ نہیں کرتا، وہ اُس کے بارے میں صرف بُری باتوں کو مسلمانوں تک پہنچاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کے
مسلمان امریکہ سے متنفر ہو گئے ہیں اور یہ سمجھنے لگے ہیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ میڈیا کی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ میڈیا کے اپنے تجارتی مصالح کی بنا پر یہ ممکن نہیں کہ وہ یک طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ ختم کرے اور دو طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ اپنے یہاں رائج کرے ۔ کا عملی حل میڈیا کی شکایت کرنا نہیں ہے بلکہ خود اپنے ذہن کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کے اندر شعوری بیداری پیدا کریں۔ ہم یہ کوشش کریں کہ لوگوں کے اندر تفکیر و تدبّر کی صحیح صلاحیت پیدا ہوتا کہ وہ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ سے متاثر نہ ہوں، بلکہ خود تجزیہ کر کے معاملات کے بارے میں درست رائے قائم کریں۔
اس تجزیہ کا طریقہ یہ ہے کہ مثلاً جب آپ مسلم اخباروں میں یا مسلم رہنماؤں کی تقریروں میں یہ سنیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن ہے تو آپ اُس کا تجزیہ کریں۔ آپ یہ سوچیں کہ امریکہ جب ایک دشمن ملک ہے تو چھ ملین سے زیادہ مسلمان وہاں جاکر کیسے آرام کے ساتھ رہ رہے ہیں، حتّیٰ کہ اخبار کے ایڈیٹر یا اسٹیج کے مقرر کے خود اپنے رشتہ دار بھی۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اسلام دشمن ہے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں اسلامی ادارے کیوں قائم ہیں اور آزادی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ایسا ہے کہ امریکہ میں ایسے شاندار اجتماعات ہوتے ہیں جو مُسلم ملکوں میں بھی نہیں ہوتے۔ اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اپنی اسلام دشمنی کی بنا پر فلسطین میں یہودیوں کی مدد کرتا ہے تو وہی امریکہ اسلامی ملک پاکستان کی مسلسل طور پر کیوں مدد کر رہا ہے، وغیرہ۔
جب آپ مسلم اخباروں اور مسلم رہنماؤں کی باتوں کا اس طرح تجزیہ کریں گے تو آپ یقینی طور پر جان لیں گے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میڈیا کی فراہم کردہ ایک فیصد خبروں پر انحصار نہ کیجیے بلکہ اُس کے ساتھ بقیہ ننانوے فیصد خبروں کو بھی شامل کر کے دیکھیے اور پھر آپ کبھی رائے قائم کرنے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہوں گے۔