تنقید کوئی برائی نہیں
Al-Risala, July 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ کام کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اُس میں تنقید کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ غیر تنقیدی انداز عوام کی بھیڑ جمع کرنے کے لیے تو یقیناً مفید ہے مگر وہ کسی گہرے اصلاحی کام کے لیے ہرگز مفید نہیں۔ تنقید کوئی برائی نہیں ، تنقید ایک اعلیٰ نوعیت کا ذہنی عمل ہے۔ تنقید انسان کی فکری ترقی کے لیے جہاں تنقید نہیں وہاں فکری ترقی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید کو امر ممنوع (taboo) قرار دینے کا نتیجہ سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کے درمیان بے تنقید حالت قائم ہو جائے۔ بلکہ عملاً جو کچھ ہوگا وہ یہ کہ لوگ ذہنی جمود میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اُن کے درمیان سوچنے کا عمل (thinking process) رک جائے گا۔ اور جس انسانی سماج میں سوچنے کا عمل رُک جائے وہ دھیرے دھیرے ایک ایسا سماج بن جائے گا جہاں لوگ جسمانی اعتبار سے بظاہر انسان دکھائی دیں گے ، مگر اپنی عقل و فہم کے لحاظ سے وہ حیوانی سطح پر ہوں گے۔ وہ اعلیٰ فکری ترقی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے ، جب کہ اس دنیا میں اعلیٰ فکری ترقی ہی کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ بچوں کے لیے زیادہ بہتر تحفہ جو لوگ زیادہ بڑی ترقی حاصل نہ کر سکیں وہ اکثر اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ کیا کریں کہ اُن کے بچے اُس معاشی کمی میں مبتلا نہ ہوں جس میں وہ خود مبتلا ہوئے۔ اس احساس کے تحت وہ ایک ایسی چھلانگ لگا دیتے ہیں جو نتیجہ کے اعتبار سے اُن کے لیے برعکس ثابت ہوتی ہے۔
یہ بچوں کے بارے میں سوچنے کا صحیح طریقہ نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح فارمولا یہ ہے کہ اپنے لیے قناعت، اور بچوں کے لیے ترقی۔ یعنی حالات کے اعتبار سے آپ جس معاشی کامیابی تک پہنچے ہیں اُس پر قناعت کرتے ہوئے زندگی گزاریے۔ اس معاملہ کو بچوں کے اوپر چھوڑ دیجیے کہ وہ وسیع دنیا میں ہاتھ پاؤں ماریں اور اپنی محنت کے ذریعہ زیادہ ترقی حاصل کریں۔ آپ بچوں کے لیے صرف ابتدائی زینہ بننے پر قانع ہو جائیے۔ اگلے زینوں پر چڑھنا اور اوپر کی منزل تک پہنچنا یہ بچوں کے لیے چھوڑ دیجیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی باپ کی طرف سے اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر عطیہ یہ نہیں ہے کہ وہ اُن کے لیے دولت کا ڈھیر چھوڑے۔ اس کے برعکس زیادہ بہتر عطیہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو ایسے حالات دے سکے جو اُنہیں عمل پر اُبھارنے والے ہوں۔ بچوں کے اندر محنت کا جذبہ ہونا سب سے بڑا سرمایہ ہے، نہ کہ باپ کی طرف سے ملی ہوئی دولت۔ محنت کے بغیر جو دولت ملے وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔ کی دولت وہ چیز ہے جس کو ایزی منی (easy money) کہا جاتا ہے۔ اور یہ ایک ثابت شدہ واقعہ ہے کہ ایزی منی اُس کے پانے والے کو فائدہ کم پہنچاتی ہے اور نقصان زیادہ۔