اتحاد کا راز
Al-Risala, July 2002, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی گروہ کے درمیان اتحاد کیسے قائم ہو۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اختلاف کو مٹاؤ تا کہ باہمی اتحاد قائم ہو۔ اس نظریہ کے پیچھے جو سوچ ہے وہ یہ ہے کہ ــــــ جب اختلاف نہ ہوگا تو اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ اس سوچ کے مطابق، اختلاف ہے تو اتحاد نہیں، اور جہاں اتحاد ہے وہاں یہ سوچ سراسر بے بنیاد ہے۔ اس طرح کے فارمولے کے ذریعہ دنیا میں کبھی اتحاد قائم ہونے والا نہیں۔ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ وہ ہر انسان کی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ایسی حالت میں اختلاف کو مٹانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس مقصد کے لیے صحیح اور قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کہ لوگوں کے اختلافات کو اس طرح بلڈ وز کر دیا جائے کہ اُن کا وجود ہی باقی نہ رہے۔
موجودہ دنیا میں اصلاح کا حقیقی فارمولا صرف وہ ہے جو انسانی فطرت کے مطابق ہو۔ فارمولا فطرت سے مطابقت نہ رکھتا ہو وہ قابل عمل بھی نہیں۔ اور جو چیز قابل عمل نہیں وہ مفید بھی نہیں۔ عُسر کے ساتھ یُسر موجودہ دنیا کا نظام اُمید کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں ہر رات کے بعد صبح آتی ہے۔ ہر عسر کے ساتھ ہمیشہ یُسر موجود رہتا ہے۔ یہاں ہر مسئلہ کے ساتھ مواقع کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ یہ کہ ہر پرابلم کے ساتھ سلوشن کا موجود ہونا اس دنیا کا ایک اٹل اصول ہے جس میں کبھی فرق نہیں آتا۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر نہ آئے تو سمجھنا چاہئے کہ ہم جو فارمولا استعمال کر رہے ہیں وہ صورت حال کے مطابق نہیں۔ ایسی حالت میں نئے فارمولے کو استعمال کرنا چاہئے۔ سنت رسول ہے۔ جہاں جنگ کا فارمولا کارآمد نہ ہو وہاں امن کا فارمولا استعمال کیجئے۔ براہ راست مقابلہ موثر نہ ہو وہاں بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے، وغیرہ۔ کامیاب ازدواجی زندگی شوہر اور بیوی کے درمیان بہتر تعلق کی تعلیم دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وعاشروهن بالمعروف فإن كرهتموهن فعسى أن تكرهوا شيئاً و يجعل الله فيه خيراً كثيراً (النساء ١٩) یعنی ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ یہ بات اپنی حقیقت کے اعتبار سے شوہر اور بیوی دونوں ہی کے لیے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن معاشرت یا بہتر ازدواجی زندگی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ شوہر کو بالکل اپنی پسند کی بیوی مل جائے یا بیوی کو بالکل اپنی پسند کے مطابق شوہر مل جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی کا راز پسند کے خلاف زوج(spouse) کے ساتھ موافقت(adjustment) کرنا ہے، ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کر لینا ہے۔ مشہور سنگر محمد رفیع کا ایک گانا اتنا مقبول ہوا کہ وہ ہر ماں باپ کے دل کی دھڑکن بن
خود رفیع صاحب نے جب اس کو گایا تو وہ شدت تاثر سے رو پڑے۔ اس گانے میں باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ اشعار کہتا ہے، جس میں سے ایک شعر یہ ہے: بابل کی دعائیں لیتی جا جا تجھ کو سکھی سنسار ملے میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں اتنا پیار ملے یہ بات فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی لڑکے یا لڑکی کو اس طرح سکھ اور پیار نہیں مل سکتا۔ ایسی حالت میں مذکورہ قسم کے سکھ اور پیار کو زوجین کے لیے کامیاب زندگی کا معیار بتانا زوجین کے ساتھ نا انصافی ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجہ میں دونوں کے اندر غیر واقعی ذہن بنتا ہے، اور غیر واقعی ذہن کے ساتھ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر ممکن نہیں۔