جودھ پور کا سفر
Al-Risala, August 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
جودھ پور (راجستھان) میں پانی کے مسئلہ پر ۱۰۔ ۱۱ مئی ۲۰۰۲ء کو ایک سمینل ہوا۔ عنوان تھا سر و دھرم جل سمینلن۔ اس سمینلن کا اہتمام ترُن بھارت سنگھ اور جل بھاگیرتھی فاؤنڈیشن دونوں نے مل کر کیا تھا۔ جودھ پور کے مہاراجہ گج سنگھ نے اس سمینلن کا افتتاح کیا اور میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔
مجھے اس سمینلن میں شرکت کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اُس وقت میں سفر کرنے کے قابل نہ میں نے کہا کہ میں صرف اس صورت میں آ سکتا ہوں جب کہ آپ کا کوئی شخص مجھ کو میرے گھر سے پک اپ کرے اور واپسی میں مجھ کو میرے گھر پر ڈراپ کرے۔ انہوں نے فوراً یہ صورت منظور کر لی اور مسٹر بابو لال شرما (گاندھی پیس فاؤنڈیشن) کے پاس دو ریٹرن ٹکٹ بھیج دیے تا کہ وہ مجھ کو میرے گھر سے لے جائیں اور واپسی میں دوبارہ مجھے میرے گھر تک پہنچا دیں۔
سفر ملکی ہو یا غیر ملکی، وہ ہمیشہ میرے لیے غیر مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں ہر سفر میں بادل ناخواستہ جاتا ہوں اور جلد سے جلد واپس آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ سفر کے غیر معمولی فائدے ہیں_ نئے مقامات کو دیکھنا، نئے لوگوں سے ملنا، نئے قسم کے واقعات کا پیش آنا، نئی نئی معلومات کا حصول، غرض سفر اپنے اندر بہت سے افادی پہلو رکھتا ہے۔ کتابی مطالعہ آدمی کو بہت کچھ دیتا ہے مگر سفروں کے ذریعہ آدمی کو جو تجربات حاصل ہوتے ہیں وہ لائبریری میں بیٹھ کر کتابوں کے مطالعہ کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتے۔
بہت سے سفروں کو چھوڑنے کے باوجود اب تک مجھے تقریباً ڈیڑھ سو بار ہوائی جہاز کا سفر پیش جہاں تک دوسرے سفروں کا تعلق ہے، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اُن کی تعداد بتانا مشکل ہے۔ میں جب بھی سفر کرتا ہوں، ہمیشہ کسی کا نفرنس کے دعوت نامہ کے تحت کرتا ہوں۔ دورہ کی قسم کا سفر میرے ذوق کے مطابق نہیں اور نہ میں نے کبھی دورہ کے انداز کا کوئی سفر کیا۔
۱۰ مئی ۲۰۰۲ء کی صبح کو ساڑھے پانچ بجے مسٹر بابو لال شرما کے ساتھ روانگی ہوئی۔ گاڑی دہلی ایئر پورٹ کے قریب پہنچ چکی تھی کہ پیچھے سے ایک زبردست جھٹکا سنائی دیا۔ گاڑی رک گئی، معلوم ہوا کہ ایک ٹیکسی نے پیچھے سے ٹکر ماردی۔ ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا گیا تو اس نے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا کہ بریک نہیں لگی۔ ڈرائیور کے نزدیک اُس کا یہ عذر کافی تھا۔ حالانکہ اس کے اس جواب کے باوجود یہ سوال بدستور اپنی جگہ قائم تھا کہ جب تمہارا بریک ٹھیک نہیں ہے تو اپنی گاڑی سڑک پر کیوں دوڑاتے ہو۔
لوگ اکثر اپنے ذہن کے مطابق ، ایک جواب دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اُن کا جواب صرف کچھ غیر متعلق الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اصل مسئلہ کا کوئی جواب۔ ہمارا سفر جٹ ایرویز کے ذریعہ ہونے والا تھا۔ دہلی ایئرپورٹ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ فلائٹ ساڑھے تین گھنٹہ لیٹ ہے۔ یہ خبر میرے لیے ایک حادثہ سے کم نہ تھی۔ مگر جلد ہی وقت کا ایک اچھا استعمال مل گیا۔ میں کچھ ہم سفروں کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہوگیا۔ اور پھر یہ وقت آسانی کے ساتھ گزر گیا۔
میں ایئرپورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک صاحب ایک خاتون کے ساتھ وہاں آکر میرے سامنے بیٹھ گئے۔ وہ کشمیری مسلمان تھے۔ خاتون کی گود میں ایک بچہ تھا۔ آنے والا مسافر میرے لیے اجنبی تھا۔ اُس نے السلام علیکم کے بعد کہا: حضرت، آپ کوئی بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ میرے بچے کے لیے دعا کیجئے، اللہ آپ کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا دوسالہ بچہ میرے سامنے کر دیا جو پیدائش کے وقت سے ہی کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا تھا۔ وہ اس کے علاج کے لیے دہلی آئے تھے۔ ڈاکٹر بچہ کے مرض کی تشخیص نہ کر سکے اس لیے اب وہ واپس ہو کر سری نگر جا رہے تھے۔ میں نے بچہ کی صحت کے لیے دعا کی۔ دعا ایک اعتبار سے عبادت ہے اور دوسری اعتبار سے وہ تدبیر ہے۔
پچھلے دنوں میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی۔ اُن کا تعلق ایک یونیورسٹی سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں آج کل ہر جگہ گروپ بندی ہوتی ہے۔ آپ کا کسی ایک گروپ سے وابستہ ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہو تو یہ گروپ آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے مسئلہ کا ایک اور حل بھی ہے۔ وہ یہ کہ آپ گروپ کو ساتھ لینے کے بجائے خدا کو اپنے ساتھ لینے کی کوشش کریں۔ مثلاً آپ کے ڈیپارٹمنٹ کا ایک آدمی آپ کے خلاف ہو گیا اور آپ کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ تو آپ اس معاملہ میں گروپ سے مدد لینے کے بجائے خدا سے وہ یہ کہ ایک طرف آپ خدا سے دعا کریں اور دوسری طرف قرآن (حم السجدہ (۳۴) کے فارمولا کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مخالف کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کا معاملہ کریں اور اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کا مسئلہ معجزاتی طور پر حل ہو گیا ہے۔
ایر پورٹ پر مسٹر راجیند رسنگھ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وہ جے پرکاش نرائن کے بہت معترف تھے انہوں نے ۱۹۷۷ کے جے پی آندولن میں اُن کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ جے پرکاش نرائن ایک غم زدہ (sad) انسان کی حیثیت سے دنیا سے گئے۔ میں نے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جے پرکاش نرائن اپنے آپ کو ایک ناکام انسان سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ وہ ایک کامیاب انسان تھے۔ انہوں نے اپنے نان کانگریس ازم کے نشانہ کو اپنی زندگی میں پورا کیا۔
میں نے کہا کہ جے پرکاش نرائن کے اپنے نعرہ کے مطابق، اُن کا مشن پورن سوراج (ٹوٹل ریولیوشن) تھا۔ اُن کا نشانہ صرف کانگریس کو اقتدار سے ہٹانا نہیں تھا بلکہ اُس کے بعد ملک میں دوسرا زیادہ بہتر راج لانا تھا۔ جے پرکاش نرائن اپنے مشن کے سلبی پہلو میں تو کامیاب ہوئے مگر وہ اپنے مشن کے ایجابی پہلو میں مکمل طور پر نا کام ہو گئے۔ گویا اُن کا پورن سوراج صرف آدھا سوراج بن کر رہ گیا۔ مسٹر راجیند رسنگھ جے پی کے گہرے عقیدت مند تھے، اس لیے وہ یہ ماننے پر راضی نہ ہو سکے کہ جے پرکاش نرائن کا پورن سوراج صرف ابتدائی آدھے حصہ کے اعتبار سے کامیاب تھا اور بقیہ آدھے حصہ میں وہ پوری طرح ناکام رہا۔ اس طرح کی باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ ایر پورٹ کے
اناؤنسر نے اعلان کیا کہ جودھ پور کی فلائٹ روانگی کے لیے تیار ہے۔ چنانچہ ہم لوگ چل کر جہاز کے اندر داخل ہو گئے۔ جیٹ ایرویز ایک پرائیویٹ ایرویز ہے۔ ہندوستان میں پہلے ہوا بازی صرف سرکاری زمرہ سے تعلق رکھتی تھی۔ لبرلائزیشن کی پالیسی اختیار کرنے کے بعد بہت سی پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں بنائی گئیں، مگر اُن میں سے اکثر ناکام رہیں۔ اب صرف چند کمپنیاں زندہ ہیں اور کامیابی کے ساتھ چل رہی ہیں۔ دہلی سے جودھ پور کے لیے روانگی ہوئی۔ پرواز کے دوران فلائٹ میگزین دیکھا۔ اس میں ایک معلوماتی مضمون شامل تھا جس کا عنوان یہ تھا: Foot prints in the snow میجر جنرل شرما نے علمِ گلیشیر (glaciology) میں اعلیٰ ڈگری سوئزر لینڈ سے حاصل کی ہے۔ وہ ہندوستانیوں کی اس ٹیم کے لیڈر تھے جو برفانی علاقہ کے مطالعہ کے لیے انٹارکٹکا گئی تھی۔ اُنہوں نے واپسی کے بعد اپنے تجربات کی بنیاد پر ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے: Breaking the Ice in Antarctica یہ مضمون اُن کی اس کتاب کا تعارف تھا۔ اس میں انٹارکٹکا کے بارے میں بہت سی باتیں بتائی گئی تھیں۔ مثلاً وہاں کا درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے ۸۹ درجہ نیچے ہوتا ہے۔ وہاں جو گھر بنائے جاتے ہیں وہ مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ برفانی علاقہ کی چڑیاپنگوئن (Penguin) اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر انسانوں کے قریب آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ جنرل شرما مہم پسند آدمی ہیں۔ وہ اکثر اس طرح کی مہموں میں جاتے رہتے ہیں۔ اس مضمون کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا گیا تھا: For some men life is all about taking risks. کہا جاتا ہے کہ رسک کے بغیر کامیابی نہیں (No risk, no gain)۔ یہ اصول ہر آدمی کے لیے صحیح ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی آدمی جتنا بڑا رسک لینے کی ہمت کرے گا اتنی ہی بڑی
کامیابی اُس کو حاصل ہوگی۔ تاہم رسک کو منصوبہ بند رسک (calculated risk) ہونا چاہیے، نہ کہ بے سوچی سمجھی چھلانگ۔
پرواز کے دوران جہاز معمول سے کچھ زیادہ ہلتا رہا۔ میں نے سوچا کہ ہوائی جہاز کی ایجاد نے پہلی بار انسان کو ایک خلائی حقیقت کا عملی تجربہ کرایا ہے۔ زمین وسیع خلاء میں ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے۔ یہ سفر رُکے بغیر مسلسل طور پر جاری ہے۔ مگر وسیع خلاء میں یہ تیز رفتار سفر اتنا زیادہ پرسکون ہے کہ انسان کو کبھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک تیز رفتار سواری کے اوپر حالت سفر میں ہوائی جہاز کا سفر ایک انسان کو اس عظیم قدرت خداوندی کا عملی تجربہ کرا تا ہے کہ زمین کو کنٹرول کرنے والی ہستی کتنی عظیم طاقت کی مالک ہے۔ زمین بھی گویا ایک بہت بڑا ہوائی جہاز ہے۔ اگر ہوائی جہاز کی طرح ہلتی رہتی یا اس کے ساتھ وہ معاملہ پیش آتا جس کو آپ ڈرافٹ، ڈاؤن ڈرافٹ کہا جاتا ہے تو اس کے اوپر زندگی گزارنا اتنا زیادہ مشکل ہو جاتا جس کا تصور ہی دہشت زدہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
اسی طرح ہوائی جہاز اپنے سفر کے دوران نہایت تیز آواز نکالتا ہے۔ اگر اسی قسم کی آواز زمین میں ہوتی تو زمین پر اتنا زیادہ شور ہوتا کہ زمین پر کوئی بامعنی سرگرمی ہی ناممکن ہو جاتی۔ ہوائی جہاز کے وزن کا تقریباً تہائی حصہ پٹرول ہوتا ہے۔ اگر زمین کے ساتھ پٹرول جیسا کوئی ایندھن رکھنا ضروری ہوتا تو اِس کی وجہ سے اتنا بڑا مسئلہ پیدا ہوتا کہ زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ اس سفر میں مسٹر بابو لال شرما ایم اے برابر میرے ساتھ رہے۔ وہ ایک برہمن ہیں۔ میں نے دیکھا کہ وہ اچھی اُردو بولتے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں اُن کے اندر نرم گوشہ (soft corner) ہے۔ مثلاً گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات، (جو ۲۷۷ فروری ۲۰۰۲ کو شروع ہوئے اور مئی ۲۰۰۲ کے وسط تک جاری رہے) کے معاملہ میں سب سے زیادہ قصوروار ہندوؤں کو ٹھہراتے تھے، وغیرہ۔
مزید بات چیت سے اندازہ ہوا کہ مسلمانوں کے بارے میں اُن کے اس دوستانہ مزاج کا
سبب یہ ہے کہ وہ پرانی دہلی میں مسلم علاقہ میں پیدا ہوئے ۔ اُن کی تعلیم بیگ صاحب کے اسکول (رو دگراں) اور دہلی کالج (اجمیری گیٹ) میں ہوئی ۔ وہ میر مشتاق اور نور الدین بیرسٹر اور دوسرے مسلمانوں سے کافی قریب رہے۔
میرا تجربہ ہے کہ انڈیا کے ہندوؤں میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ ہندو جن کو مسلمانوں کے درمیان رہنے کا موقع ملا، جنہوں نے مسلمانوں کو براہ راست تعلق کے ذریعہ دیکھا اور جانا۔ ہندو وہ ہیں جو مسلمانوں کو صرف اخبار یا میڈیا کی خبروں اور رپورٹوں کے ذریعہ جانتے ہیں۔ کے ہندو عام طور پر مسلمانوں کے لیے دوستانہ اور ہمدردانہ جذبات رکھتے ہیں۔ البتہ دوسری قسم کے ہندو مسلمانوں کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، وہ مسلمانوں کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہیں۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس تجربہ کی روشنی میں غور کیجئے تو ۱۹۴۷ سے پہلے جن مسلم لیڈروں نے ہندو۔ مسلم مسئلہ کا حل دو قومی نظریہ اور علیحدگی میں تلاش کیا، اُس کا زیادہ بہتر حل یک قومی نظریہ اور اتحاد میں تھا۔ یعنی اُن کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں کو یہ مشورہ دیں کہ تم لوگ زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہو۔ تمہاری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہندو تم کو صرف میڈیا کے ذریعہ نہ جانیں بلکہ براہ راست عملی تعلقات کے ذریعہ جانیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں سارا انڈیا مسلمانوں کے لیے گویا عظیم تر پاکستان ہوتا۔ اقبال جغرافیائی تقسیم اور پاکستان کے حامی تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال خود اپنے ایک شعر کے مطابق، ایک نادان انسان قرار پاتے ہیں:
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے قومیت کے مسئلہ پر ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آزادی سے پہلے برصغیر ہند میں اس مسئلہ پر دو نقطہ نظر تھے۔ ایک اقبال کا۔ اُن کا کہنا تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے دوسرا نظریہ مولانا حسین احمد مدنی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی یعنی عقیدہ کا تعلق مذہب سے ہے اور قومیت کا تعلق وطن سے۔ میرے نزدیک مولانا حسین احمد مدنی
کا نظریہ درست تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے اعتبار سے ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مذہب ہے۔ مگر جہاں تک قومیت کا سوال ہے، اس کا تعلق وطن (homeland) سے ہے، یعنی جس مسلم گروہ کا جو وطن ہے وہی اُس کی قومیت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک پر اگر کوئی مسلم ملک حملہ کرے تو یہ حملہ مسلمانوں کے مذہب پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اُن کے مشترک وطن پر حملہ قرار پائے گا۔ وطن کے خلاف جارحیت کے معاملہ میں مسلمان بھی اُسی طرح دفاع کریں گے جس طرح اُن کے غیر مسلم برادران وطن کریں گے، خواہ یہ حملہ بظاہر کسی مسلم ملک نے کیا ہو یا غیر مسلم ملک نے۔
ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز ساڑھے گیارہ بجے جو دھ پور ایئر پورٹ پر پہنچا۔ حسب معمول میرے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا بیگ تھا۔ میں نے کوئی سامان بک نہیں کرایا تھا۔ لیے کنویر بیلٹ (conveyer belt) پر کھڑے ہونے کی تاخیر کے بغیر میں باہر آ گیا۔ میزبان موجود تھے۔ اُن کے ساتھ قیام گاہ کی طرف روانگی ہوئی۔
راستہ میں جودھ پور کے مختلف حصوں کو دیکھنے کا موقع ملا۔ جودھ پور کا شہر سنگی عمارتوں کے ایک جنگل کی صورت میں نظر آیا۔ البتہ درخت اور ہریا لی عام شہروں کی بہ نسبت کم تھی۔ دہلی کی طرح چوراہوں پر فقیروں کا گروپ بھی دکھائی نہیں دیا۔ سڑک نہ زیادہ اچھی تھی، نہ زیادہ خراب۔ ظاہری صورت بتا رہی تھی کہ وہ ایک ایسا شہر ہے جو پانی کی کمی کے مسئلہ سے دوچار ہے۔ چوک پر ایک فوارہ پانی کا بڑا گلدستہ بناتا ہوا دکھائی دیا۔
آخر کار ہماری گاڑی ایک گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ یہ سی اول فارم ہاؤس (Seoul Farm House) تھا جہاں میرے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ فارم ہاؤس جودھ پور شہر سے تقریباً بیس کلو میٹر دور واقع ہم لوگ اُس کے اندر داخل ہوئے تو گویا صحرا میں نخلستان کا منظر ہمارے سامنے تھا۔ مکانات کے ساتھ درختوں کی قطاریں، سر سبز لان، پھولوں کی کیاریاں، چڑیوں کی آوازیں، چاروں طرف دور تک کھلی فضا، یہ وہ ماحول تھا جس کے اندر سی اول فارم ہاؤس واقع تھا۔
فارم ہاؤس کی جس بلڈنگ میں مجھ کو ٹھہرایا گیا، اس میں جدید طرز کے بنے ہوئے چار وسیع دو کمرے نیچے اور دو کمرے اوپر۔ منتظمین نے مجھے بوڑھا سمجھ کر نیچے کا کمرہ دینے کا فیصلہ نیچے کے کمرہ میں پہلے سے ایک صاحب موجود تھے، اُس کو خالی کیا جانے لگا۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے فوراً منع کر دیا۔
میں نے کہا کہ اوپر کا کمرہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے۔ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ اوپر ٹھہرنے کی صورت میں مجھ کو سیڑھیوں پر چڑھنا اترنا ہوگا۔ مگر سیڑھیاں چڑھنا تو میری پسندیدہ ہابی (hobby) یہ میرے لیے ایک بہترین ورزش ہے۔
ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے میری عمر تقریباً ۸۲ سال ہے۔ اس عمر میں عام طور پر لوگ آرام کو پسند کرتے ہیں۔ مگر میں خدا کے فضل سے مشقت کو پسند کرتا ہوں ۔ سیڑھیاں چڑھنا، اے سی اور کولر کے بغیر کمرہ میں رہنا، سادہ کھانا، روزانہ دیر تک ٹہلنا، اپنا کام خود کرنا، رات کو غیر آرام دہ بستر پر سونا، بے مسئلہ انسان بن کر رہنا، وغیرہ۔
جودھ پور موجودہ راجستھان کا ایک ضلع ہے۔ آزادی سے پہلے وہ راجپوتانہ کی ایک اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جودھ پور کی بنیاد ۱۴۵۹ء میں ڈالی گئی۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جو اس علاقہ کے ایک راجپوت سردار تھے۔ موجودہ شہر جودھ پور قدیم ریاست جودھ پور کا مرکزی مقام تھا۔ صدی کی ایک بلند دیوار اور دوسری تاریخی عمارتیں جودھ پور کے قدیم دور کی یاد دلاتی ہیں۔ قدیم قلعہ بھی ہے جس کے اندر میوزیم واقع ہے۔ شہر کے شمال میں اب بھی کچھ کھنڈرات ہیں جو چوتھی صدی عیسوی کے مانڈو کی یادگار ہیں۔ یہ کھنڈر قدیم مارواڑ سلطنت کے بچے ہوئے آثار ہیں۔ جودھ پور موجودہ راجستھان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ جودھ پور کا واحد دریا لونی ہے۔ اُس سے جودھ پور کے جنوبی حصہ کی آبپاشی کی جاتی ہے۔ موجودہ مہاراجہ کے دادا نے گنگا سے ایک نہر نکال کر جودھ پور تک پہنچایا تھا۔ اس سے جودھ پور کے لوگوں کو پانی کے معاملہ میں کافی راحت ملی۔ ۱۰ مئی کی شام کو فارم ہاؤس کے ایک بڑے کمرہ میں ابتدائی میٹنگ ہوئی۔ اس میں موجودہ
سیمینار کا تعارف کرایا گیا۔ بتایا گیا کہ راجستھان میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ایک جل برادری قائم ہوئی ہے جو بڑے پیمانہ پر پانی کے انتظامات کر رہی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اُس نے راجستھان میں پانچ ہزار سے زیادہ تالاب کھدائی کے ذریعہ بنائے ہیں۔ اس کام کے لیڈر مسٹر راجندر سنگھ ہیں۔ اُن کو اس کام پر ٢٠٠٢ء میں بین الاقوامی مگسی سے ایوارڈ(Magsaysay Award) دیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ موجودہ سیمینار خاص طور پر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلا کر پانی کے بارے میں ہر مذہب کی رائے معلوم کی جائے۔ مقرر نے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا بے حد اہم حصہ ہے۔ یقیناً ہر مذہب میں پانی کے بارے میں اعلیٰ ہدایات دی گئی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کے حوالہ سے پانی کی خصوصی اہمیت کے بارے میں اپنا بیان دیں۔ سے پانی کے بارے میں ہماری تحریک کو خصوصی تقویت ملے گی۔
١٩٧٤ سے پہلے جودھ پور کے قریب بھاول پور ریاست تھی۔ بھاول پور کا ایک واقعہ یہاں قابل ذکر ہے۔ اس واقعہ میں سبق کے کئی پہلو ہیں۔ اس واقعہ کو مختصر طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ انگریزی دور کا واقعہ ہے۔ علاقہ بھاول پور کے ایک مسلمان نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک شخص کے ساتھ کیا۔ وہ شخص جلدہی بعد قادیانی ہو گیا۔ باپ نے لڑکی کی رخصتی سے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا ہے، اس لیے مسلمان عورت اس کی زوجہ نہیں ہو سکتی۔ مذکورہ قادیانی نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے بھاول پور کی عدالت سے رجوع کیا۔ سات سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔ مسلمان لڑکی کی طرف سے ہندوستان کے بہت سے علماء عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے۔ ان میں سے ایک مولانا انور شاہ کشمیری (١٨٧٥۔ ١٩٣٢) بھی تھے۔ مولانا کشمیری نے پانچ دن تک اپنا بیان بند کرایا اور قادیانی وکیلوں کی جرح کے جوابات دئے۔ ٢٥ اگست ١٩٣٢ کو جسٹس محمد اکبر خاں نے مقدمہ کا فیصلہ دیا۔ انہوں نے نکاح کو مرتد قرار دیتے ہوئے مقدمہ کو خارج کر دیا۔ مولانا انوری صاحب مقدمہ بھاول پور کے موقع پر موجود تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مولانا کشمیری نے قادیانیوں کے کفر پر تقریر کرتے ہوئے ایک بات یہ کہی کہ’’ جو چیز دین میں تواتر سے ثابت ہو، اس
کا منکر کافر ہے۔ اس پر قادیانیوں کے گواہ نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: ”آپ کو چاہیے کہ اس اصول کے مطابق ، امام رازی پر بھی کفر کا فتویٰ عائد کریں کیوں کہ فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت میں علامہ بحر العلوم نے لکھا ہے کہ امام رازی نے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے۔ مولانا انوری صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس وقت عدالت میں بہت سے علماء موجود تھے۔ سب کو پریشانی ہوئی۔ فواتح الرحموت اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھی اس لیے ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کس طرح دیا جائے۔ اس حیرانی کے عالم میں مولانا کشمیری اٹھے اور با آواز بلند کہا: جج صاحب لکھئے: میں نے ۳۲ سال ہوئے یہ کتاب دیکھی تھی۔ اس وقت ہمارے پاس یہ کتاب نہیں امام رازی نے دراصل یہ لکھا ہے کہ حدیث لا تجتمع امتی علی الضلالۃ تواتر معنوی کے رتبہ کو نہیں پہنچتی۔ لہذا انہوں نے اس حدیث کے لیے تواتر معنوی کا انکار کیا ہے، نہ کہ خود تواتر معنوی کے حجت ہونے کا۔ ان صاحب نے حوالہ پیش کرنے میں دھوکہ سے کام لیا ہے۔ ان سے کہیے کہ وہ اصل عبارت یہاں پیش کریں۔
اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے غلط حوالہ دینا بلا شبہہ ایک اخلاقی جرم ہے اور اسی کے ساتھ آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو چپ رہے یا اپنی غلطی کا سیدھی طرح اعتراف کرلے۔ جودھ پور کی کانفرنس میں میرے سوا کچھ اور مسلمان بھی آئے تھے۔ اُن لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب جو ریٹائر ڈ پروفیسر تھے، انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں صرف ایک افسوس (regret) ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ریسرچ کے لیے امریکا گیا۔ وہاں میرے یہودی پروفیسر نے مجھے مشورہ دیا کہ تم اسلام اور کمیونزم پر ریسرچ کرو۔ مگر میں نے اس موضوع کو نہیں لیا۔ بجائے میں نے جغرافیہ کے ایک موضوع پر ریسرچ کی۔
میں نے کہا کہ آپ کو اس پر افسوس کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اس موضوع کو لیتا تو مجھ کو یہ موقع ملتا کہ میں معاشیات کے بارے میں اسلام کے تصور مساوات اور کمیونزم کے تصور مساوات کا تقابل کروں۔ میں نے پروفیسر صاحب سے کہا کہ میں نے اسلام اور کمیونزم دونوں کو پڑھا
میرے مطالعہ کے مطابق، معاشی مساوات کی تعلیم نہ اسلام میں ہے اور نہ کمیونزم (حسب تشریح کارل مارکس) میں ۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہوگئے ۔
میں نے کہا کہ میں نے کمیونزم کو سمجھنے کے لیے دس ہزار صفحات پڑھے ہیں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ کمیونزم کا مقصد معاشی مساوات کو قائم کرنا نہیں ہے بلکہ مارکسی تشریح کے مطابق، معاشی استحصال (exploitation) کو ختم کرنا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام معاشی مساوات کا مبلغ نہیں۔ کیونکہ معاشی مساوات ایک غیر فطری تصور ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں۔ اسلام کا معاشی نشانہ در اصل دولت کی یک طرفہ گردش کوروکنا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ (الحشر ۷)
ایک اور مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پہلے مجھے نہیں پہچانا تھا۔ بعد کو معلوم ہوا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا رہا ہوں۔ اس کے بہت سے شمارے میرے پاس محفوظ ہیں ۔ اور میں اکثر انہیں دیکھتا رہتا ہوں ۔ اور اُن سے معرفت اور سبق حاصل کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسائل کے ضمن میں جو بات کہتے ہیں وہ بظاہر کڑوی گولی معلوم ہوتی ہے ۔ مگر اپنے انجام کے اعتبار سے وہ ایک میٹھی خوراک ہے :