صبر تلخ است وليكن بر شیریں دارد
Al-Risala, August 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۰ مئی کی شام کو آٹھ بجے جودھ پور کے چو پاسنی اسکول میں افتتاحی اجلاس ہوا۔ یہ ایک تاریخی اسکول ہے جس کو آزادی سے پہلے مہاراجہ جودھ پور نے بڑے ذوق وشوق کے ساتھ بنوایا تھا۔ کے وسیع اور پر شکوہ ہال میں نشست ہوئی ۔ میں ہال کے اندر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک باہر سے شہنائی کی آواز آنے لگی۔ کچھ دیر کے بعد مہاراجہ جودھ پور اپنے آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔ کہ ریاست اگرچہ ختم ہوچکی ہے مگر مہاراجہ کے قدیم آداب ابھی تک باقی ہیں۔
مہاراجہ جودھ پور کی نشست ٹھیک میرے دائیں طرف تھی۔ اُن کی عمر صرف ۵۵ سال ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ اُن کے پاس ایک اگال دان رکھا ہوا ہے ۔ وہ بار بار اس میں اپنا گلا صاف کر
رہے بیس اور ایک ہاتھ میں ٹشو پیپر (tissue paper) ہے جس سے وہ اپنا منھ صاف کرتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ مہاراجہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی جسمانی عوارض سے پاک ہو۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ عام آدمی سستے قسم کا اگال دان استعمال کرے گا اور نواب یا مہاراجہ چاندی اور سونے کا
یہاں مسٹر راجیند رسنگھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلے گورنمنٹ میں پروجیکٹ افسر تھے۔ سروس کرنے کے بعد انہوں نے استعفادے دیا۔ راجستھان میں پانی کی زبردست کمی ہے۔ نے اس کمی کو دور کرنے کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا۔ وہ ہیں سال سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سلسلہ میں انہوں نے راجستھان کے مختلف دیہاتوں میں رضا کارانہ محنت کے ذریعہ ساڑھے پانچ ہزار تالاب کھود کر تیار کرائے ہیں۔ انہوں نے راجستھان کو پانی مہیا کرنے کے لیے عوام کی مدد سے ایک پوری تحریک چلا رکھی ہے۔ یہ پورا کام حکومت کی مدد کے بغیر ہو رہا ہے۔
ہندو اس قسم کے رفاہی کام بہت بڑے پیمانہ پر کر رہے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ اس ملک میں ہندو اور عیسائی وغیرہ بڑے پیمانہ پر سوشل سروس کا کام کرتے مگر مسلمانوں میں سوشل ورک کا رواج نہیں۔ مسلم لیڈروں کو صرف ایک ہی کام معلوم ہے، اور وہ ہے، اپنے فرقہ کے بارے میں شکایتی جلسہ کرنا، اپنے فرقہ کی حق تلفی کے نام پر احتجاجی مظاہرہ کرنا۔ اس کے باوجود مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خیر امت ہیں۔ حالاں کہ حدیث میں آیا ہے کہ خیر الناس من ينفع الناس۔ اس کے مطابق، خیر امت کا کام دوسروں کو نفع پہنچانا ہونا چاہئے، نہ کہ اپنے نقصان کے نام پر آندولن چلانا۔
11 مئی کو میں صبح سویرے اٹھا۔ اوّل وقت پر فجر کی نماز پڑھی۔ یہ نہایت سہانا وقت تھا۔ طرف فطرت کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس میں صرف چڑیوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ اترا تا کہ کھلے میدان میں کچھ دیر چہل قدمی کروں۔ نیچے آیا تو یہاں ایک صاحب ایک چھوٹی میز کے سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ صبح کی چائے کا اہتمام کر رہے تھے۔ انہوں نے آواز دے کر مجھے
بلایا اور چائے کی پیشکش کی۔ میں کچھ دیر کے لیے اُن کے پاس بیٹھ گیا۔
یہ ایک ریٹائرڈ پروفیسر تھے۔ بات چیت کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ اپنی زندگی کے کچھ عجیب بات ہے کہ وہ کوئی خاص تجربہ نہ بتا سکے۔ بس یہ بتایا کہ میں صبح کی چائے کا عادی ہوں اور خصوصی اہتمام کے ساتھ خود اپنے ہاتھ سے چائے بناتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں لوگوں کا ساتھ دینے کے لیے چائے پی لیتا ہوں مگر میں چائے کا عادی نہیں۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، مجھے چائے کا خصوصی ذوق نہیں۔
میں نے کہا کہ میں کسی بھی چیز، بشمول چائے کا عادی نہیں ہوں۔ اس طرح کی عادتیں میرے نزدیک ایک قسم کے ذہنی انتشار (distraction) کا سبب بنتی ہیں۔ میں نے کہا کہ میں اپنے لیے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں وہ یہ کہ میرے ذہن میں سوچ کا عمل (thinking process) کسی روک کے بغیر مسلسل جاری رہے۔ صحت مند فکری عمل کو میں کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتا تاہم میں نے محسوس کیا کہ مذکورہ پروفیسر صاحب کو اس قسم کی سنجیدہ باتوں سے غالباً زیادہ دلچسپی چنانچہ کچھ دیر کے بعد میں وہاں سے اُٹھ گیا اور کھلے مقام پر جا کر ٹہلنے لگا۔ ٹہلنا، خاص طور پر صبح کے وقت ٹہلنا بہت مفید ہے۔ وہ جسمانی صحت کے لیے بھی مفید ہے اور ذہنی صحت کے لیے بھی۔ ڈیکنز (Dickens) نے درست طور پر کہا ہے کہ___ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ چہل قدمی کرو اور خوش رہو، رہو،چہل قدمی کرو اور تندرست رہو: The sum of the whole is this: Walk and be happy. Walk and be healthy. مسٹر بابولال شرمانے بتایا کہ پرانی دہلی میں زیادہ عمر کے ایک ہندو ہیں۔ اُن کا نام روپ نرائن وہ کھلے طور پر کہتے ہیں کہ آج کے آزاد ہندوستان کے مقابلہ میں انگریزی دور کا ہندوستان زیادہ بہتر اس سلسلہ میں وہ اپنے بہت سے ذاتی تجربے بتاتے ہیں۔
مثلاً انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۲ء سے پہلے کے زمانہ میں میں پرانی دہلی کے علاقہ چرخی والان میں رہتا تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ انگریز ڈپٹی کمشنر گھوڑے پر سوار وہاں سے گذر رہا ہے۔
جا کر اُس کے گھوڑے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اس علاقہ کے لوگ دو چیزوں سے بہت ایک، فلاں ہندو بنیا، وہ کم تولتا ہے اور اس طرح وہ لوگوں کو لوٹ رہا ہے۔ یہاں کا ڈلاؤ ہے۔ یہاں بہت دنوں سے کوڑا پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے بدبو پھیل رہی ہے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر نے ٹھہر کر میری بات سُنی اور پھر کچھ جواب دیے بغیر آگے بڑھ گیا۔ بعد یہ ہوا کہ اُسی دن شام کو پولیس آئی اور مذکورہ ہندو بنیا کو گرفتار کر کے لے گئی۔ دوسری طرف اُسی دن شام کو میونسپلٹی کی گاڑی آئی اور ڈلاؤ کا سارا کوڑا اٹھا کر اس کو صاف کر دیا۔ روپ نرائن صاحب اس طرح کے واقعات بتا کر کہتے ہیں کہ آج اس طرح کے مسائل پہلے سے بھی زیادہ ہیں۔ مگر آج یہ حالت ہے کہ افسروں سے شکایت کیجیے اور دفتروں کا چکر لگایئے مگر کوئی ایکشن لینے والا نہیں۔ جودھ پور کے سفر میں مجھ کو وہاں کے سی اول فارم ہاؤس (Seoul Farm House) میں ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ جودھ پور شہر سے تقریباً بیس کلومیٹر دور ہے۔ درختوں کے ماحول میں بنا ہوا یہ خوبصورت فارم ہاؤس رہنے کے لیے آئیڈیل جگہ معلوم ہوتی ہے۔ پہلے دن جب میں یہاں آ کر ٹھہرا تو ایسا محسوس ہوا کہ گویا میں دنیا کی جنت میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ مگر ایک ہی دن کے قیام کے بعد طبیعت گھبرا میری ساری دلچسپی ختم ہوگئی۔ اس فارم ہاؤس میں میں ۱۰ مئی ۲۰۰۲ کو پہنچا تھا اور ۱۲ مئی ۲۰۰۲ء تک وہاں مقیم رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں جنتی زندگی کا حصول ممکن نہیں۔ اس دنیا میں خواہ کتنی ہی خوبصورت جگہ بنائی جائے مگر وہ انسان کو حقیقی خوشی نہ دے سکے گی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے: اللهم لا عيش الا عيش الآخرة۔
جودھ پور کے فارم ہاؤس میں جب میں ٹھہرا ہوا تھا، وہاں ایک عجیب تجربہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ تمام لوگ صبح کو بہت دیر تک ایرکنڈیشڈ کمروں میں سوتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ سورج نکل آتا حالاں کہ ان کمروں کے باہر فطرت کے مناظر اور صبح کی خوش گوار ہوا موجود ہوتی تھی۔ نغمے سنائی دیتے تھے۔ میں اپنی عادت کے مطابق، صبح سویرے اُٹھتا اور اوّل وقت میں فجر کی نماز پڑھ کر
باہر ٹہلنے لگتا۔ میں نے سوچا لوگوں کا ذوق کتنا زیاہ بگڑا ہوا ہے۔ وہ مصنوعی تمدن میں جیتے ہیں۔ فطرت کی حسین تر دنیا اُن کے آس پاس موجود ہوتی ہے مگر وہ اُس سے محظوظ ہونے کی صلاحیت نہیں یہ بدذوقی کی کیسی عجیب مثال ہے۔
جودھ پور کے زمانہ قیام میں بہت سے لوگوں سے بات چیت اور تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ فارم ہاؤس میں، اجتماع گاہ میں، نیز شہر کے اندر۔ ان گفتگوؤں کا ایک خلاصہ اس سفر نامہ میں قارئین کو ان گفتگوؤں کا تعلق ہر قسم کے معاملات سے تھا، مذہبی بھی اور عملی بھی اور قومی بھی۔ نے میرا پتا لکھا اور بعد کو بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہاں ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کا کوئی ملی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فوراً جلسہ جلوس کی صورت میں دوسروں کے خلاف تحریک چلانے لگتے ہیں۔ شاہ بانو کی تحریک، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ملی مسائل کو داخلی کوشش سے حل کریں۔ جیسا کہ امریکہ وغیرہ میں وہاں کے مسلمان بالفعل کر رہے ہیں۔ عوامی تحریک کا تعلق ہے، وہ صرف مشترک ملکی ایشوز پر چلائی جائے۔
سنجیدہ انسان اور غیر سنجیدہ انسان کی ایک پہچان یہ ہے کہ کہ سنجیدہ انسان غلطی کو اپنے اندر ڈھونڈھتا ہے اور غیر سنجیدہ انسان غلطی کو دوسروں کے اندر تلاش کرتا ہے۔ ایک بار میں ریڈیو سن رہا تھا۔ اُس میں ایک فلم اسٹار کا انٹرویو آنے لگا۔ انٹرویو رنے پوچھا کہ اپنی فلمی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے۔ اُس نے کہا کہ ایک بار میں ایک فلم میں ایک شخص کا رول ادا کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا شخص تھا جو جسمانی اعتبار سے بڑا ہو چکا تھا مگر اسی کے ساتھ وہ ذہنی معذور (mental handicap) تھا۔ ریکارڈنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ڈائرکٹر نے ریکارڈنگ رکوادی۔ میں حیران ہو کر ڈائرکٹر کے پاس گیا اور اُس سے سبب پوچھا۔ ڈائرکٹر نے کہا کہ تمہارا رول مجھے کچھ ٹھیک معلوم نہیں ہو رہا ہے۔ فلم ایکٹر نے اس کے بعد ڈائرکٹر کے خلاف سوچنے کے بجائے خود اپنے خلاف سوچنا شروع وہ کمرہ میں گیا اور وہاں اُس نے اپنے آپ کو آئینہ میں دیکھا۔ اب اُس نے اپنی غلطی دریافت
اُس کو معلوم ہوا کہ آج صبح وہ تاج محل سیلون میں جا کر اپنے بال درست کروائے اور شیمپو اس کی وجہ سے اُس کا چہرہ اچھا تو دکھائی دینے لگا مگر وہ اپنا مطلوب رول کرنے کے قابل نہ رہا، کیوں کہ فلمی رول میں اُس کو ایک کم عقل انسان کا رول ادا کرنا تھا، نہ کہ ہوش مند انسان کا۔ اس کے بعد فلم ایکٹر نے ایک قینچی لی اور وہ کام کیا جس کو وائلڈ ہیر کٹ (wild hair-cut) کہا جاتا ہے۔ اُس نے آئینہ دیکھے بغیر بے ترتیب طور پر اپنے بال ادھر اُدھر سے کاٹ لیے اور پھر اپنے بالوں میں مٹی لگالی۔ اس کے بعد دوبارہ جب وہ اپنا رول کرنے کے لیے آیا تو فلم ڈائریکٹر بہت خوش اس نے کہا کہ اب تم اپنے رول کے لیے پوری طرح موزوں ہو۔
کامیاب انسان وہ ہے جو غلطی پیش آنے کے بعد اُس کا سبب دوسروں کے اندر تلاش نہ کرے بلکہ غلطی کا سبب خود اپنے اندر تلاش کرے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفت ہو، وہی سنجیدہ انسان ہے اور ایسا ہی انسان موجودہ دنیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی غلطی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کریں وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ اپنے آپ کو غیر سنجیدہ انسان ثابت کرتے ایسے لوگ کبھی کسی اعلیٰ کامیابی تک پہنچنے والے نہیں۔
کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آزادی کے بعد کے زمانہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عام طور پر ایک قسم کا بوجھ (liability) سمجھا جانے لگا۔ مگر آزادی سے پہلے کے دور میں وہ اس ملک میں ایک سرمایہ (asset) کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں میں نے سوامی وویکانند کا
سوامی وویکانند ایک مشہور ہندو پیشوا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک بار ایک مسلم فقیر نے اُن کی جان بچائی جس کا نام ذوالفقار علی تھا۔ سوامی وویکانند نے اعتراف کیا ہے کہ وہ کچھ مسلمانوں سے ملے جنہوں نے اُن کے روحانی اُفق میں اضافہ کیا۔ وہ اس حقیقت سے بہت متاثر تھے کہ قرآن ہزار سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اپنے ابتدائی متن کو پوری طرح باقی رکھے ہوئے ہیں: Vivakananda would often talk feelingly of a Muslim fakir, Zulfiqar Ali, who once saved his life. Vivekananda had several intellectual
encounters with muslim theologians and confessed to these having widened his spritual horizons. He was impressed by the fact that the Qur'an had retained its pristine purity despite the lapse of more than a (The Times of India, New Delhi, 14 May 2002, P.10)
ایک صاحب جو انسانی حقوق (Human Rights) کے ایک گروپ سے تعلق رکھتے تھے، ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ ہمیشہ معاملات کو آئیڈیل کے نقطۂ نظر سے دیکھتے حالانکہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ معاملات کو پریکٹیکل کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے۔ اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ جو کچھ ہوا اس کا خالص منصفانہ انداز سے تجزیہ کیا جائے۔ بلکہ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ اور مسئلہ کا حل ہمیشہ پریکٹیکل بنیاد پر نکلتا ہے، نہ کہ آئیڈیل بنیاد پر۔
وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی تھے۔ انہوں نے فوراً کہا کہ آئیڈیل سوسائٹی کہاں بنتی ہے۔ مقولہ ہے کہ آئیڈیل کبھی قابل حصول نہیں ہوتا۔