Al-Risala · August 2002

Ideal cannot be achieved.

Al-Risala, August 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی ذہین لوگوں کی کمزوری ہے۔ وہ جب کسی بات کو اپنے خلاف پاتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک نکتہ نکال کر بات کے رخ کو بدل دیتے ہیں۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ آئیڈیل حل (ideal solution) کے بارہ میں تھی، نہ کہ آئیڈیل سماج (ideal society) کے بارہ میں۔ ایک حقیقت ہے کہ عمومی اور کلی معنوں میں آئیڈیل سماج کبھی بن نہیں سکتا، کیوں کہ فطرت کے قوانین کے تحت ایسا ہونا ممکن نہیں۔ لیکن کسی فرد یا گروپ کے لئے اس کے کسی مسئلہ کا حل اگر ممکن ہے تو وہ صرف پریکٹیکل بنیاد پر ممکن ہے، نہ کہ آئیڈیل کی بنیاد پر۔

یہاں ایک صاحب نے خاموش اکثریت (silent majority) کا ذکر کیا۔ اس سلسلہ میں میں نے بتایا کہ ہمارے یہاں ایک صاحب خاموش اکثریت کے نظریہ سے بہت متاثر تھے۔ خیال تھا کہ خاموش اکثریت کو ساتھ لے کر ملک و قوم کی تعمیر کا کام زیادہ مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اس مقصد کے لیے ملک کا دورہ کیا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ ملک بھر کا دورہ کرنے کے باوجود مفروضہ خاموش اکثریت سے اُن کی کہیں ملاقات نہ ہو سکی۔

خاموش اکثریت کا نظریہ، اس قسم کے دوسرے نظریات کی طرح صرف تعلیم یافتہ طبقہ کی ایک ذہنی اُپج سمجھا جاتا ہے کہ ملک میں بیشتر لوگ ملک اور قوم کے بارہ میں سنجیدہ سوچ اور تعمیری جذبہ رکھتے ہیں، اگرچہ وہ خاموش رہنے کی وجہ سے نمایاں نہیں ہوتے۔

یہ نظریہ صرف ایک خوبصورت مفروضہ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ چیز جس کو خاموش اکثریت کہا جاتا ہے وہ زیادہ صحیح الفاظ میں، غیر جانبدار اکثریت (indifferent majority) ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کا واحد کنسرن ان کا ذاتی مفاد ہے۔ یعنی قومی معاملات سے غیر متعلق رہ کر ہر ممکن طریقہ سے کمانا اور اپنے بچوں کی بہتری کے لیے اُس کو خرچ کرنا۔ یہ اپنے خول (cell) میں رہنے والے لوگ ہیں، ان کو قومی معنوں میں خاموش اکثریت کہنا اُن کو ایسا کریڈٹ دینا ہے جس کے وہ مستحق کوئی شخص اگر انسانیت کا حقیقی درد رکھتا ہو تو نفسیاتی اعتبار سے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ بس خاموش تماشائی بنا رہے۔

جودھ پور کے اجتماع میں کچھ مسلمان بھی آئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان نے مجھ سے ایک شکایت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلہ پر یہاں اتنا بڑا فنکشن کیا جا رہا ہے مگر مسلمانوں کے مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایک مسلمان ایک ہندو کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ موقع پر اس نے مسلمانوں کی حمایت میں کچھ بات کہہ دی۔ اس کے بعد ایک وجہ نکال کر اُس مسلمان کو کمپنی کی سروس سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اب وہ مسلمان بے روزگاری کی حالت میں ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف شکایت اور احتجاج کے انداز میں سوچنا جانتے ہیں۔ اس قسم کا کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو فوراً منفی انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ کی یہی سوچ آپ کا اصل مسئلہ اس کے بجائے اگر آپ لوگ مثبت انداز اختیار کریں تو آپ جانیں گے کہ مسئلہ پیدا بھی ہوتا ہے

اور مسئلہ ختم بھی ہو جاتا ہے، بشرطیکہ اُس کو حکمت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ میں نے کہا کہ میرے علم میں اس قسم کی بہت سی مثبت مثالیں ہیں۔ میں آپ کو ایک تازہ مثال بتاتا ہوں ۔ دہلی میں ایک مسلم نوجوان ہیں جن کا نام محمد خالد انصاری ہے۔ انہوں نے انگلش جزلزم میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد اُنہیں ایک بڑے انگریزی روزنامہ میں سروس مل گئی۔ چھ مہینہ پہلے اُنہیں اسی قسم کے ایک واقعہ کی بنا پر اخبار کی ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد اگر وہ جذباتی قسم کے مسلم لیڈروں سے رجوع کرتے تو اپنی عادت کے مطابق، وہ اُن سے کہتے کہ یہی تو ہمارا کہنا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس طرح وہ مسٹر خالد انصاری کو مایوسانہ سوچ کا تحفہ دے کر اُنہیں واپس کر دیتے ۔

مگر حسن اتفاق سے وہ میرے پاس آگئے۔ میں نے کہا کہ آپ ہرگز مایوس نہ ہوں اور دوبارہ کوشش (try, try, try again) کے اصول پر عمل کریں۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ اخبار کے چیرمین سے ملاقات کی۔ چند ملاقاتوں کے بعد چیرمین نے اخبار کے ذمہ داروں کو ایک خط لکھ دیا کہ مسٹر خالد کو دوبارہ موقع دیا جائے۔

اس کے بعد مسٹر محمد خالد انصاری میرے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے دوبارہ نئے عزم کے ساتھ اخبار کا کام شروع کر دیجئے ۔ آپ کو اپنے سامنے صرف ایک بات رکھنا چاہئے، وہ یہ کہ آپ اتنا زیادہ محنت کے ساتھ کام کریں کہ آپ اخبار کی ضرورت بن جائیں ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ ان کو مذکورہ اخبار کے انٹرنیٹ شعبہ (Online tabloid) میں جگہ دی گئی۔

اُن کو ہر ہفتہ دو اسٹوری بنانا تھا۔ انہوں نے نہایت محنت کے ساتھ اپنا کام شروع کر دیا۔ روزانہ بارہ گھنٹے سے بھی زیادہ کام کر کے اپنی ہر اسٹوری کو اتنا دلچسپ اور معلوماتی بنایا کہ اُن کو ساری دنیا میں انٹرنیٹ پر کثرت سے پڑھا جانے لگا۔ چند دن پہلے محمد خالد انصاری نے مجھ کو بتایا کہ اُن کے باس (Boss) نے اُنہیں بلایا اور مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمہاری اسٹوری ستر ہزار تک ہٹ (hit)

ہورہی ہے، جب کہ تمہارے شعبہ کے دوسرے لوگوں کی کوئی اسٹوری اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ ہٹ نہیں ہوئی۔

ہٹ کا مطلب ہے کہ کوئی اسٹوری جتنی بار پڑھی جائے اُتنا ہی وہ ہٹ ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ کبھی کسی کا راستہ بند نہیں ہوتا۔ جہاں بظاہر راستہ بند دکھائی دے، وہاں بھی آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہوتے ہیں، بشرطیکہ آدمی ہمت نہ ہارے اور مثبت ذہن کے تحت نیا راستہ تلاش کرے۔ صورت حال میں آدمی کے لیے اصل مسئلہ اس کی اپنی منفی سوچ ہے، نہ کہ باہر کی کوئی رکاوٹ۔ کے ہر مرحلہ پر ہمیشہ کا ما لگا ہوتا ہے، زندگی میں کبھی فل اسٹاپ نہیں آتا۔ ایک مسلم بزرگ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جنت کے بارے میں آج کل کے مسلمانوں میں ایسی باتیں پھیلی ہوئی ہیں جن کا جنت سے کوئی تعلق نہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑوں کا دامن تھام لو اور جنت کو یقینی بنالو۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ ظاہری اعمال ہیں جن میں پراسرار فضیلتیں چھپی ہوئی ہیں، بس ان اعمال کی شکلوں کو دہرالو اور جنت کے مستحق بن جاؤ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جہاد کا ہنگامہ کھڑا کرو اور تم سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ گے، وغیرہ۔ مگر یہ تمام وہی چیزیں ہیں جن کو قرآن میں امانی (النساء ۱۲۳) کہا گیا ہے، یعنی جنت ایک حقیقی چیز ہے، اور جنت صرف حقیقی عمل کے نتیجہ میں ملے گی۔ خود ساختہ قسم کی خوش خیالیوں سے کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔

جودھ پور کی کانفرنس میں اجمیر کے کچھ مسلمان بھی آئے تھے۔ ایک ہندو نے مجھ کو دیکھ کر کہا، کیا آپ اجمیر شریف سے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ اُن سے گفتگو کے دوران ایک بات میری سمجھ وہ یہ کہ کیا وجہ ہے کہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں بزرگوں کی قبروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں، اُن سے مرادیں مانگتے ہیں، حتیٰ کہ انہیں سجدہ کرتے ہیں۔

گفتگو کے دوران اس کا راز میری سمجھ میں آیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ ہندو اور مسلمان ان بزرگوں کی موت کو ’’وصال‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اُن کا عقیدہ ہے کہ یہ لوگ موت کے بعد خدا سے مل گئے دوسرے لفظوں میں یہ کہ موت نے انہیں زیادہ اونچے مقام پر پہنچادیا ہے۔ پہلے اگر وہ بظاہر انسان تھے تو اب وہ خدا کے درجہ میں پہنچ گئے۔ اب انہیں مزید طاقت حاصل ہوگئی۔ وہ اس حیثیت میں ہوگئے کہ وہ ہماری مرادیں پوری کریں، وہ ہماری حاجتوں میں ہمارے کام آئیں۔ غیر شعوری طور پر، وصال کا یہی نظریہ قبر پرستی کے پیچھے کام کر رہا ہے، حالانکہ اس نظریہ کی کوئی شرعی اسلام میں وفات کا تصور ہے، نہ کہ وصال کا تصور۔

بابو لال شرما شکر کے مستقل مریض ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ اس سلسلہ میں ٹیبلٹ کا استعمال کرتے تھے۔ مگر اس سے فائدہ نہیں ہوا۔ اب وہ ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق، ہر دن دو بار انسولین کا انجکشن لیتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ صبح اور شام دونوں وقت وہ خود اپنے ہاتھ سے انجکشن لگاتے ہیں، یعنی ایک ہاتھ کے ذریعہ دوسرے ہاتھ میں۔

یہ منظر میرے لیے بڑا عجیب تھا۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے ایک ہاتھ میں سرنج لے کر دوسرے ہاتھ میں انسولین کا انجکشن لگا رہے ہیں اور اس طرح مطمئن ہیں جیسے کہ یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ اپنی اس حالت کے باوجود کس طرح خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک انگریزی مقولہ کے مطابق ، میرا اصول یہ ہے کہ ــــ اس کو نارمل طور پر لو:

Printed page