Al-Risala · August 2002

Take it easy.

Al-Risala, August 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ بلاشبہہ بہترین اصول ہے۔ زندگی میں ہر شخص کو ایسے تجربات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو اُس کو پسند نہیں ہوتے۔ اس قسم کی ناخوشگوار صورت حال ہر ایک کے ساتھ پیش آتی ہے۔ اس کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ لیا جائے تو زندگی دو بھر ہو جائے گی ۔ ایسی حالت میں اس کا آسان حل یہ ہے کہ اس کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بننے دیا جائے، اُس کو اسی طرح معمول کی ایک چیز سمجھ لیا جائے

جس طرح دوسری بہت سی چیزوں کو ہر آدمی سمجھتا ہے۔

مسٹر راجیند رسنگھ جو بیس سال سے زیادہ مدت سے پانی کے انتظام (water resource) management کے شعبہ میں قابل تعریف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ کئی لوگ اُن کے مخالف ہو گئے ہیں اور اُن پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ بیرونی طاقتوں سے پیسہ لیتے ہیں۔ آپ مہاراجہ کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں، آپ سرمایہ داروں کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس قسم کے الزامات کی وجہ سے میں بہت پریشان رہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ الزام نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص کوئی اچھا کام کرتا ہے تو فطری طور پر وہ لوگوں کی نظر میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ میڈیا میں اس کا چرچا ہونے لگتا ہے۔ اس کو اسٹیج پر بلایا جاتا ہے۔ اس قسم کی چیزوں کو دیکھ کر اُن لوگوں کے دل میں جلن ہونے لگتی ہے جن کو یہ چیزیں نہیں میں نے کچھ مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں آپ صرف ایک کام کیجیے، اور وہ یہ کہ کچھ نہ آپ سادہ طور پر، ایسے لوگوں کو نظر انداز کرتے رہیے۔ وہ کچھ بھی کہیں، آپ اُن کا کوئی جواب نہ آپ بس اپنا کام کرتے رہیے۔ اس کے بعد اس قسم کے لوگ خود ہی چپ ہو جائیں گے۔ میں نے اُن کو حالی کا یہ شعر سُنایا:

کیا پوچھتے ہو کیوں کر سب نکتہ چیں ہوئے چپ سب کچھ کہا انہوں نے پر ہم نے دَم نہ مارا مسٹر راجیند رسنگھ میرے مشورہ کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ نے میرے سر کا بوجھ اتار دیا۔ انہوں نے دعوت دی کہ آپ دوبارہ راجستھان آئیے اور ہمارے کام کو قریب سے دیکھئے اور ہم کو مزید مشورے دیجیے۔

ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ میرے ذہن میں ایک سوال ہے۔ آپ اُن کا حل انہوں نے کہا کہ دنیا میں یہ فرق کیوں ہے کہ ایک طرف غریب لوگ ہیں اور دوسری طرف اگر ایک ہی خدا سب کو بنانے والا ہے تو اُس نے یہ فرق کیوں رکھا۔ اٗس نے تمام لوگوں کو یکساں کیوں نہیں بنایا۔

میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ امیری کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور غریبی کو چھوٹی چیز۔ اس کا الٹا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غریبی بڑی چیز ہے اور امیری چھوٹی چیز۔ میں نے کہا کہ انسان کی خوش قسمتی کو ناپنے کا معیار اگر یہ ہو کہ کون زیادہ اچھا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور کس کا جسم زیادہ فربہ ہے تو زیادہ پیسہ والے لوگ خوش قسمت نظر آئیں گے۔ مگر زیادہ صحیح معیار یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ذہنی ارتقاء میں کون زیادہ آگے ہے۔

میں نے کہا کہ یہ عام مشاہدہ کی بات ہے۔ اور باقاعدہ سروے کے ذریعہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کم پیسہ والوں کا ذہنی ارتقاء زیادہ ہوتا ہے اور زیادہ پیسہ والوں کا ذہنی ارتقاء کم۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ میں ایک نئی بیماری پیدا ہوئی ہے جس کا تعلق خوشحالی (affluence) سے ہے۔ اُس کو افلوائَنزا (affluenza) کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جسمانی اعتبار سے فربہ مگر ذہنی اعتبار سے طرح طرح کی کمیوں کا شکار رہتے ہیں۔

جلسہ میں کچھ خاص لوگوں کو مہاراجہ جودھ پور نے خود اپنے ہاتھ سے ایک تحفہ دیا۔ یہ تحفہ ایک چادر اور ایک ناریل کی صورت میں تھا۔ ہندو روایات میں جب کسی کو عزت دینا ہو تو اٌس کو چادر اِسی طرح ناریل ہندو روایات کے مطابق، ایک مقدس پھل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مندروں میں اکثر ناریل کا پھل چڑھایا جاتا ہے۔

واپسی میں ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ میں نے ناریل کو اپنے بیگ میں رکھ لیا تھا۔ ایر پورٹ پر چیکنگ ہوئی تو عملہ کے لوگوں نے ناریل کو بیگ سے نکال لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناریل آپ کو دہلی ایر پورٹ پر مل جائے گا۔ اس کا سبب غالباً یہ تھا کہ جہاز کو ہائی جیک کرنے والے دوسری چیزوں کے ساتھ، ناریل جیسی سخت چیز کو بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ جہاز کے پائلٹ کو اس سے ڈرانے دھمکانے کا کام لے سکتے ہیں۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ خوشی کا کوئی تعلق دولت سے نہیں ہے۔ دولت آپ کو مادی ساز و سامان دے سکتی ہے مگر دولت آپ کو خوشی نہیں دے سکتی۔

آف اکنامکس کی قیادت میں ایک ریسرچ کی گئی ہے۔ اس ریسرچ کا موضوع یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ خوشی کے اعتبار سے کون سا ملک کس درجہ پر ہے۔ اس ریسرچ کا جو نتیجہ چھپا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کے اعتبار سے برطانیہ کے لوگ نمبر ۳۲ پر ہیں اور امریکہ کے لوگ نمبر ۲۶ پر اور ہندوستان کے لوگ نمبر ۵ پر۔

اس ریسرچ کی سب سے زیادہ دلچسپ اور سنسنی خیز بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام ملکوں میں سب سے زیادہ خوش رہنے والے لوگ وہ ہیں جو میںبنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو عام طور پر سب سے زیادہ غریب ملک سمجھا جاتا ہے۔ مگر موجودہ سروے کے مطابق، بنگلہ دیش کے لوگ سب سے زیادہ خوشیوں میں جینے والے لوگ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ:

According to recent research led by the London School of Economics, the happiest place in the world is, would you believe?, Bangladesh. جون ۲۰۰۱ء میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش گیا تھا۔ اس دوران مجھے کچھ بنگلہ دیشی گھروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے پایا کہ وہاں گھر کا ہر فرد نہایت خوش تھا اور اکثر اس خوشی کا راز یہ تھا کہ اُن کے پاس جو کچھ تھا اُسی پر وہ مطمئن تھے۔ مزید کی حرص انہیں پریشان نہیں رکھتی تھی۔ میں نے دیکھا کہ میری تواضع کے لیے انہوں نے کوئی اہتمام نہیں کیا۔ جو کچھ گھر میں تھا بس اُسی کو انہوں نے بے تکلف پیش کر دیا۔ اُن کے گھر بھی نہایت سادہ تھے۔ ضرورت کے سوا کوئی اور چیز گھر کے اندر نظر نہ آئی۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ لوگ خدا کو ایک الگ اور مستقل شئے مانتے ہیں، کیا آپ خدا کا تجربہ کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں، میں تو تقریبا روزانہ ہی خدا کا تجربہ کرتا ہوں۔ کہا کہ کیا آپ اس تجربہ کو ہمیں دکھا سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک داخلی (subjective) تجربہ ہے، ایسے تجربہ کا مظاہرہ خارجی طور پر نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پھر ہم کیسے اس پر یقین کریں۔ میں نے کہا کہ آپ اور ہر شخص اپنے بیٹے سے

محبت کرتا ہے۔ آپ کو بار بار اپنے بیٹے کی محبت کا قلبی تجربہ ہوتا ہے۔ کیا آپ اپنے اس تجربہ کو خارجی طور پر دکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تو ظاہری طور پر دکھائی دے رہا ہے، جب کہ خدا اس طرح ظاہری طور پر دکھائی نہیں دیتا۔

میں نے کہا کہ یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ آپ کا بیٹا بھی آپ کو دکھائی نہیں دیتا۔ آپ بیٹے کی جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ اُس کا جسم ہے۔ اگر یہی جسم آپ کا بیٹا ہے تو مرنے کے بعد آپ اپنے اس بیٹے کو کیوں جلا کر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا بیٹا ظاہری جسم کے ماوراء ایک ان دیکھی چیز ہے جو آپ کو ان آنکھوں سے نظر نہیں آتی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس بیٹے کی محبت کا آپ تجربہ کر رہے ہیں، وہ بیٹا بھی اسی طرح دیکھنے میں نہیں آتا جس طرح خدا دیکھنے میں نہیں آتا۔ پھر جس طرح ایک باپ اپنے نہ دکھائی دینے والے بیٹے کی محبت کا تجربہ کرتا ہے، اسی طرح ایک مومن بھی ایک نہ دکھائی دینے والے خدا کے تعلق کا تجربہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔

جودھ پور کے اس سیمینار کے تین اجلاس ہوئے۔ دو چو پاسنی اسکول میں، اور ایک گیتا بھون چو پاسنی اسکول مہاراجہ جودھ پور کا بنوایا ہوا ہے۔ یہ ایک محل نما عمارت میں واقع ہے۔ ہال، جس میں سیمینار ہوا، غیر معمولی طور پر بڑا اور شاندار نظر آیا۔

ان اجتماعات میں ہر مذہب کے لوگ شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ علمی حلقوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ہر ایک نے اپنی روایات کے پس منظر میں پانی کی اہمیت کو بیان کیا۔ مہاراجہ جودھ پور نے مارواڑی زبان میں تقریر کی، وہ پوری طرح میری سمجھ میں نہ آسکی۔ ہر مقرر نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے موضوع پر روشنی ڈالی۔ کچھ لوگوں نے علمی اسلوب میں تقریر کی۔ کچھ لوگوں نے قصے کہانیوں کے انداز میں خطاب کیا۔ ایک صاحب نے ایک قصہ انہوں نے کہا کہ ایک گرو کے دو شاگرد تھے۔ دونوں شاگرد گرو کے پاؤں کی سیوا کرتے دونوں نے گرو کا ایک ایک پاؤں بانٹ کر لے لیا تھا۔ ایک شاگرد داہنے پاؤں کی سیوا کرتا

تھا اور دوسرا شاگرد بائیں پاؤں کی سیوا۔

ایک بار ایسا ہوا کہ بائیں پاؤں کی سیوا کرنے والا شاگرد کہیں چلا گیا۔ دوسرے شاگرد نے اپنے حصہ کے مطابق، دائیں پاؤں کی سیوا کی۔ اس درمیان میں ایسا ہوا کہ گرو جی نے داہنی طرف اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بایاں پاؤں دائیں پاؤں کے اوپر آگیا۔ شاگرد کو برداشت نہیں ہوا کہ اُس کے حصہ کا پاؤں نیچے ہو اور دوسرے شاگرد کے حصہ کا پاؤں اوپر۔ چنانچہ وہ ایک لکڑی لایا اور گرو جی کے بائیں پاؤں پر زور سے مارا۔

اس کے بعد گرو جی نے اپنے شاگرد سے کہا کہ اے مورکھ، جس پاؤں کو تم نے مارا وہ بھی تو میرا ہی پاؤں تھا۔ اس قصہ کو بتا کر مقرر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ کچھ لوگ اتنے نادان ہوتے ہیں کہ وہ باتوں کو گہرائی سے نہیں سمجھتے۔ وہ ایک شخص کو گرو مانتے ہوئے بھی اُس کا پورا حق ادا نہیں کر پاتے۔ مقرر کی زبان سے اس فرضی قصہ کو سُن کر بہت سے لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ مگر میں اس قسم کے استدلال سے مانوس نہیں ہوں۔ میرے نزدیک ایک حقیقی بات کو ثابت کرنے کے لیے ایک حقیقی واقعہ درکار ہے۔ ایک حقیقی دعویٰ کسی فرضی قصہ سے ثابت نہیں ہوتا۔

آج کل ایک مشہور تحریک چل رہی ہے جس کا نام آرٹ آف لیونگ (Art of Living) کہا جاتا ہے کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر لاکھوں لوگ اس تحریک سے جڑے ہوئے ہیں۔ تحریک کے ایک خصوصی نمائندہ بھی جودھ پور کے سیمینار میں آئے تھے۔ اُن کو دو بار اسٹیج پر آنے کا موقع دونوں بار اُنہوں نے صرف بھجن سنایا، اس کے سوا اور کوئی بات اُنہوں نے نہیں کی۔ جلسہ کے بعد میں نے اُن سے پوچھا کہ آرٹ آف لیونگ کا کچھ پتے مجھے بتائیے۔ نے جو کچھ بتایا اُس کا خلاصہ یہ تھا کہ یوگا کے انداز میں کچھ جسمانی اکسرسائز کرنا۔ مثلاً سوچ کو روک کر اپنے ذہن کو خالی کر لینا۔ کچھ دیر کے لیے آنکھ اور ناک بند کر لینا، وغیرہ۔ اُن کے کہنے کے مطابق، یہ ورزشیں آدمی کے ٹینشن کو بالکل ختم کر دیتی ہیں۔

میں نے کہا کہ ٹینشن تو ایک ذہنی مسئلہ ہے۔ اِس کو آپ جسمانی ورزش کے ذریعہ کیسے ختم

سکتے ہیں ۔ ذہنی مسئلہ ذہنی عمل سے ختم ہوگا ، نہ کہ جسمانی عمل سے ۔ آرٹ آف لیونگ کے سینٹر دنیا بھر میں کھلے ہوئے ہیں ۔ یہاں لوگ ذہنی ٹینشن کے علاج کے لیے آتے ہیں ۔ یہاں مخصوص تربیت کے ذریعہ آدمی کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہنی ٹینشن کو اندر ہی اندر دبا دیں ۔ میں نے کہا کہ یہ تو ٹینشن کا علاج نہیں ہے بلکہ ایک قسم کا عملِ تخدیر (anaesthesia) ہے۔ ذہن کو سُن کرنا جراّحی (آپریشن) کے لیے مفید ہے، لیکن اگر اس طریقہ کو ٹینشن کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے تو اُس کا نقصان یہ ہوگا کہ تفکیری عمل رک جائے گا اور آدمی کا بھرپور ذہنی ارتقاء نہ ہو سکے گا ۔

ایک صاحب نے کہا کہ واٹر ریسورس مینجمنٹ (water resource management) کے بارے میں اصولی رہنمائی گاندھیائی فلسفہ میں موجود ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ واقعہ تھا کہ ایک بار سیوا گرام میں کچھ لوگوں نے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد وہ اُٹھ کر اپنا ہاتھ دھونے لگے۔ وہ زمین پر پانی بہا رہے تھے۔

گاندھی جی نے کہا کہ دیکھیے ، یہاں بہت سے پیڑ پودے موجود ہیں۔ اگر آپ ان پیڑ پودوں کی جڑوں میں ہاتھ دھوئیں تو اس طرح آپ کا بہایا ہوا پانی دوبارہ استعمال ہو جائے گا۔ وہ گر کر ضائع

اس سیمینار میں مجھ کو دوبارہ تقریر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے پانی کی اہمیت پر اسلام کے حوالہ سے میں نے کچھ آیتوں اور حدیثوں کی روشنی میں تقریر کی، مثلاً : زندگی کے لیے پانی بے حد اہم ہے۔ قرآن کے مطابق، تمام زندہ چیزیں پانی سے بنائی گئی ہیں۔ (وجعلنا من الماء كل شيء حي)

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ صدقہ پانی کا صدقہ ہے (أَعْجَبُ الصدقة الماء)۔

ایک اور روایت کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ پانی سے کسی کو روکنا جائز نہیں (لا يحل منع الماء)۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو بیچنے سے منع فرمایا (نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بيع الماء)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی میں پیشاب نہ کیا جائے (لايبال في الماء)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ فضول خرچی کے ساتھ پانی بہا رہا ہے۔ آپ نے اس سے منع فرمایا اور کہا کہ پانی میں فضول خرچی نہ کرو خواہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہو(ولو كنت علی نهر جار)۔

قرآن وحدیث کے ان حوالوں کی روشنی میں میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ وہ مدارِ حیات ہے تو اُس کا تحفظ ہر لحاظ سے ضروری ہو جاتا ہے۔ لوگوں تک پہنچانا صدقہ جیسے نیک عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پانی کی ضرورت ہر امیر و غریب کو ہے اس لیے اُس کی فراہمی مفت ہونی چاہئے۔ کوئی ایسی سرگرمی درست نہیں جو وہ چیز پیدا کرے جس کو پانی کی کثافت (water pollution) کہا جاتا ہے۔ پانی سے استفادہ کو ہر ایک کے لیے کھلا رہنا چاہئے، پانی پر روک ٹوک جائز نہیں۔ پانی کا استعمال انتہائی کفایت کے ساتھ ہونا چاہئے حتیٰ کہ لوگوں کے اندر یہ مزاج ہونا چاہئے کہ پانی بظاہر زیادہ ہو تب بھی وہ اُس کا استعمال کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔ پانی انسان جیسی مخلوق کے لیے بے حد اہم ہے۔ ہمارے جسم کا اسی فیصد سے زیادہ حصہ پانی نیز جن چیزوں کو ہم خوراک بناتے ہیں وہ سب بھی پانی کے ذریعہ تیار ہوتی ہیں۔ ایک بار ایک ڈاکٹر کے یہاں ایک شخص کو دیکھا۔ اُس کا پورا جسم بھینس کی طرح گھر دُرا ہورہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کو ایک عجیب قسم کی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ پانی نہیں پی سکتا۔ لیے اس کا جسم ایسا ہوگیا۔

پانی کے بارے میں قدیم انسان بہت کم جانتا تھا۔ ارسطو سے لے کر نیوٹن تک لوگ یہ جانتے تھے کہ مادی عناصر(elements) کی تعداد چار ہے— آگ، ہوا، مٹی، اور پانی۔ صرف انیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ معلوم ہوسکا کہ مادی عناصر کی تعداد ۱۰۵ ہے (اگر چہ تحقیق ابھی جاری ہے)۔

عناصر کی ترکیب ایٹم سے ہوتی ہے۔ پانی ایک بے رنگ رقیق چیز ہے۔ پانی کا سالمہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں پانی کے موضوع پر بہت زیادہ ریسرچ کی گئی ہے اور بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک مشہور اور جامع کتاب یہ ہے: The Structure and Properties of Water, by D. Eisenberg and W. Kauzmann. ایک تعلیم یافتہ ہندو نے یہاں ایک انگریزی کتاب اپنے دستخط کے ساتھ مجھ کو دی۔ ۲۷۵ صفحات پر مشتمل تھی۔ یہ کتاب پہلی بار ۲۰۰۱ میں چھپی۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے: The Science of God by Dr. Shreesh Kumar Gupta میں نے دیکھا تو یہ پوری کتاب ژولیدہ فکری (confused thinking) کی عجیب و غریب مثال تھی۔ اُس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ خدا نے ایک ہی مذہب بنایا قرآن اس دوامی مذہب کو اسلام کا نام دیتا ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ مذہب سناتن دھرم ہے، یعنی دینِ قیم۔ وید کو پڑھو، قرآن کو پڑھو، بنیادی تعلیم ایک ہی ہے (۳۵)۔ پہلی مقدس کتاب وید اور آخری مقدس کتاب قرآن ایک ہی مذہب کو بتاتے ہیں۔ پھر کیوں اتنے سب مذہب ہیں اور ہر ایک کی تعلیم الگ الگ ہے۔ مسلمان صرف چودہ سو سال قدیم مذہبی فرقہ ہیں۔ مگر اس تقریباً ڈیڑھ ہزار سال کی مدت میں بھی تبدیلی داخل ہوگئی۔ چنانچہ وہ قرآن کو پڑھتے ہیں اور اُس کا مفہوم نہیں سمجھتے (۳۶):

They read Qur'an but do not understand its meaning. یہ ایک عجیب وغریب دعویٰ ہے۔ مصنف کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ کیوں ایسا ہوا کہ مسلمان قرآن کو سمجھ نہ سکے مگر وہ خود قرآن کو سمجھ گئے۔ اس قسم کے دعوے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو مختلف انداز میں یہی دعویٰ کر رہے ہیں۔

جودھ پور میں ۱۲۸ صفحہ کی ایک انگریزی کتاب ہم لوگوں کو دی گئی۔ اس با تصویر کتاب کا نام یہ تھا:

Printed page