Al-Risala · August 2002

Ripples of the society

Al-Risala, August 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں راجستھان کے بارے میں بہت سی معلومات درج تھیں۔ مثلاً یہ کہ آزادی سے پہلے راجستھان ۲۱ ریاستوں کا مجموعہ تھا، اب راجستھان ۲۱ ضلعوں کی ایک ریاست ہے۔ ایک حصہ سر سبز ہے اور دوسرا حصہ ریگستان۔ اُس کے ایک خاکہ میں بتایا گیا تھا کہ ریگستانی علاقہ میں کس طرح سوکھے درخت ہیں اور گاؤں کی عورتیں پینے کا پانی لینے کے لیے اپنے سر پر مٹکا رکھے ہوئے دور دور تک جاتی ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل تین چیزوں کے بارے میں لوگوں کو بہت زیادہ بتانے کی ضرورت ہے___ ٹررزم، ڈیموکریسی، جسٹس۔

میں نے کہا کہ ٹررزم یا آتنک واد کا مطلب ہے___ غیر حکومتی تنظیموں کا مسلح جنگ چھیڑنا۔ وہ چیز جس کو آج کل گوریلا وار کہا جاتا ہے۔ اسلام میں جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے گوریلا وار اسلام میں سراسر حرام ہے۔ حکومت کے لیے بھی در پردہ جنگ جائز نہیں، اس لیے پراکسی وار بھی اسلام میں ناجائز قرار پاتی ہے۔

ڈیموکریسی کا مطلب ہے، ہر ایک کے لیے آزادی۔ مگر آزادی کی ایک حد ہے۔ وہ حد یہ ہے کہ میری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میرے پڑوسی کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ My freedom ends where the freedom of my neighbour begins. آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ جس کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ اُس کو جسٹس نہیں مل رہا ہے وہ فوراً اُس کے لیے سنگھرش شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ جسٹس کبھی کسی کے سنگھرش سے نہیں ملتا۔ حقوق خود اپنے عمل سے ملتے ہیں، نہ کہ دوسروں کے خلاف سنگھرش کرنے سے۔ ایک ہندو جو سرکاری افسر تھے، انہوں نے کہا کہ اسلام کی کوئی ایسی تعلیم بتائیے جس میں ہمارے جیسے لوگوں کو بھی کچھ ملتا ہو۔ میں نے کہا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ ایک بڑی کمپنی میں ڈپٹی جنرل مینیجر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حال میں ہمارے یہاں پرموشن ہوا۔ میری سطح کے تین آدمی تھے۔

سوا ان دونوں کو پرموشن دے دیا گیا۔ یہ ایک کھلا ہوا تعصب تھا۔ مجھ کو بہت جھٹکا لگا۔ عجیب قسم کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ دل میں آگئی۔

میں نے اُن سے کہا کہ میں آپ کو قرآن کی ایک آیت بتاتا ہوں، آپ اس پر عمل کریں۔ آیت یہ ہے: لئن شکرتم لازیدنکم (اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیا جائے گا) یعنی آپ ڈپٹی جنرل منیجر ہونے پر شکر کیجئے تو آپ کو جنرل منیجر کا عہدہ بھی مل جائے گا۔ گویا اللہ کے قانون میں نہ ملے ہوئے کو پانے کا راز یہ ہے کہ ملے ہوئے پر شکر ادا کیا جائے۔

اس تعلیم کے دو فائدے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ کے دل کا بوجھ اتر جاتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ اس نصیحت کو ماننے کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے قوانین کو بلا روک اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار آپ کے حق میں نکلتا ہے۔

جودھ پور کی مہاراجہ فیملی راٹھور راجپوت سے تعلق رکھتی ہے۔ راٹھور راجپوت اس علاقہ میں ۱۲۱۱ء میں آئے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب کہ سلطان محمد غوری نے قنوج کے مقام پر اُنہیں شکست راٹھور راجپوتوں کے تعلقات مغل سے بہت اچھے تھے۔ جودھ پور قدیم زمانہ میں دہلی۔ کی تجارتی شاہراہ پر قائم تھا اس لیے اُس کو کافی خوشحالی حاصل ہوئی۔

۱۹۴۷ء میں جب ریاست کا زمانہ ختم ہوا، اُس وقت مہاراجہ جودھ پور کے پاس کئی بڑے بڑے محل تھے۔ ان لوگوں نے ریاستی اقتدار سے محرومی پر شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے نئی تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے نئے حالات میں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی۔ کی ایک مثال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کئی محل کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا۔ مثلاً ان کا ایک محل ۳۷ کمروں پر مشتمل تھا۔ اُس کو نئی شکل دے کر ۹۸ کمروں کا ایک ہوٹل بنا دیا گیا۔ جودھ پور سے مسلم قیادت کی ایک انوکھی داستان وابستہ ہے۔ ۱۹۴۶ء میں جب یہ فیصلہ ہو گیا کہ برصغیر ہند کی تقسیم ہوگی اور یہاں انڈیا اور پاکستان دو الگ الگ ملک بنیں گے تو مسٹر محمد علی جناح جودھ پور آئے اور موجودہ مہاراجہ کے والد سے ملاقات کی۔ مہاراجہ نے ایک مسلم خاتون سے شادی

وہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے اندر نرم گوشہ (soft corner) رکھتے تھے۔ جودھ پور کی آباد میں مسلمان اگر چہ صرف ۲۰ فیصد تھے مگر جودھ پور ریاست کی سرحد پاکستان سے ملتی تھی۔ مسٹر محمد علی جناح نے جودھ پور کے مہاراجہ سے ملاقات کر کے اُن سے کہا کہ آپ پاکستان سے الحاق کرلیں۔ پاکستان میں مہاراجہ کی حیثیت سے آپ کے تمام حقوق محفوظ رہیں گے۔ اس واقعہ کی خبر سردار پٹیل کو ہوئی جو ریاستوں کے محکمہ کے وزیر تھے۔ وہ فوراً جودھ پور آئے اور مہاراجہ سے ملاقات کر کے اُنہیں راضی کر لیا کہ وہ انڈیا کے ساتھ الحاق کریں۔ چنانچہ مہاراجہ نے حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے انڈیا کے ساتھ الحاق پر دستخط کر دیئے۔

یہ واقعہ پاکستانی قیادت کی اُس غلطی کو بتاتا ہے جس کے نتیجہ میں انہوں نے ریاست کشمیر کو غیر ضروری طور پر کھو دیا۔ ریاست کشمیر میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت تھی اس لیے فطری طور پر وہ پاکستان کا حصہ ہو سکتا تھا۔ مگر پاکستان کی لیڈر شپ نے ناقابل فہم طور پر یہ کیا کہ اس نے اسی کے ساتھ تین اور ریاستوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا منصوبہ بنایا۔ جو ناگڑھ اور حیدر آباد اور جودھ پور۔ حالانکہ یہ سراسر غیر حقیقت پسندانہ بات تھی، کیوں کہ جونا گڑھ اور حیدر آباد اور جودھ پور میں ہندوؤں کی عظیم اکثریت آبادی تھی۔ اس لیے آبادی اور جغرافیہ دونوں اعتبار سے ان ریاستوں کا پاکستان کے ساتھ الحاق سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔

آبادی کے اصول پر الحاق کے اصول کو جب پاکستانی لیڈروں نے توڑنا چاہا تو فطری طور پر وہ دونوں فریقوں کے لیے ٹوٹ گیا۔ اب فطرت کا اصول ٹوٹ گیا اور اس کے بجائے ردّ عمل کا جذبہ غالب آ گیا۔ اس نا خوش گوار صورت حال کی ذمہ داری بلاشبہ یک طرفہ طور پر صرف پاکستانی لیڈروں

اس معاملہ میں پاکستانی لیڈر شپ کی غلطی یہ تھی کہ اُس نے قابل حصول اور ناقابل حصول کے فرق کو نہیں سمجھا۔ اُس نے ممکن کے ساتھ ناممکن کو بھی اپنے قبضہ میں لینا چاہا۔ چنانچہ پاکستانی لیڈر شپ کا انجام وہ ہوا جس کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے جو آدمی دو خرگوشوں کے پیچھے

دوڑے وہ ایک کو بھی نہیں پکڑ سکتا۔

ایک صاحب سے ہندوستان کے سیاست دانوں پر گفتگو ہوئی۔ وہ ہندوستان کے سیاست دانوں سے بہت نالاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے سیاسی لیڈر سب کے سب نکمے ہیں۔ ۵۵ سال بعد بھی وہ ملک کو ترقی نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ یہ بات کلی طور پر درست نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد پہلے مرحلہ میں ملک کو جو لیڈر ملے وہ بہت دیانتدار اور دیش بھکت تھے۔ مگر کوئی لیڈر قومی ترقی میں اعلیٰ کردار صرف اس وقت ادا کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر بیک وقت دو صفتیں ہوں ــــ کیریکٹر اور صحیح آئیڈیالوجی۔

بدقسمتی سے ہمارے فاؤنڈر لیڈروں میں بیک وقت یہ دونوں چیزیں موجود نہ تھیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نہرو اپنی دیش بھکتی اور اپنے کردار کے لحاظ سے بلاشبہ ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے بہت سے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جب کہ نہرو وزیر اعظم بن چکے تھے وہ دہلی سے باہر کسی سفر پر گئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ملک کا وزیر اعظم اسپیشل ہوائی جہاز سے سفر نہیں کرتا تھا۔ اس کے آنے جانے پر لمبی موٹر کیڈ (motorcade) بھی نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ ہی اس کے ساتھ سیکورٹی کا جتھا ہوتا تھا۔ واپسی میں نہرو کا جہاز جب دہلی ائر اسپیس پر پہنچا تو وہ ہوائی اڈہ پر اترنے کے بجائے فضا میں گردش کرنے لگا جس کو اصطلاح میں آربٹنگ (orbiting) یا سرکلنگ (circling) کہتے ہیں۔

اس پر نہرو کو تعجب ہوا۔ وہ پائلٹ کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ جہاز لینڈ کیوں نہیں کر رہا پائلٹ نے کہا کہ ائر پورٹ سے ہم کو یہ مسیج ملا ہے کہ پرائم منسٹر کی گاڑی ابھی ائر پورٹ نہیں پہنچی ہے اس لئے تم تھوڑی دیر کے لئے انتظار کرو۔ یہ سن کر نہرو غصہ ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں پیدل نہیں چل سکتا۔ تم فوراً جہاز کو لینڈ کرو۔ اس کے بعد جہاز نیچے اترا تو جواہر لال نہرو ہوائی اڈہ سے نکل کر پیدل اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ جواہر لال نہرو اپنی دیش بھکتی اور اپنے کردار کے اونچے

مرتبہ پر تھے۔ اس کے باوجود نہرو ایسا نہ کرسکے کہ وہ ملک کو ایک ایسی سمت دے سکیں جو ملک کے لئے بہتر مستقبل کا ضامن ہو۔

اس کا سبب یہ تھا کہ جواہر لال نہرو اگر چہ عملی اعتبار سے ایک باکردار آدمی تھے۔ مگر ان کی آئیڈیالوجی تخیلات پر مبنی تھی، نہ کہ حقائق پر۔ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے پورے معنوں میں ایک سوشلسٹ تھے اور تجربات بتاتے ہیں کہ سوشلزم ایک تخیلاتی رومانیت تھی، نہ کہ حقائق پر مبنی کوئی

کہا جاتا ہے کہ ایک سیاح ہندوستان آیا۔ یہاں وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرا اور لال قلعہ اور تاج محل دیکھ کر واپس چلا گیا۔ واپسی کے بعد اس نے لکھا کہ ہندوستان کے لوگ بہت خوش قسمت وہ جب زندہ رہتے ہیں تو لال قلعہ میں زندگی گزارتے ہیں ۔ اور جب مرتے ہیں تو تاج محل میں دفن ہوتے ہیں۔ جودھ پور آنے کے بعد اگر میں یہ کرتا کہ سی اول گسٹ ہاؤس میں ٹھہرتا اور پھر یہیں سے دہلی واپس چلا جاتا تو شاید میں سمجھتا کہ جودھ پور کے لوگ بہت خوش قسمت ہیں ۔ گھروں میں آرام کے ساتھ رہتے ہیں، عمدہ کھانے کھاتے ہیں، زندگی کے مسائل انہیں پیش ہی نہیں مگر میں جہاں بھی جاتا ہوں اپنے مزاج کے مطابق ، اس کو زیادہ سے زیادہ دیکھنے اور جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔

جودھ پور میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ جب میں جودھ پور کے اندرونی حصوں میں گیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک ایسی دنیا ہے جو سی اول گسٹ ہاؤس‘‘ سے بالکل مختلف ہے۔ راستے ہیں، چھوٹے مکانات ہیں۔ بجلی، پانی اور صفائی کے مسائل ہیں ۔ یہاں ایسے لوگ ہیں جو کم آمدنی کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، وغیرہ۔

میرے ایک ساتھی نے مجھ سے سوال کیا کہ دنیا میں امیری اور غریبی کا جو فرق ہے وہ کیوں اسلام میں اس کو کس طرح بیان کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کے مطابق ، امیری اور غریبی دونوں ہی یکساں ہیں۔ کیوں کہ دونوں ہی یکساں طور پر امتحان (test) کے پرچے ہیں۔ ایک طالب علم

جو امتحان کا پرچہ کر رہا ہو اس کے لئے یہ ایک اضافی بات ہے کہ اس نے اپنے تین گھنٹے ائر کنڈیشنڈ ہال میں گزارے یا ایسے ہال میں جو ائر کنڈیشنڈ نہیں۔

ایک اور لحاظ سے دیکھیے تو آرام کی زندگی کے مقابلہ میں مشقت کی زندگی زیادہ بڑی نعمت مشقت کی زندگی کا یہ فائدہ ہے کہ وہ آدمی کو کٹ ٹو سائز (cut to size) کر کے حقیقت پسند وہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) اور خود احتسابی (introspection) جیسی اعلیٰ صفات پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ امیری میں جئیں وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (over-estimation) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر آنا اور خود پسندی جیسی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

تاہم امیری اور غریبی دونوں میں سے کوئی بھی ابدی حالت نہیں۔ اس دنیا میں ہر روز یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ ایک غریب آدمی امیر بن جاتا ہے اور ایک امیر آدمی غریب ہو جاتا ہے۔ نہ پیدائش سے امیر ہوتا ہے اور نہ پیدائش سے غریب۔ ایک غریب آدمی محنت کر کے امیر بن جاتا ہے اور ایک امیر آدمی کاہلی کر کے غریبی کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے۔ یہ آدمی کی اپنی کوشش کا مسئلہ ہے، نہ کہ تقدیر کا مسئلہ۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: و آتاکم من كل ما سألتموه (ابراہیم ۳۴) یعنی اللہ نے انسان کو وہ ساری چیزیں دے دیں جن کی ضرورت اسے دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے تھی۔ زمانہ کی سائنسی دریافتیں اور ایجادیں قرآن کے اس بیان کی عملی تصدیق ہیں۔ آیت کے نزول کے ۱۴ سوسال بعد اس کی یہ غیر معمولی تصدیق قرآن کے کتاب الہی ہونے کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو چیزیں قرآن کے اس بیان کی تصدیق بن کر ظاہر ہوئی ہیں انہی میں سے ایک کمپیوٹر بھی ہے۔ کمپیوٹر کے نظام میں جس چیز کو انٹرنیٹ (internet) کہا جاتا ہے اُس کا ایک چھوٹا سا تجربہ مجھے اپنے موجودہ سفر کے دوران ہوا۔ مجھ کو جب جودھ پور کا سفر پیش آیا تو میں نے مسٹر خالد انصاری سے کہا کہ آپ انٹرنیٹ سے جودھ پور کے بارے میں معلومات نکال کر دے دیں۔ ان کا تعلق اسی شعبہ

انہوں نے اپنے کمپیوٹر پر جودھ پور کا لفظ ٹائپ کیا اور اس کے بعد اس کا مخصوص سوئچ دبایا اور اچانک ان کے کمپیوٹر نے ”عالمی لائبریری‘‘ سے لے کر جودھ پور کے بارے میں ٹائپ شدہ ۱۳ صفحات کا ایک پورا معلوماتی دفتر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اس میں جودھ پور کی تاریخ، اس کا جغرافیہ، اور اس سے متعلق دوسری معلومات تفصیل کے ساتھ موجود تھیں ۔

انٹرنیٹ کے ذریعہ جودھ پور کے بارے میں جو معلومات مجھے حاصل ہوئیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ موجودہ شہر ۱۴۵۹ء میں مارواڑ کی راجدھانی کے طور پر بنایا گیا ۔ اُس کے بانی راؤ جودھا تھے جن کا دعویٰ تھا کہ وہ رام کی ذریت ہیں :

The former capital of Marwar state, was founded in 1459 by Rao Jodha who claimed descendant of Lord Ram. انسانی دماغ بھی زیادہ پیچیدہ قسم کا ایک زندہ کمپیوٹر ہے۔ اس کا تجربہ بھی مجھے اسی سفر کے دوران پیش آیا۔ میں نے جودھ پور کا سفر کیا تو میرے ذہن میں یہ نہ تھا کہ مجھے اس کا سفر نامہ لکھنا ہے۔ سفر نامہ کے لیے میرا طریقہ یہ ہے کہ یا تو سفر کے دوران ساتھ ساتھ لکھتا رہتا ہوں یا مختلف تجربات ومشاہدات کو اشارات کی صورت میں لکھ لیتا ہوں۔ اور پھر واپسی کے بعد اُن کو تفصیلی صورت میں مرتب کرتا ہوں ۔ مگر جودھ پور کے تین روزہ سفر میں میں نے نہ سفر نامہ مرتب کیا اور نہ اشارات لکھے۔ سفر کی باتوں کو ذہن میں بھی شعوری طور پر محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

سفر سے واپسی کے بعد ایک اتفاقی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ مجھے جودھ پور کا سفر نامہ لکھنا چاہئے ۔ یہ میری پوری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ میں ایک سفر نامہ کو تحریری یادداشت کے بغیر مرتب کرنے کی کوشش کروں۔ اب میں نے ایک نیا تجربہ کیا۔ میں اپنے ساتھی برادرم ندیم احمد کے ساتھ اس طرح بیٹھ گیا کہ میں بولتا جاتا تھا اور وہ اُس کو لکھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ تقریباً ۴۰ صفحہ کا پورا ایک سفر نامہ تیار ہو گیا۔

اس تجربہ کے ذریعہ ایک نئی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ جیسا کہ نفسیاتی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے، انسان کا شعور (conscious mind) اگر کسی بات کو سننے اور دیکھنے کے باوجود نہ پکڑے تب بھی اس

کا تحت شعور (sub-conscious mind) اُس کو پوری طرح محفوظ کر لیتا ہے۔ اور کسی خاص موقع پر اُس کو دہرا سکتا ہے۔ میرے ساتھ یہی پیش آیا۔

جب میں جودھ پور کا سفرنامہ لکھوانے لگا تو میرے ذہن کا کمپیوٹر اسی طرح معلومات مجھے یاد دلانے لگا۔ یہاں تک کہ چند دن میں پورا سفر نامہ تیار ہو گیا۔ جودھ پور راجستھان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے (پہلا شہر جے پور ہے)۔ اس کا طرز تعمیر قدیم و جدید کا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کا چتامن قلعہ (مہران گڑھ) ١۴۵٩ء میں بنایا گیا تھا۔ قلعہ میں ایک میوزیم بھی واقع ہے۔ یہاں کے مشہور امید بھون پیلیس کی بنیاد ۱۹۲۹ء میں رکھی گئی۔ ۱۹۴۳ء میں وہ بن کر تیار ہوا۔ ۱۹۴۴ء سے وہ راجہ فیملی کے لوگوں کی قیام گاہ ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جودھ پور کے مقابلہ میں حیدر آباد بہت بڑی ریاست تھی۔ جودھ پور گویا ایک شہر تھا اور حیدر آباد ایک پورا ملک۔ مگر جودھ پور آج بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ باقی ہے اور حیدر آباد کی ریاستی حیثیت ختم ہوگئی۔

دونوں میں اس فرق کا سب سے بڑا سبب قیادت کا فرق ہے۔ حیدر آباد میں قاسم رضوی جیسا غیر حقیقت پسند لیڈر پیدا ہوا جس نے قوم کو ایک ناقابل حصول نشانہ پر کھڑا کر دیا، یعنی آزاد ریاست۔ دوسری طرف جودھ پور کے مہاراجہ نے حقیقت پسندی کا انداز اختیار کیا۔ انہوں نے ممکن کے دائرہ میں اپنے مستقبل کی نئی منصوبہ بندی کی اور وہ پوری طرح کامیاب رہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۱۹۴۷ء میں نئی دہلی نے ریاست حیدر آباد کو داخلی اٹانومی کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "آزاد حیدر آباد" کا خیال چھوڑ دے۔ ریاست حیدر آباد کے ذمہ داروں نے اگر اس پیش کش کو قبول کر لیا ہوتا تو یقیناً آج اُس کی حیثیت جودھ پور سے بہت زیادہ بہتر ہوتی۔

۱۲ مئی ۲۰۰۲ء کی صبح کو جودھ پور سے واپسی ہوئی۔ واپسی کے اس سفر میں دو آدمیوں کا ساتھ رہا__ بابو لال شرما اور نیتن ملے۔ ان لوگوں سے راستہ میں مختلف قسم کی باتیں ہوئیں۔ بابو لال شرما کا تعلق گاندھی پیس فاؤنڈیشن سے ہے۔ اور نیتن لھے کا تعلق آرٹ آف لیونگ سے۔ دونوں کے تجربہ

کا میدان الگ الگ ہے۔ سفر میں جو فائدے ہیں اُن کا خاص پہلو یہ ہے کہ نئے نئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور اُن کے ذریعہ مختلف شعبوں کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ تاہم معلومات حاصل کرنے کا خاص راز یہ ہے کہ آدمی سوال کرنا جانتا ہو۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں آتا ہے کہ: کان يتعلم من كل أحد ۔ میں عرصہ تک سوچتا رہا کہ حضرت عمر ہرایک سے کس طرح علم سیکھتے تھے۔ اس کا جواب مجھے یہ ملا کہ وہ ہرایک سے اُس کے دائرہ کا سوال کرتے تھے۔ اور اس طرح سوالات کر کے ہرایک کو یہ موقع دیتے تھے کہ وہ اپنی معلومات بیان یہی طریقہ میں نے خدا کے فضل سے اختیار کیا ہے۔ ایسے مواقع پر میں یہ کرتا ہوں کہ لوگوں سے پوچھوں اور اُن کی باتوں کو سُنوں۔

واپسی کا سفر بھی دوبارہ جٹ ایرویز کے ذریعہ ہوا۔ دوران پرواز انگریزی اخبار ایشین ایج (The Asian Age) کا شمارہ ۱۲ مئی ۲۰۰۲ء دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک دلچسپ خبر اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ اجودھیا کی ایک ہندو تنظیم نے یہ پیش کش کی ہے کہ اگر مسلمان بابری مسجد کو جگہ بدل کر دوسرے مقام پر بنانے کے لیے راضی ہو جائیں تو وہ بھی رام مندر کو موجودہ متنازعہ جگہ کے بجائے دوسرے مقام پر بنانے کے لیے راضی ہو سکتے ہیں: Samiti offers to shift Ram Temple Lucknow: Sri Ram Janmbhoomi Punaruddahn Samiti, a party in the Ram Janmbhoomi title deed case, on Saturday said it was ready to shift the Ram Temple at Ayodhya from the disputed site if the Muslims too agreed to build the mosque elsewhere. Samiti leader Anand Swarup said here that Ram Temple issue should not be exploited for creating discord among Hindus and Muslims. (12 May, 2002)

۱۲ مئی ۲۰۰۲ کو دو پہر سے کچھ پہلے ہمارا جہاز دہلی پہنچ گیا۔ دہلی ایر پورٹ پر بظاہر تاخیر کی کوئی وجہ نہ تھی مگر جٹ ایرویز کے عملہ نے ناریل کی واپسی میں دیر کی۔ حالانکہ جے پور ایر پورٹ پر انہوں نے کہا تھا کہ ناریل آپ کو دہلی ایر پورٹ پر پہنچتے ہی مل جائے گا۔ قانون کو دوسرے کے اوپر چلانا بہت آسان ہے، مگر قانون کو خود اپنے اوپر چلانا بہت زیادہ مشکل۔

Printed page