Al-Risala · September 2002

برطانیہ کا سفر

Al-Risala, September 2002, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

گلوبل کراس روڈس (Global Crossroads) کے زیر اہتمام لندن میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی ۔ اس کے دعوت نامہ پر دہلی سے برطانیہ کا سفر ہوا۔ اس سلسلہ میں لندن اور برمنگھم اور مانچسٹر میں کچھ وقت گزرا۔ یہ سفر ۱۶ ستمبر ۲۰۰۱ کو شروع ہوا اور ۲۶ ستمبر کو ختم ہوا۔ ۱۶ ستمبر کی رات کو میں دہلی ہوائی اڈہ پر پہنچا۔ آج یہاں غیر معمولی بھیڑ تھی۔ مگر یہ بھیڑ مسافروں کی نہ تھی۔ اس میں بڑی تعداد یا تو پولیس والوں کی تھی یا ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی جو اپنے عزیزوں کو پہنچانے کے لیے یہاں آئے تھے۔ آج ائر پورٹ پر چیکنگ کا کام بہت زیادہ بڑھا دیا گیا تھا۔ حتی کہ چیکنگ اور سیکورٹی کے غیر معمولی انتظام کی بنا پر جہاز ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر دہلی سے روانہ ہوا۔ ائر پورٹ پر یہ غیر معمولی صورت حال ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کے واقعہ کی بنا پر تھی جو امریکہ کے دو شہر نیویارک اور واشنگٹن میں پیش آیا۔ اس دن ہائی جیکنگ کا ایک نیا واقعہ ہوا جس کو ہائی اٹیکنگ کہا جا سکتا کچھ لوگوں نے امریکہ کے چار جہازوں کو ہائی جیک کر لیا اور اس کو اڑاتے ہوئے لے جا کر نیویارک اور واشنگٹن میں وہاں کی اونچی عمارتوں سے ٹکرا دیا۔ اس واقعہ کی کافی تفصیل میڈیا میں آچکی ہے۔ آج اس مسئلہ پر میرا ایک انٹرویو انگریزی روزنامہ ٹائمس آف انڈیا (۱۶ ستمبر ۲۰۰۱) میں شائع ہوا جس کے ساتھ میری تصویر بھی شامل تھی۔ اس انٹرویو کا عنوان تھا۔ امریکی حملہ کا نتیجہ الٹا ہوگا: US aggression would be counter productive اس انٹرویو میں میں نے مختلف باتیں بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ نفرت کا بم تمام بموں سے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی سپر پاور بھی اس سے محفوظ یہ انٹرویو ان الفاظ پر ختم ہوا تھا۔ نفرت ایک سپر بم ہے جس سے امریکہ بھی نمٹ نہیں سکتا: Hatred is a super bomb which even America can't handle. کچھ مسافروں نے آج کے با تصویر انٹرویو کو پڑھا تھا چنانچہ فطری طور پر وہ بعض لوگوں سے

گفتگو کا موضوع بن گیا۔ ایک مسلمان مسافر جو امریکہ کے مخالف تھے اُن سے میں نے کہا کہ امریکی رپورٹ کے مطابق، ۱۱ ستمبر کا یہ واقعہ مسلمانوں نے انجام دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس وقت مختلف ملکوں کے مسلمان ۶ ملین سے بھی زیادہ تعداد میں امریکہ میں رہتے ہیں۔ میں بارہ بار امریکہ گیا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ وہاں یہ مسلمان کسی بھی مسلم ملک سے زیادہ اچھی حالت میں رہتے ہیں۔ دوران معلوم ہوا کہ خود مذکورہ مسافر کے کچھ قریبی عزیز امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ایسی حالت میں آپ لوگ کیوں امریکہ سے نفرت کرتے ہیں۔ اس طرح کی اور کئی باتیں میں نے کہیں جن کا جواب دلیل کی زبان میں ان کے پاس نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے بے دلیل ہو کر کہا کہ اس معاملہ میں میرے جذبات میری منطق پر حاوی ہو گئے ہیں:

Printed page