What your opponent really wants.
Al-Risala, September 2002, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حقیقت کو جانے بغیر کوئی گفت و شنید کامیاب گفت و شنید نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے حریف کی خواہش کو اپنی موافقت میں استعمال کر سکیں۔ ہمارا جہاز لندن ائیرپورٹ پر اتراتواس وقت ستمبر ۲۰۰۱ کی ۷ تاریخ تھی اور مقامی اعتبار سے صبح کے ۸ بجے کا وقت۔ کچھ دیر ائیر پورٹ پر قیام کرنے کے بعد بذریعہ روڈ آگے کے لئے روانگی تقریباً دو گھنٹہ سفر کرنے کے بعد میں ایش ڈاؤن پارک ہوٹل پہنچا۔ کانفرنس کے دوران میرا قیام اسی ہوٹل کے کمرہ نمبر ۶۶ میں تھا۔ کانفرنس کی کارروائیاں بھی اسی ہوٹل کے ہال میں ہوئیں۔ ۲۰ ستمبر ۲۰۰۱ تک میرا قیام اس ہوٹل میں رہا اس کے بعد یہاں سے بذریعہ روڈ برمنگھم اور مانچسٹرگیا۔ ایش ڈاؤن پارک ہوٹل ۱۸۶ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے چاروں طرف دور دور تک سرسبز علاقے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ ۱۸۶۷ء میں ایک بڑے جاگیردار نے اس کو مینر ہاؤس (Manor House) کے طور پر بنایا تھا۔ ہندوستانی اصطلاح میں اس کو ایک بڑا فارم ہاؤس کہہ مختلف بلڈنگوں کے علاوہ اس میں ایک بڑا چرچ بھی بنایا گیا تھا۔ یہ مقام مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتا رہا یہاں تک کہ ۱۹۹۳ میں اس کو ایک لگژری ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا عمارتی ڈھانچہ مکمل طور پر اپنی قدیم حالت میں باقی رکھا گیا ہے۔
ساتھ اس کی تزئین و تجدید کر کے اس کو پورے معنوں میں جدید ہوٹل کا نمونہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس دراصل ایک گلوبل ڈائیلاگ کے طور پر کی گئی تھی۔ اس کا موضوع یہ تھا کہ پرامن دنیا کی تعمیر کس طرح کی جائے۔ اس میں مختلف ملکوں اور مختلف مذہبوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ تین دن تک اس موضوع پر ڈسکشن ہوتا رہا۔ میری تقریر ۱۸ ستمبر کو تھی۔ میں نے اپنی تقریر کے ساتھ موضوع سے متعلق دو پمفلٹ پیش کئے جو اس کانفرنس کے لئے تیار کیے گئے تھے۔ یہ دونوں پمفلٹ کانفرنس کے شرکاء کے درمیان تقسیم کئے گئے۔ ان کے ٹائٹل یہ تھے: