What is Colour Blindness?
Al-Risala, January 2002, pp. 42–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ رنگ کا اندھا پن کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آنکھ میں بنیادی طور پر ۳ رنگوں کو دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ان ۳ رنگوں کے امتزاج سے مزید رنگ دکھائی اگر کسی رنگ کو دیکھنے والی نس کسی وجہ سے کام نہ کرے تو آدمی کو وہ رنگ دکھائی نہیں اسی صورت حال کو رنگ کا اندھا پن کہا جاتا ہے:
On the refine there are three types of colour-sensitive cones each possessing its own photosensitive substance, one type responding to red, another to green and yet another to violet light. These are primary colours whose combinations makes different colours. The different colour sensations are produced by stimulation of various combinations of these receptors. When these cones become insensitive towards some colour, that colour is unable to stimulate that particular cone and the eye can not identify that colour. This state is known as colour blindness. Colour blindness was first described by Joseph Huddart in 1777 at Maryport. ڈھاکہ سے کلکتہ تک ویبان بنگلہ دیش کے ذریعہ سفر ہوا۔ اور کلکتہ سے دہلی تک جٹ ائرویز کے ذریعہ۔ دونوں کے اوقات میں اتنا زیادہ فرق تھا کہ مجھ کو تقریباً چھ گھنٹہ کلکتہ ائرپورٹ پر مگر یہ وقت نہایت آسانی سے گزر گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اس وقت کے لئے ایک ضروری مشغلہ تلاش کر لیا۔ اور وہ سفر نامہ کو مرتب کرنا تھا۔ سفر کے دوران میں نے یادداشت کی صورت میں اشارے لکھ لئے تھے مگر سفر نامہ مرتب نہیں ہوا تھا۔ ان اشاروں کی مدد سے سفر نامہ تیار ہوتا رہا۔ اور اس طرح انتظار کے یہ لمبے لمحات نہایت آسانی کے ساتھ گزر گئے۔ ۳ جون ۲۰۰۱ کی شام کو ۸ بجے کلکتہ سے دہلی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر جٹ ائرویز کی فلائٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ سفر ۲ گھنٹہ سے کم مدت کا تھا۔ قدیم زمانہ میں دہلی اور کلکتہ کے درمیان کا سفر ندیوں کے ذریعہ کشتی پر طے ہوتا تھا۔ اس کے بعد ٹرین کے ذریعہ یہ سفر طے ہونے
اب ہوائی جہاز کی ایجاد نے اس سفر کی مدت بہت گھٹا دی ہے۔ تاہم یہ آخری حد نہیں ۔ اس دنیا میں ایسا سفر بھی ممکن ہے جس میں آغاز و اختتام کا فرق سرے سے ختم ہو جائے ۔ قیامت کے درمیان فاصلہ کے سوال کو اسی مثال کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم لوگ دہلی پہنچے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔
۳۱ مئی ۲۰۰۱ کو جب کہ میں بنگلہ دیش گیا تب بھی نظام الدین میں ہمارے ٹیلی فون ناکارہ (dead) ہورہے تھے۔ ۲ جون ۲۰۰۱ کو جب میں بنگلہ دیش سے واپس ہو کر دوبارہ نظام الدین پہنچا تب بھی یہاں کے ٹیلی فون ناکارہ پڑے ہوئے تھے۔ میں نے معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ بارش کی وجہ سے یہاں کے ٹیلی فون خراب ہو گئے ہیں۔ مگر جب میں بنگلہ دیش میں تھا تو وہاں دہلی سے زیادہ بارشیں ہو رہی تھیں مگر وہاں کے ٹیلی فون اچھی طرح کام کر رہے تھے۔ ہم نے ڈھا کہ میں بہت سے لوگوں سے ٹیلی فون سے باتیں کیں اور دوسروں کے ٹیلی فون ہمارے پاس آئے مگر کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔
اس فرق کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ کرپشن ہے۔ ہندوستان میں کرپشن اپنی آخری حد تک بڑھ چکا ہے۔ اسی کا ایک نتیجہ خراب ٹیلی فون کی شکل میں یہاں کے عوام کو مل رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں کرپشن نسبتاً کم ہے، اس لئے وہاں ٹیلی فون اور دوسری چیزوں میں وہ بگاڑ دکھائی نہیں دیتا جو ہندوستان میں دکھائی دیتا ہے۔
واپسی کے بعد ۱۶ جون ۲۰۰۱ کو یہ خبر آئی کہ ڈھاکہ کے قریب نرائن گنج میں حکمراں عوامی لیگ کے دفتر میں ایک طاقت ور بم پھٹا۔ تقریباً ۵۲ آدمی ہلاک ہو گئے اور ۱۰۰ سے زیادہ باہمی ٹکراؤ اور ہلاکت کا یہ سلسلہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد شیخ مجیب الرحمن کے قتل (۱۹۷۵) سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔
آزادی دراصل گدی کی لڑائی کا دوسرا نام ہے ۔ سیاسی گدی کو پہلے دوسروں سے چھینا، اور پھر اس کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے چھین جھپٹ شروع کر دینا۔
کسی سیاسی تحریک کی کامیابی کا راز یہ نہیں ہے کہ وہ قائم شدہ حکومت کو ختم کر دے۔ بلکہ اس کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ جب نئی حکومت بنے تو تحریک کے لیڈر اس پر راضی ہو جائیں کہ وہ یہاں بھی اسی اجتماعی سبق کو دہرائیں گے جس کو مسلمان روزانہ مسجدوں میں باجماعت نماز کی صورت میں یعنی اپنے میں سے ایک کو امام مقرر کر کے بقیہ تمام کا مقتدی بن جانا۔ ایک کو آگے کر کے دوسرے تمام لوگوں کا پیچھے کی صفوں میں چلے جانا۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں سیاسی اقدامات کے قصے تو بہت سنائی دیتے ہیں مگر مذکورہ قسم کی سیاسی پسپائی کا واقعہ کوئی ایک بھی نہیں۔
دشمن سے مقابلہ کے وقت سیاسی فتح مطلوب ہوتی ہے۔ مگر جب دشمن زیر ہو جائے اور خود اپنے لوگوں سے معاملہ کرنے کا وقت آ جائے تو اس وقت برعکس طور پر سیاسی پسپائی مطلوب ہو جاتی ہے۔ الرسالہ ہندی اب انشاء اللہ جنوری ۲۰۰۲ سے ممبئی سے مستقل شائع ہوگا۔ حضرات سے گزارش ہے کہ الرسالہ ہندی کا سالانہ زر تعاون بذریعہ M.O./ DD/ Cheque الرسالہ ہندی کے نام (غیر مقامی چیک کے لئے 50 روپے مزید) مندرجہ ذیل پتہ پر روانہ فرمائیں: سالانہ: -/110 روپے E-4, Marian House, 29th Road, T.P.S. III Opp. Waterfield Road, Bandra (W), Mumbai-400 050 Tel. No: 6429428 Fax No: 6516171