سوال و جواب
Al-Risala, September 2002, pp. 32–47
By Maulana Wahiduddin Khan
محترمہ بینکرافٹ (Sarah Bincroft) لندن کے انگریزی اخبار انڈیپنڈنٹ (Independent) کی اسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ اپریل ۲۰۰۲ء کے آخری ہفتہ میں وہ نئی دہلی میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے کچھ سوالات لکھ کر دیئے۔ یہ سوالات مسٹر محمد خالد انصاری (ہندوستان ٹائمس) نے ہمارے پاس روانہ کئے ہیں۔ یہ سوالات انہی کے الفاظ میں صفحہ کے نیچے درج کیے جا رہے ہیں۔ اُن کے سوالات کا جواب جو انہیں بذریعہ ای میل بھیجا گیا ، اُس کو یہاں نمبر وار نقل کیا جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں انسان کے وجود کا مقصد کیا ہے، اس سوال کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ قرآن کے مطابق ، خدا نے ایک آئیڈیل دنیا بنائی جس کو جنت (پیراڈائس) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ابدی اور مکمل دنیا ہے جہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جو وہ چاہتا ہے۔ موجودہ مختصر دنیا وہ مقام انتخاب ہے جہاں اُن افراد کو چنا جا رہا ہے جو موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو استثنائی طور پر لامحدود استعداد
(unlimited capacity) رکھتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ مصروف یا سب سے زیادہ کامیاب انسان بھی اپنے ذہن (mind) کا بمشکل دو فیصد حصہ کو استعمال کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا اپنی محدودیت کی بنا پر اتنی گنجائش ہی نہیں رکھتی کہ جہاں کوئی آدمی اپنی پوری استعداد کے ساتھ جی سکے۔ اس مطالعہ کے مطابق، انسان کی استعداد اور قابل حصول دنیا میں ایک تضاد پایا جاتا ہے۔ تضاد اس بات کا ایک قرینہ ہے کہ موجودہ دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا ہو جہاں انسان اپنے لیے پوری تکمیل (fulfilment) پاسکے، جہاں آدمی کے لیے اپنی پوری استعداد کے ساتھ جینا ممکن ہو۔ یہ گویا اس بات کی ایک نفسیاتی شہادت ہے کہ آج کی محدود دنیا کے علاوہ ایک لامحدود اور کامل دنیا موجود ہے، اسی دوسری دنیا کا نام جنت ہے۔
اس تخلیقی نقشہ کے مطابق، موجودہ دنیا کی حیثیت گویا انتخاب کا ایک ابتدائی مقام ہے۔ وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنے قول وعمل سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔
موت کے بعد کیا ہوتا ہے، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان پر جو موت واقع ہوتی ہے وہ اُس کے موجودہ جسم پر واقع ہوتی ہے، اُس کی روح پر نہیں۔ انسان ایک ایسی ہستی ہے جو تغیر پذیر جسم کے اندر ایک غیر تغیر پذیر چیز کی حیثیت رکھتی ہے: personality is changelessness in change. اسلام کے مطابق، جب کوئی انسان مرتا ہے تو وہ اپنے موجودہ مادی جسم کو چھوڑ کر اگلی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ نئے اور زیادہ بہتر جسم کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رہ سکے۔ بھنور (whirlpool) کا نظریہ کچھ فلسفیوں کا ایک خیالی نظریہ ہے۔ اسلام نے زندگی کا جو تصور دیا ہے اُس میں ایسا کوئی مرحلہ نہیں۔ اسلام کے مطابق، ایسا نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ساری انسانی روحیں بھنور کی مانند کسی ایک جگہ عالم پریشانی میں اکٹھا ہو رہی ہوں۔ مطابق، ہر انسان کا تشخص الگ ہے۔ ہر انسان اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔ ہر انسان موجودہ دنیا
میں اپنے قول و عمل کے ریکارڈ کے مطابق، اپنی ایک بُری یا اچھی شخصیت بناتا ہے۔ اسی کے مطابق، اگلی دنیا میں اُس کا اچھا یا بُرا انجام ہونے والا ہے۔ اچھے انجام والے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور بُرے انجام والے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔
اسلام کا تصور حیات فلسفہ اور موجودہ مذاہب دونوں سے الگ ہے۔ اسلام کا تصور تمام تر امتحان(test)کے تصور پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک قسم کی تربیت گاہ ہے۔ آدمی کو آزادانہ اختیار دے کر یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ یہاں کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ منفی واقعات کا مثبت جواب دے۔ وہ ناموافق تجربات کے باوجود بلند کرداری کا ثبوت دے۔ وہ وقتی جذبات سے غیر متاثر رہ کر مستقبل کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ۔ وہ وقتی داعیات سے غیر متاثر رہ کر ابدی حقیقتوں میں جینے کا ثبوت دے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنی اَنَا کو خدا کے آگے جھکا وہ خود پسندی کی زندگی گزارنے کے بجائے خدا رخی زندگی (God oriented life) وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کو اپنا مقصد حیات بنائے۔ آپ نے اپنے مطالعہ کے لیے کچھ کتابیں دریافت کی ہیں۔ اسلام کو سمجھنے کے لیے آپ کو قرآن اور حدیث رسول کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ قرآن اور حدیث کے علاوہ موجودہ زمانہ میں بہت سی کتابیں اسلام کے تعارف اور تشریح میں لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک راقم الحروف کی کتاب ہے جس کا نام یہ ہے: Islam Re-discovered گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک کے مسلمان ذات و برادری اور مسلکی اختلافات سے یکسر کنارہ کش ہو کر اور متحد ہو کر کوئی دائمی لائحہ عمل تیار کریں۔ مسلم علماء، لیڈر، دانشور اور حکومت کے اندر خدمات انجام دینے والے سر جوڑ کر بیٹھیں ۔ مغلوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ تمام مسلمانوں کو انصاف کی آواز بلند کرنی چاہئے۔ جن لوگوں کو اللہ نے لائق و فائق بنایا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتے ہیں تو قیامت کے دن سخت جواب دہ ہوں گے
اور انہیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ کیا کم از کم ہم آئین کے تحت بھی ایسا کرنے کے اہل نہیں (محبوب الرحمن پھلواری شریف)۔
آپ کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان متحد ہو کر آئین کے مطابق اپنی آواز بلند کریں، اس سے ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آپ کو یاد نہیں کہ یہ کام بار بار کیا جا چکا ہے اور ہر بار نا کام ہوا چونکہ ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت کے نام پر برصغیر کے تمام مسلمان متحد ہو گئے، مگر اس اتحاد کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا غلغلہ بلند ہوا اور دوبارہ برصغیر ہند کے تمام مسلمان اُس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے، مگر یہ اتحاد بھی عملاً بے نتیجہ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت قائم ہوئی۔ اس مجلس میں بھی ہر طبقے کے مسلمان شریک ہو گئے مگر اس اتحاد کے باوجود مسلمانوں کی حالت جہاں پہلے تھی وہیں آب بھی اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ قائم ہوا مگر یہ اتحاد بھی وقتی ہنگاموں کے بعد سراسر بے نتیجہ رہا، وغیرہ۔
اصل یہ ہے کہ متحد ہو کر آواز بلند کرنا سرے سے کوئی کام ہی نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کو عام کیا جائے، اُن کو با شعور بنایا جائے۔ مسلمانوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ اپنی داخلی اصلاح کر کے اپنے آپ کو مستحکم بنائیں۔ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ زمانے کو سمجھیں اور حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ ہمارے مسئلے کا حل مثبت عمل میں ہے، نہ کہ متحد ہو کر احتجاج کرنے میں۔
الرساله جون ۲۰۰۲ میں آپ کا مضمون اصل سبب جہالت پڑھا۔ میرے نزدیک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں کے اوپر جو کچھ بیت رہا ہے اس کا اصل سبب صرف جہالت ہے۔ آپ کی اس قسم کی
بے موقع تشریحات سے آپ کے مخالفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آپ کو غیر ضروری طور پر بدنام ورنہ آپ کی مثبت فکر کے نتائج خاطر خواہ برآمد ہو سکتے تھے۔ کسی بھی تبصرے کے وقت حالات کا تناظر رہنا چاہئے۔ یک عالم دین اور ایک مصلح کی حیثیت سے آپ کے لیے مقام غور و فکر تھا کہ ایسے نازک حالات میں کس قسم کی بات کی جائے کہ مسلمانوں کو اپنے زخم خوردہ دلوں پر کوئی پھاٹا محسوس مخصوص حالات کے کچھ مخصوص تقاضے بھی ہوتے ہیں جن کو ملحوظ رکھنا علماء کا ہی تو کام ہوتا ہے۔
اس معاملہ میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی دل پسند باتیں کہہ کر ان کے درمیان مقبولیت حاصل کی جائے ۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بتایا جائے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق ، اُن کے مسائل کا حل کیا ہے ۔ گہرے مطالعہ کے بعد ہم نے یہ جانا ہے کہ قرآن و سنت کی رہنمائی تمام تر احتساب خویش پر مبنی ہے، نہ کہ احتساب غیر پر۔ دوسروں کے اوپر ذمہ داری ڈالنا غیر اسلامی طریقہ ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اسلامی طریقہ۔
مکی دور میں تیرہ سال تک رسول اور اصحاب رسول کو ہر طرح ستایا گیا۔ اس معاملہ میں خدا کی طرف سے جو ہدایت دی گئی وہ صرف یہ تھی کہ تم اُن کی ایذاؤں پر صبر اور اعراض کرو (ابراهیم (۱۲) غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو قرآن میں خود مسلمانوں سے کہا گیا کہ تم اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرو (آل عمران (۱۵۲) ۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مشرکین کی جارحیت کا شکار ہونا پڑا۔ وقت بھی یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی۔ (التوبہ ۲۵) حدیبیہ کے موقع پر مشرکین نے شدید حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا مگر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ رد عمل سے بچتے ہوئے ایک طرفہ طور پر متقیانہ روش اختیار کریں اور مشرکین کی شرائط پر صلح کر کے مدینہ واپس چلے جائیں (الفتح ۲۶)۔ قرآن و سنت کا مطالعہ یقینی طور پر بتاتا ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں اسلام کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ فریق ثانی کی سازشوں کا انکشاف کیا جائے ۔ شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کر کے یہ ثابت کیا
جائے کہ سارا قصور صرف فریق ثانی کا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ سرتا سر مظلوم اور بے قصور ہیں۔ اس قسم کی روش قومی شریعت میں درست ہو سکتی ہے مگر وہ خدائی شریعت کے مطابق، سراسر بے معنی ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق، کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ اپنے حصے کی غلطی کو معلوم کیا جائے اور اس کی اصلاح کی جائے۔ مسئلہ کا حل اپنی غلطی کی اصلاح میں ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتیوں کا اعلان کرنے میں۔ اسلام کا نقطہ نظر نتیجہ رخی (Result Oriented) ہے۔ اسلام کا طریقہ دل کی بھڑاس نکالنا نہیں۔
الرساله مئی ۲۰۰۲ (صفحہ ۲۶) میں آپ نے لکھا ہے کہ "اسلام کے مطابق‘‘ صرف قائم شدہ حکومت ہی کو اسلحہ کے استعمال کا حق ہے۔ غیر حکومتی ادارہ کو کسی بھی عذر کی بناء پر ہتھیار کے استعمال کا حق سوال یہ ہے کہ کسی مسلم گاؤں یا قصبہ میں اسلام دشمن عناصر اچانک حملہ کر کے ان کے معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی آبرو ریزی اور اُن کے مال و اسباب کا لوٹ کھسوٹ شروع کر دیں، ایسے وقت میں وہاں کے مسلمان کیا کریں ؟ آیا’’ ان تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئا ‘‘ پر عمل پیرا ہوں جسے الرسالہ نے ایسے مواقع کے لئے قرآنی اصول بتایا ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بہو بیٹی کی عزت و آبرو نیلام ہوتا ہو اور اپنے معصوم بچوں کے خون سے گھر بار نہاتا ہوادیکھتے رہیں یا ظالم کو ظلم و تعدی، جور و جفا، قتل و غارت گری سے روکنے کے لئے ہتھیار کا استعمال کریں ؟ (محمد اسحاق فیضی، کشن گنج، بہار)
الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ نیشنل وار کے بارے میں ہے، وہ ذاتی ڈیفنس کے بارے میں نہیں ہے۔ جب ملک یا قوم کو کسی کی طرف سے حملہ کا سامنا ہو تو اُس کے مقابلہ میں دفاعی جنگ کا حق صرف قائم شدہ حکومت کو ہے، عوام کو نہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے عوام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس قسم کے حملہ کا نام لے کر آزاد تنظیمیں بنائیں اور بطور خود مسلح جنگ شروع کر دیں۔ البتہ جہاں تک ذاتی
دفاع کا سوال ہے تو اُس کا حق بلاشبہ افراد کو حاصل ہے۔ تاہم یہ دفاع بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے ہونا چاہئے، نہ کہ مسئلہ میں مزید اضافہ کے لئے۔
اس سلسلہ میں دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اگر کسی گاؤں پر حملہ کریں تو اس معاملہ میں انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچ کر یہ جاننا چاہئے کہ یہ حملہ یک طرفہ طور پر بلا سبب ہوا ہے یا وہ کسی پیشگی کارروائی کے انتقام کے لیے ہوا ہے۔ اگر وہ انتقام کا معاملہ ہے تو اُس کا حقیقی حل یہ ہے کہ انتقام کے سبب کو دور کیا جائے۔ ورنہ عملاً یہ ہوگا کہ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام اور دوسرے انتقام کے بعد تیسرا انتقام لیا جاتا رہے گا، اور اصل مسئلہ صرف بڑھتا رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ جو مسلمان اللہ کے راستہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوگا اور اُس کو جنت میں جگہ ملے گی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلم ماں بھی جنت میں جائے گی جس نے ایسے شہید کو جنم دیا۔ (ترنم ریاض، نئی دہلی)
آخرت کا انعام کسی کو نسلی تعلق کی بنا پر نہیں ملتا۔ وہ ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتا ہے۔ اگر کسی ماں نے اپنے بیٹے کی دینی تربیت کے لیے محنت کی اور اُس کی محنت سے اُس کا بیٹا سچا دیندار بنا تو اس قسم کے عمل کا ثواب ضرور ماں کو پہنچے گا۔ مگر محض نسلی تعلق کی بنا پر کسی مرد یا عورت کو کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ شہادت کے سلسلہ میں عرض ہے کہ مسلمان کسی کو شہید کے لفظ سے پکاریں تو ایسا کرنے سے کوئی شخص شہید نہیں بن جائے گا۔ شہادت کا تعلق تمام تر نیت سے ہے۔ اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ صرف اللہ یہ جانتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں شہید کا درجہ پانے کا مستحق ہے۔ اسی لیے امام البخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الجہاد کے ایک باب کا عنوان (ترجمہ باب) ان الفاظ میں قائم کیا ہے : باب لا يقال فلان شهید (یہ نہ کہو کہ فلاں شہید ہے)۔ جلد ۶ صفحہ ۱۰۵۔
جب ہم لوگ قرآن کا متن پڑھتے ہیں تو اُس کی بہت ساری سورتیں شعر جیسی لگتی ہیں۔ سورہ الرحمن اور پارہ عم۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں ہم اور ہمارے جیسے لوگوں کی دماغی صفائی کے لئے الرسالة کے صفحات پر تشفی بخش جواب لکھ کر ہم حامیان الرسالة کو مطمئن کریں۔ (محمد نسیم احمد، مشرقی چمپارن، بہار)
شعر کا جو معروف اسلوب ہے، اُس کے مطابق ، قرآن شعر کی زبان میں نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن کی آیتوں میں ایک صوتی آہنگ ہے۔ چنانچہ ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ: Sound art in the Qur’an is par excellance. مگر یہ صوتی آہنگ ادب کی زبان میں موزونیت (rhythm) ہے، نہ کہ شعر۔ اسلام کے فکری غلبہ کے بارے میں آپ کی بات سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ تعارف اسلام کے سلسلہ میں سائنٹفک انداز تحریر جو آپ کی تحریروں میں ملتا ہے اُسے حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی۔ امید ہے کہ ان چیزوں کی تفصیل سے آپ مجھے مطلع فرمائیں گے۔ (محمد نعمت اللہ، حیدر آباد)
اس سلسلہ میں قرآن سے دورہنما اصول ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ داعی کا کلام اپنی زبان کے اعتبار سے عصری اُسلوب میں ہو۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومہ (ابراہیم (۴) اس ضمن میں دوسرا اُصول جو قرآن سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ داعی کا کلام مخاطب کے اپنے معیار کے مطابق، اتنا مدلل ہو کہ وہ اُس کو سُن کر اپنے آپ کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کرنے لگے۔ یہ دوسرا اُصول قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم
ہوتا ہے: فبہت الذی کفر (البقرہ ۲۵۸)
میرے تجربہ کے مطابق، اس قسم کے داعیانہ کلام کے لیے داعی میں حسب ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے___ اسلامی علوم کے ساتھ مدعو کے علوم کا گہرا مطالعہ، ذہنی جمود سے خالی ہونا، متعصبانہ ذہن سے مکمل طور پر پاک ہونا، قومی فکر کے بجائے علمی فکر کا مالک ہونا، انسانیت عامہ کے ساتھ شفقت اور خیر خواہی کا تعلق ہونا، مصلحت بینی کے بجائے اعتراف کا مزاج ہونا، ہر دوسری طلب سے کٹ کر حق کا طالب بن جانا، وغیرہ۔
ونسینٹ پیل (Norman Vincent Peale) اپنی کتاب ”The Power of ”Positive Thinking میں لکھتے ہیں کہ آپ خدا کی طاقت سے ہر کام کر سکتے ہیں۔ جگہ پر وہ لکھتے ہیں کہ ”God is in you“ یعنی خدا آپ کے اندر ہے (صفحہ ۴۴) کیا اسلامی عقیدہ کے مطابق، ایک مومن ایسا کہہ سکتا ہے کہ ”خدا انسان کے اندر ہے“ براہ کرم اسلام کی روشنی میں رہنمائی (خورشید احمد، شوپیان)
خدا کا یہ فلسفیانہ تصور وحدتِ حقیقت (Monism) کے اصول پر قائم ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، دنیا کی ہر چیز خدا کے تووسیعی وجود کا ایک حصہ ہے۔ چنانچہ انسان بھی خدا کا ایک حصہ ہے۔ مذکورہ بیان کے پیچھے دراصل یہی فکر کام کر رہا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، اسلام کے نزدیک خدا اور انسان دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ انسان صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ خدا سے دعا اگر وہ اپنی دعا میں سچا اور مخلص ہے تو خدا ضرور اُس کی دعا کو قبول کرے گا۔ مگر یہ فیصلہ کرنا خود خدا کا کام ہے کہ وہ بندہ کی دعا کو دنیا میں پورا کرے یا آخرت میں اس کا اجر عطا فرمائے۔ الرساله دسمبر ۲۰۰۱ کے صفحہ ۲۷ پر آپ تحریر کرتے ہیں کہ موجودہ دنیا کو خدا نے
آزمائش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے۔ اگر اس جملہ پر غور کریں تو ماننا ہوگا کہ خدا نہ عالم الغیب ہے، نہ وہ کسی کے دل کی بات کو جانتا ہے۔ کیونکہ ٹیسٹ کا فائدہ یہی ہے کہ جو ہم نہیں جانتے وہ جان (ایم اے خاں، کلکتہ)
ٹیسٹ (test) کا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدا خود جانے۔ ٹیسٹ کا مقصد سلیکشن ہے۔ یہ ٹیسٹ خدا کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خود انسان کی نسبت سے ہے۔ یعنی انسانوں میں سے چھانٹ کر اچھے اور برے کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں، اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک چیز جو نظری حقیقت ہے اُس کو ایک معلوم اور مشہود واقعہ بنا دیا جائے۔
ایک مسلم جماعت کے ایک صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں جو مجلس لگتی ہے اُس مجلس میں سبھی لوگوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جہاں اللہ اور اُس کے رسول کا ذکر ہوتا ہے اُس مجلس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر وہاں کوئی بدعتی مسلمان ہو تو کیا اس کی بھی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ اس کا وہ جواب نہ دے سکے۔ برائے مہربانی آپ اس سوال کا جواب دیں (ایک قاری الرساله) حدیث (صحیح مسلم، کتاب الذکر) میں مجالس الذکر کا بیان آیا ہے۔ اُس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی مجالس میں شرکت کرنے والوں کو اللہ کی طرف سے بخش دیا جاتا ہے۔ مگر اس بشارت کا اطلاق اُس مجلس پر ہے جو اللہ کی مطلوب مجلس ہو، نہ کہ کسی جماعت کے نظم کے تحت قائم کردہ مجلس۔ ذکر سے مراد وہ ذکر ہے جو اللہ کے علم میں ذکر ہو، نہ کہ وہ ذکر جو کسی جماعت کے اپنے وضع کردہ نظام کے تحت ذکر قرار دیا گیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر ایک اعلی عبادت ہے مگر ذکر سے مراد وہ نہیں ہے اور نہ کسی کی تقریر کو ذکر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ ذکر دراصل ایک فرد مسلم کے دل میں اُمنڈنے والے اُس
ربانی طوفان کا نام ہے جو اللہ کی یاد سے اُس کے اندر پیدا ہوا ہو۔ ذکر سے مراد وہ اعلیٰ کیفیاتی عمل ہے جو آدمی کے دل کو تڑپا دے اور اُس کی آنکھوں کو اشکبار کردے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو جنگیں ہوئی ہیں، اُن کو جہاد سے تعبیر کیوں کیا جاتا جب کہ اُس وقت مسلمانوں کی کوئی حکومت نہیں تھی۔ اور آپ کے کہنے کے مطابق، جہاد کے لیے established government کی ضرورت ہے۔ (ایک قاری الرساله، کشمیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے تیرہ سالہ دور میں ظلم کے باوجود جہاد نہیں کیا۔ صرف مدنی دور میں جہاد کیا۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ مکی دور میں اسلام کی حکومت قائم نہ تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی۔ اس لیے آپ نے مدینہ پہنچنے کے بعد دفاع کے طور پر جہاد کیا۔
یہ بات خلاف واقعہ ہے کہ مدنی دور میں وہاں اہل اسلام کی حکومت نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں کے باشندوں نے آپ کا استقبال آمر اور مطاع کہہ کر کیا، یعنی حاکم اور قابل اطاعت۔ چنانچہ آپ کے مدینہ پہنچتے ہی اسلامی ریاست کا قیام عمل اس کے سربراہ اول خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
جواب دینے کے لیے جس طرح علم درکار ہے، اسی طرح سوال کرنے کے لیے بھی علم درکار سوال کرنے والے کو چاہیے کہ وہ سوال کرنے سے پہلے اُس کے علمی تقاضہ کو پورا کرے۔ جب تک اپنے حصہ کا علمی تقاضہ پورا نہ کر لے، اُس وقت تک اُس کے لیے مطالعہ ہے، نہ کہ سوال کرنا۔ میں کشمیر یونیورسٹی میں ایک ریسرچ اسکالر ہوں۔ میں نے اپنے ریسرچ کے متعلق آپ سے تحقیقی موضوع کا انتخاب کروایا تھا۔ آپ نے ’’اُردو شاعری میں سائنسی مزاج‘‘ میرے موضوع کے
لیے انتخاب کیا تھا۔ لیکن مجھے کسی بھی یونیورسٹی میں اس موضوع پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اب میں نے’’اقبال اور سیکولرزم‘‘ کے تحقیقی مقالہ پر کام کرنا شروع کیا ہے۔ لیکن اقبال ہمیشہ تشکیک کے شکار رہے ہیں۔ اقبال کی شاعری اقبال کے تشکیکی مزاج کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ (ماجد جہانگیر، کشمیر)
ہماری یونیورسٹیوں کا جو نظام ہے اُس کے تحت کسی تخلیقی موضوع کے لیے ریسرچ کی اجازت ملنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے اگر آپ کی یونیورسٹی میں مذکورہ موضوع منظور نہ ہو سکا تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جہاں تک’’اقبال اور سیکولرزم‘‘ کے موضوع کا تعلق ہے، اِس کے بارے میں میری رائے ہے کہ اقبال اور اِن کے دوسرے ہم عصر مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب، وغیرہ نے موجودہ سیکولرزم کو سرے سے سمجھا ہی نہیں۔ اقبال سمیت یہ تمام لوگ ردِ عمل کی نفسیات کا شکار تھے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مغرب کی ہر چیز سے متنفر تھے۔ اس لیے بغضک الشی یعمی ویصم کے اصول کے مطابق، وہ سیکولرزم کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھ نہ سکے۔ اس بنا پر وہ اُس کو سمجھنے سے عاجز رہے۔
جس طرح ہر فکری نظام میں کچھ انتہا پسند (extremists) ہوتے ہیں، اسی طرح سیکولرزم کے حلقہ میں بھی کچھ انتہا پسند قسم کے لوگ پیدا ہوئے۔ اس طرح کی انتہا پسندانہ تشریح کی بنا پر موجودہ زمانہ کے مسلم علماء اور دانشوروں نے سیکولرزم کا ترجمہ لادینیت کیا۔ مگر یہ ترجمہ صحیح نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت کی رائے کے مطابق، عملی طور پر جو سیکولرزم دنیا میں رائج ہوا وہ بلا شبہ ایک موافق دین نظریہ تھا، نہ کہ مخالف دین نظریہ۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید سیکولرزم عملی طور پر اُسی قسم کا ایک بندوبست ہے جو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں صلح حدیبیہ کی صورت میں سامنے آیا۔ سیکولرزم کا مطلب سادہ طور پر صرف یہ ہے کہ اسٹیٹ مشترک قسم کے نیشنل معاملات کو چھوڑ کر مذہب اور کلچر کے معاملہ میں نا طرفداری (non-interference) کی
پالیسی اختیار کرے۔ اس موضوع پر میں اپنی کتاب دین کامل میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں۔ آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
میرا ایک مسئلہ ہے جس نے مجھ کو بہت مغموم کر رکھا ہے۔ مسئلہ یوں ہے کہ بندہ بالوں کے گرنے کی پرابلم سے دوچار ہے۔ بال گرتے تو ہیں مگر دواؤں کے باوجود وہ دوبارہ نہیں اگتے۔ رب العالمین اس پر قادر نہیں۔ کیوں ایسا ہے کہ خدا نے کسی کے سر پر خوبصورت بال دیے اور کسی کو گنجا برائے مہربانی آپ اپنی رائے سے نوازیں۔ (عمر رفیق، سری نگر، کشمیر) آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ بال کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے، اُس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز آزمائش کے لیے ہوتی ہے، ملنا بھی اور نہ ملنا بھی۔ اسی طرح آدمی کے سر پر اچھے بال کا اُگنا بھی آزمائش ہے اور بال کا جھڑنا یا سفید ہونا بھی آزمائش۔ اس آزمائش میں پورا اترنا یہ ہے کہ آدمی دونوں حالتوں کو یکساں طور پر خدا کی طرف سے سمجھے، وہ ملنے پر نازاں نہ ہو اور نہ ملنا اُس کو مایوسی میں مبتلا نہ کرے۔ آپ بال کے مسئلے کے بارے میں علاج کریں مگر کسی بھی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ اے اللہ، میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں، تو میرے لیے حسن تلافی کا فیصلہ فرما۔ مجھے آخرت میں جنت دے دے جہاں نہ کوئی بیماری ہوگی اور نہ کوئی محرومی۔
انسان کو خود سے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں مانگنا چاہئے۔ لیکن اگر اُس پر کوئی مصیبت آ جائے تو اُس وقت اُس کو کامل صبر کی روش اختیار کرنی چاہئے ۔ یہی مومن کا طریقہ ہے اور یہی جنت کی قیمت ہے۔ میں نے اکثر مکان اور دکان میں یہ جملہ لکھا ہوا دیکھا ہے۔ براہ کرم اس کے بارے میں وہ جملہ یہ ہے "ھذا من فضل ربی" (یہ میرے خدا کا فضل ہے) یہ کوئی دعا ہے، حدیث
ہے، قرآن کی کوئی آیت ہے یا عربی مقولہ ہے؟ کیا اس طرح کی چیزیں گھروں اور دکانوں میں ٹانگنا مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ان سب چیزوں کو لٹکانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر)
مذکورہ قرآنی آیت جس طرح ادھوری شکل میں مکانوں اور دکانوں میں لکھی جاتی ہے اُس سے اُس کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اصل یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی طاقت عطا فرمائی تھی اُس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: قال هذا من فضل ربى، ليبلوني أأشكر أم اكفر، ومن شكر فإنما يشكر لنفسه، ومن كفر فإن ربى غنى كريم (النمل ۴۰) یعنی انہوں نے کہا کہ یہ میرے رب کا فضل ہے۔ تاکہ وہ مجھے جانچے کہ میں شکر کرتا ہوں اور جو شخص شکر کرے تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے۔ اور جو شخص ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز ہے، کرم کرنے والا ہے۔
اپنی دکانوں یا مکانوں میں جو لوگ هذا من فضل ربی لکھ کر لگاتے ہیں وہ اس طرح یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دکان اور مکان جو انہیں ملا ہے وہ فضل اور انعام کے طور پر ملا ہے۔ آیت کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کی مادی چیزیں اللہ کی طرف سے جس کو دی جاتی ہیں وہ اُس کو بطور امتحان دی جاتی ہیں، نہ کہ بطور انعام۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز امتحان کا پرچہ ہے۔ تک انعام الہی کا تعلق ہے، وہ کسی مقبول انسان کو آخرت میں ملے گا، موجودہ دنیا میں نہیں۔ ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں کی ہر چیز کو امتحان کی مصلحت کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ آج کے دور میں جب کہ وسائل (resources) کے نقطۂ نظر سے اہل یورپ و امریکہ مسلم ممالک سے کئی گنا زیادہ ترقی یافتہ ہیں، مسلمانوں کو یورپ وامریکہ کے خلاف قتال پر مبنی جہاد پر دھیان دینا چاہئے یا اپنی طاقت و قوت بڑھانے پر؟ (زبیر احمد، بھاگل پور)
قتالِ اسلام میں ایک مشروط حکم ہے، نہ کہ کوئی مطلق حکم۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ نماز روزے کی طرح قتال بھی ہر حال میں جاری رکھنا ہے۔ قتال صرف اُس وقت کے لیے ہے جب کہ کسی خارجی طاقت کی جارحیت کی بنا پر دفاع کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ اس دفاع کی بھی کئی لازمی شرطیں ہیں۔ اُن شرطوں کی تکمیل کے بغیر دفاعی قتال بھی جائز نہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت اس سے پہلے الرسالہ میں آچکی ہے۔ جہاں تک اہلِ مغرب کا تعلق ہے، اُن کے مقابلہ میں ہمارا کام قتال نہیں ہے بلکہ دعوت ہے۔ عمومی طور پر سارے مسلمانوں کے لیے اور خصوصی طور پر یورپ اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ اُن قوموں کو اسلام کا پیغام یہ دعوتی کام پوری طرح پر امن انداز میں ہونا چاہئے۔ مؤثر دعوتی عمل کے لیے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وہ معتدل فضا قائم کریں جس کے اندر دعوت کا کام مطلوب انداز میں جاری ہو سکے۔
آپ نے ۱۹۹۳ میں بابری مسجد کے مسئلہ میں جو دو نکاتی فارمولا پیش کیا تھا وہ بلاشبہ بہترین فارمولا تھا مگر اس کے اعلان کے لئے آپ نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا۔ ایک صحیح فارمولا غلط وقت کی وجہ سے وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا جس کی ضرورت تھی۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور) آپ کا یہ خیال درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت میں اپنا یہ فارمولا پیش کیا وہی اس کو پیش کرنے کا موزوں ترین وقت تھا۔ اس قسم کے نازک اشو وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اس قسم کے کسی مسئلہ پر اس کے عملی حل کا فارمولا پیش کرنے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب کہ مسئلہ کا آغاز ہوا ہو۔ اس معاملہ میں دیر کرنا گویا کہ کام کے اصل موقع کو کھودینا ہے۔
اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ بابری مسجد کے حادثہ (۶ دسمبر ۲۰۰۲) پر دس سال گزر چکے ہیں اور ابھی بھی اس معاملہ میں کوئی مسلمان حقیقت پسندانہ فارمولا سننے کے لئے تیار نہیں۔ میں یہ فارمولا قبل از وقت تھا تو اب ۲۰۰۲ میں اُس کو بروقت ہو جانا چاہئے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اب بھی کوئی لیڈر اُس کو پیش کرنے کے لیے سامنے نہ آسکا۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے اختلافی مسائل وقت گزرنے کے بعد ہمیشہ ساکھ کا مسئلہ (prestige issue) بن جاتے ہیں۔ اس لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ ساکھ کا مسئلہ بننے سے پہلے اس کو حل کیا جائے۔ کیوں کہ ساکھ کا مسئلہ بننے کے بعد وہ حل ہونے والے ہی نہیں۔