ایک سال 110 .Rs ایک سال 10£/$20 5£/$10
Al-Risala, October 2002, pp. 49–51
By Maulana Wahiduddin Khan
دریا کا پانی نہ کبھی ٹھہرتا ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے پیچھے کی طرف مڑتا ہے۔ وہ مسلسل اور ہر آن اپنی منزل کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہی کامیابی کا راز ہے۔
امن کیا ہے اہل علم امن کی تعریف عدم جنگ (absence of war) کے الفاظ میں کرتے ہیں۔ سے یہ تعریف بالکل درست ہے۔ کسی سماج میں جب تشدد اور جنگ نہ ہو تو اس کے بعد وہاں جو صورت حال پیدا ہوگی اسی کا نام امن ہے۔ جب بھی انسانوں کے درمیان جنگ اور تشدد کی حالت نہ ہو تو اُس کے بعد امن کی حالت اپنے آپ قائم ہو جائے گی۔
تاہم کسی سماج میں امن کی حالت قائم ہونا سادہ طور پر صرف یہ نہیں ہے کہ وہاں جنگ اور تشدد کا خاتمہ ہو گیا۔ جنگ اور تشدد کا ختم ہونا اس معاملہ کا سلبی پہلو ہے۔ اس کا ایجابی پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی سماج کے اندر حقیقی معنوں میں امن کی حالت قائم ہو جائے تو اُس کے بعد لازماً ایسا ہوگا کہ لوگوں کے اندر مثبت سرگرمیاں جاری ہو جائیں گی۔ ہر آدمی یکسوئی کے ساتھ اپنی زندگی کی تعمیر میں لگ جائے گا۔
کسی سماج کے اندر امن کا قائم ہونا ایسا ہی ہے جیسے دریا کے سامنے سے بند کو ہٹا دیں۔ زندگی ، بہتے دریا کی مانند، خود اپنے زور پر رواں دواں ہونا چاہتی ہے۔ وہ صرف اُس وقت رُکتی ہے جب کہ اُس کے سامنے کوئی مصنوعی رکاوٹ کھڑی کر دی جائے۔ رُکاوٹ نہ ہو تو خود فطرت کے زور پر زندگی کی تمام سرگرمیاں جاری ہو جائیں گی۔
جنگ و تشدد کی حیثیت زندگی کے عمل میںرُکاوٹ کی مانند ہے۔ اور امن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے یہ ہے کہ زندگی کی دوڑ کے تمام راستے آخری حد تک کھول دیئے گئے ہوں۔
امن کا مطالعہ عام طور پر جنگ کے حوالہ سے کیا جاتا ہے۔ مگر یہ امن کا بہت محدود مفہوم حقیقت یہ ہے کہ امن کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ امن اپنے آپ میں ایک مکمل
آئیڈیا لوجی ہے۔ امن شاہ کلید (master key) ہے جس سے ہر کامیابی کا دروازہ کھلتا ہے۔ امن ہر کام کی کامیابی کے لیے موافق ماحول بناتا ہے۔ امن کے ساتھ ہر کام کیا جا سکتا ہے۔ کے بغیر کسی بھی کام کو کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات چھوٹے معاملات کے لیے بھی درست ہے اور بڑے معاملات کے لیے بھی۔