کائنات کا مذہب امن ہے
Al-Risala, October 2002, pp. 51–52
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳۶ میں ارشاد ہوا ہے: لا الشمس ينبغي لها ان تدرك القمر ولا الیل سابق النهار، وكل في فلك يسبحون (يس (۴۰)۔ یعنی نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑلے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک مدار (orbit) میں تیر رہے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ایک فلکیاتی واقعہ کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ دنیا کا نظام کس اصول پر وہ امن کا اصول ہے۔ کائنات کے اندر ان گنت چیزیں ہیں۔ یہاں کی ہر چیز مسلسل حرکت مگر کسی چیز کا دوسری چیز سے ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ کائنات کا ہر جزء اپنے اپنے دائرہ میں اپنا عمل انجام دیتا ہے۔ یہاں کا کوئی جزء کسی دوسرے جزء کے دائرہ کار میں داخل نہیں ہوتا۔ اس لیے ایک کا دوسرے سے ٹکراؤ بھی نہیں ہوتا۔
یہی امن کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو بھی یہی کرنا ہے کہ وہ کائنات کے اس ہمہ گیر اصول کو اپنی زندگی میں اپنا لے، وہ بھی ٹکراؤ کے راستہ کو چھوڑ کر امن کے راستہ پر چلنے لگے۔ کائنات کا کلچر امن کلچر ہے۔ اسی امن کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات اربوں سال سے چل رہی ہے مگر اس میں کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آیا جو اس کے نظام میں خلل ڈال دے۔ کائنات میں اگر تشدد کلچر کا رواج ہوتا تو اب تک کائنات آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو چکی ہوتی۔ وہ ہمارے لیے قابل رہائش دنیا کے طور پر موجود ہی نہ ہوتی۔
جس خالق نے کائنات کو پیدا کیا ہے اُسی نے انسان کو بھی پیدا کیا ہے۔ خالق کو مطلوب ہے کہ اُس نے وسیع تر کائنات میں جو امن کلچر قائم کر رکھا ہے، انسان بھی اُسی امن کلچر کو اپنائے، صرف اس
فرق کے ساتھ کہ یہ امن کلچر بقیہ کائنات میں فطرت کے زور پر قائم ہے۔ انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اس امن کلچر کو خود اپنے ارادہ اور اپنے فیصلے کے تحت اپنی زندگی میں