امن اور تشدد کا فرق
Al-Risala, October 2002, pp. 53–54
By Maulana Wahiduddin Khan
امن ایک منصوبہ بند عمل ہے، اور تشدد صرف بھڑک کر جارحانہ کارروائی کرنے کا نام ہے۔ پسند آدمی پہلے سوچتا ہے اور اس کے بعد عمل کرتا ہے۔ تشدد پسند آدمی پہلے کر ڈالتاہے، اس کے بعد وہ پُر امن عمل میں پہلے بھی اُمید ہے اور آخر میں بھی اُمید۔ اور پُر تشدد عمل میں پہلے فرضی اُمید ہے اور آخر میں صرف مایوسی۔
امن پسند آدمی سچائی پر کھڑا ہوتا ہے اور پُر تشدد آدمی جھوٹ پر۔ امن کا راستہ شروع سے آخر تک ایک کھلا ہوا راستہ ہے، اور تشدد کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا راستہ۔ امن میں تعمیر ہی تعمیر ہے اور تشدد میں تخریب ہی تخریب۔ امن پسند انسان دوسروں کی محبت میں جیتا ہے اور تشدد پسند انسان دوسروں کی امن پسندی کا خاتمہ کامیابی پر ہوتا ہے اور تشدد پسندی کا خاتمہ شرمندگی پر۔ امن پسندی میں کوئی کام بگڑتا نہیں اور ہر کام بن جاتا ہے۔ تشدد پسندی میں کوئی کام بنتا نہیں اور ہر کام بگڑ جاتا ہے۔ امن کا طریقہ انسانیت کا طریقہ ہے اور تشدد کا طریقہ حیوانیت کا طریقہ۔ عمل قانون کے دائرہ میں ہوتا ہے اور تشدد کا عمل لاقانونیت کے دائرہ میں۔
امن پسند آدمی مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرتا ہے اور تشدد پسند آدمی مواقع کو غیر استعمال شدہ حالت میں چھوڑ کر مسائل کے خلاف بے فائدہ لڑائی لڑتارہتا ہے۔ امن کا عمل پیار و محبت کا باغ اگاتا ہے اور تشدد کا عمل نفرت اور دشمنی کا جنگل اگاتا ہے۔ امن کلچر فرشتوں کا کلچر ہے اور تشدد کلچر شیطانوں کا کلچر۔
امن میں خدا کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اور انسان کے حقوق بھی۔ اور تشدد میں انسان کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور خدا کے حقوق کی بھی خلاف ورزی۔ امن اگر جنت ہے تو تشدد اُس کے مقابلہ میں دوزخ۔
امن اور جنگ دونوں یکساں نہیں۔ امن کسی انسان کے لیے ایک سچا انتخاب (choice) ہے۔ جنگ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی سچے انتخاب کو نہ پاسکا، وہ انتخاب کے ٹیسٹ میں ناکام ہوگیا۔
دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اگر چہ عملاً موجود ہیں مگر وہ امتحان کے لیے ہیں، وہ مطلوب چیز کے طور پر نہیں۔ مثلاً شراب دنیا میں موجود ہے۔ مگر شراب اس لیے نہیں ہے کہ کوئی آدمی اُس کو استعمال کرے۔ بلکہ شراب اس لیے ہے کہ آدمی اُس سے بچ کر یہ ثابت کرے کہ وہ اچھے اور بُرے کی تمیز رکھتا تھا، وہ ایک محتاط انسان تھا۔ یہی معاملہ جنگ کا بھی ہے۔ جنگ کا طریقہ اگر چہ بظاہر قابل استعمال ہے مگر کسی انسان کے لیے اعلیٰ روش یہی ہے کہ وہ جنگ کے طریقہ کو استعمال نہ کرے۔ قدیم زمانہ میں جو حالات تھے اُن میں دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی گئی تھی۔ اجازت قانونِ ضرورت (law of necessity) کے تحت تھی۔ اب نئے حالات میں یہ ضرورت باقی نہیں رہی، اس لیے اب جنگ کی بھی ضرورت نہیں۔