Al-Risala · October 2002

اعراض، نہ کہ ٹکراؤ

Al-Risala, October 2002, pp. 60–61

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں حکم دیا گیا ہے کہ: وأعرض عن الجاهلين (الأعراف ۱۹۹)۔ یعنی تم نادان لوگوں سے اعراض کرو۔

اعراض کا مطلب احتراز (avoidance) ہے، اعراض کا الٹا ٹکراؤ (confrontation) اعراض کا طریقہ آدمی کو پُر امن دائرہ میں محدود رکھتا ہے اور ٹکراؤ کا طریقہ اُس کو فریق ثانی کے مقابلہ میں متشددانہ کارروائی کی طرف لے جاتا ہے۔

موجودہ دنیا میں کوئی انسان یا گروہ اکیلا نہیں ہے۔ اُس کے سوا دوسرے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے اپنے مقاصد رکھتے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا الگ ایجنڈا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں بار بار ایک دوسرے کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ بار بار ایک فرد اور گروہ اور دوسرے فرد اور گروہ کے درمیان کشمکش کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔

ایسی حالت میں آدمی کے لیے دو راستے ہیں ـــــــــ اعراض یا ٹکراؤ، ان دو کے سوا کوئی تیسرا اب آدمی اگر ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرے تو دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ہوگی۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ لڑائی سے صرف دل کی بھڑاس نکلتی ہے۔ حقیقی معنوں میں اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہئے کہ وہ ٹکراؤ سے ہٹ جائے اور اعراض کا طریقہ اختیار کرے ۔ اعراض کا طریقہ نہ

صرف مزید نقصان سے بچاتا ہے بلکہ وہ آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے ترقی کے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکے۔ اعراض کا عمل بظاہر فریق ثانی کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اعراض کا مقصد خود اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچانا ہے۔ اعراض کا مقصد یہ ہے کہ اپنے سفر کو کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھا جائے۔

Printed page