صبر ترقی کا راز
Al-Risala, October 2002, pp. 61–62
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۸ میں ارشاد ہوا ہے کہ: واصبروا ان الله مع الصابرين (الأنفال ٤٦) یعنی تم صبر کرو کیوں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: واعلم أن في الصبر علی ما تكره خيرا كثيرا وان النصر مع الصبر وأن الفرج مع الكرب وان مع العسر يسرا (مسند احمد، الجزء ا/ ۷۳۰) یعنی جان لو کہ بے شک ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت بھلائی ہے۔ اور کامیابی صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مشقت کے ساتھ ہے۔ اور مشکل کے ساتھ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی کے سامنے مشکل حالات آئیں یا اُس کو کوئی تلخ تجربہ پیش آئے تو وہ گھبرا اُٹھتا ہے اور بعض اوقات تشدد پر اُتر آتا ہے۔ مگر اس قسم کا رد عمل فطرت سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون ہمیشہ اُن لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو حق اور انصاف پر ہوں۔ فرد یا گروہ اگر جلد بازی نہ کرے اور صبر سے کام لے تو کامیابی اپنے آپ اُس کی طرف چلی آتی ہے۔ بیشتر حالات میں نا کامی اُن لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جو جلد بازی سے کام لیں اور قبل از وقت پر جوش اقدام کر بیٹھیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ صبر کا طریقہ اختیار کریں اُن کے لیے ہمیشہ ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اُن کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیں۔
قرآن کے مطابق ، صبر کا الٹا عجلت ہے (الاحقاف ۳۵) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص صبر کی روش اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عجلت کا
طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ فطرت کے نقشہ سے ہٹ جاتا ہے اور جو آدمی فطرت کے نقشہ سے ہٹ جائے اُس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔