خود اپنے عمل کا نتیجہ
Al-Risala, October 2002, pp. 66–69
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں کہا گیا ہے کہ : جو مصیبت بھی تمہارے اوپر پڑتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰)
قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا اسباب وعلل کے اصول پر جیسے اسباب ویسا نتیجہ۔ یہ آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ کسی آدمی پر جب بھی کوئی مصیبت پڑے تو اُس کو چاہئے کہ اُس کا سبب وہ خود اپنے اندر دریافت کرے، نہ کہ وہ اپنے سے باہر اس کا سبب تلاش کرنے لگے۔
زندگی کی یہ حقیقت جس آدمی کے ذہن میں بیٹھ جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار بنا کر اُس کے خلاف تشدد کا معاملہ کرنے لگے۔ اس کے بجائے وہ صرف یہ کرے گا کہ بے لاگ طور پر اپنی زندگی کا جائزہ لے گا۔ وہ خود اپنی غلطیوں کو دریافت کرے گا تا کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرکے وہ مصیبت کا شکار ہونے سے بچ جائے ۔ مصیبت کا حوالہ دے کر دوسرے کے خلاف کارروائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مریض اپنے مرض کا ذمہ دار اپنے پڑوسی کو بتا کر اُس سے لڑنے لگے۔
ایک شہر جہاں کا ٹریفک ضابطہ دائیں چلو (keep right) کے اصول پر قائم ہو، وہاں اگر کوئی شخص بائیں چلو (keep left) کے اصول پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے تو یقینی طور پر اُس کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو جائے گی۔
یہ حادثہ اگرچہ بظاہر فریق ثانی کی گاڑی کے ٹکرانے سے پیش آیا ہوگا مگر آپ یہ کہنے کا حق نہیں رکھتے کہ فریق ثانی نے ٹکر مار کر آپ کو زخمی کر دیا۔ اس کے برعکس صحیح طور پر آپ کو صرف یہ کہنا چاہئے کہ میں غلط رُخ پر چل رہا تھا اور فریق ثانی کی گاڑی صحیح رُخ پر۔ اس لیے فریق ثانی کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی۔
یہی معاملہ زندگی کے دوسرے تمام پہلوؤں کا بھی ہے۔ آپ کو جب بھی اپنی زندگی میں کسی نقصان سے دوچار ہونا پڑے تو پیشگی طور پر یہ سمجھ لیجئے کہ جو کچھ ہوا وہ خود آپ کی غلطی کی بنا پر ہوا۔ زندگی کے معاملات میں صحیح سوچ ہے۔ اگر آپ صحیح انداز میں سوچیں تو آپ اپنی اصلاح کر کے اپنے مستقبل کو بچا لیں گے۔ اور اگر آپ اس کے برعکس یہ کریں کہ اپنی مصیبت کا الزام دوسروں کو دیتے رہیں تو آپ اپنے مستقبل کو بھی برباد کریں گے، اور آپ کا ماضی اور حال تو پہلے ہی برباد ہو چکا ہے۔ غصہ ایک کمزوری ہے قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ: واذا مــا غضبوا هم يغفرون (الشوریٰ ۳۷) یعنی جب اُنہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف غصہ کو معاف کرنا یا اُس کو بھلا دینا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب غصہ کی نفسیات سے اوپر اُٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے ۔ وہ غصہ سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔
غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورت حال کو وہ ہر معاملہ کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کی عقل کو مختل کر دیتا ہے۔ صورت معاملہ کو نہ تو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طور پر اُس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ
ہو جائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے۔ حالاں کہ تشدد کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصہ کو قابو میں رکھے، وہ مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرے گا۔ اور پر امن حل ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔ انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھر پور صلاحیتوں کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اُس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھر پور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اور غصہ ہونا اُس کے مقابلہ میں ہار۔ حق پر صبر کے ساتھ جمنا قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۳ میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچتے ہیں اور کامیاب زندگی حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں : وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (العصر ۳) یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
جب بھی کوئی آدمی سچائی کے راستہ پر قائم ہوتا ہے یا لوگوں کو سچائی کی طرف بلاتا ہے تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اُس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اُس کو لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں حق پرست آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے، وہ پیش آنے والی مشکلات کو اپنے اوپر سہے، وہ اُن کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے کی کوشش نہ کرے۔ صبر غیر جارحانہ طریقہ کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پرست آدمی کو چاہئے کہ وہ تشدد کے مقابلہ میں جوابی تشدد نہ کرے۔ وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو پر امن طریق کار کا پابند اسی روش کا دوسرا نام صبر ہے۔
حق اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی حق کو لینا چاہے تو اُس کو تشدد کو چھوڑنا تشدد، خواہ کسی عذر کی بنا پر استعمال کیا جائے، وہ تشدد ہے۔ ہر تشدد یکساں طور پر تباہ کن کوئی خوب صورت عذر تشدد کو اُس کے تباہ کن اثرات سے بچا نہیں سکتا۔
حق کے حصول کے نام پر تشدد کرنا خود حق کی نفی ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر تشدد کریں وہ اپنے بارے میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُن کا کیس حق کا کیس نہیں۔ حق پسند آدمی کبھی تشدد پسند نہیں جو آدمی تشدد کو پسند کرے وہ یقینی طور پر حق پسند نہیں، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو حق کا چیمپین کیوں نہ سمجھتا ہو۔