Al-Risala · October 2002

امن پسندی تحفظ کا ذریعہ

Al-Risala, October 2002, pp. 404–405

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک پیغمبر سے اُس کی قوم نے کہا: ولو لا رهطك لرجمناك یہ رہط پیغمبر کے مومنین کا نہ تھا بلکہ پیغمبر کی قوم کا تھا جو ایمان نہ لانے کے باوجود قبائلی روایت کی بنا پر، پیغمبر کا تحفظ کرتے تھے۔ یہی حقیقت حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: ما بعث الله نبيا الا في منعہہہہہہ(محافظہة من قومه (مسند احمد ۲/ ۵۳۳) یعنی ہر پیغمبر کو خدا نے اپنی قوم کی منعت (محافظ قوت) کے ساتھ بھیجا۔

قدیم زمانہ میں جب کہ جدید طرز کا حکومتی نظام موجود نہ تھا لوگ قبائل کی حمایت میں رہا کرتے قبائلی روایات کے مطابق، ہر قبیلہ اس کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ وہ دوسروں کے مقابلہ میں اپنے افراد کا قدیم زمانہ میں یہی قبائلی روایت پیغمبروں کے لیے محافظ قوت بنی رہی۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ہاشم کے سردار ابو طالب کی طرف سے یہ منع حاصل تھا۔ ابو طالب اگر چہ آخر وقت تک ایمان نہیں لائے مگر وہ قبائلی روایات کی بنا پر، پیغمبر اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میں آپ کے لیے منع (محافظ قوت) بنے رہے۔ (ملاحظہ ہو سیرت ابن ہشام، الجزء الاول صفحه ٢٨١) موجودہ زمانہ میں قبائلی نظام ختم ہو چکا ہے۔ مگر جدید تصورِ ریاست کے تحت سیکولر نظام اہل ایمان اور اہل دعوت کو یہی منع فراہم کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کی سیکولر حکومت اپنے ہر شہری کو یہ گارنٹی دیتی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے اور جس مذہب کی چاہے تبلیغ کرے، اُس کو کوئی روک نہیں سکتا، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اہل مذہب یا اہل دعوت کسی کے خلاف تشدد نہ کریں۔ پیغمبروں کو قدیم زمانہ میں جو منع ملا وہ قبائلی منع تھا، نہ کہ اسلامی منعہ۔ اس کے باوجود پیغمبروں نے اُس کو قبول کیا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو منع ملا وہ بھی سیکولر منع ہے، نہ کہ اسلامی منعہ۔

پیغمبروں کی سنت کے مطابق ، مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ وہ اس منع کو قبول کرتے ہوئے اس کے ماتحت پر امن طور پر دعوت کا کام کریں۔ مگر ساری دنیا کے مسلم رہنماؤں نے سیکولرزم کو لا دینیت قرار دے کر اُس کے خلاف لفظی اور عملی لڑائی چھیڑ دی ۔ اس طرح وہ غیر ضروری طور پر سیکولرزم کے حریف بن گئے۔ سیکولر نظام کے تحت ملا ہوا قیمتی منع استعمال ہونے سے رہ گیا۔

Printed page