جہاد پر امن عمل کا نام ہے
Al-Risala, October 2002, pp. 406–408
By Maulana Wahiduddin Khan
ملا علی قاری مشہور عالم اور فقیہہ ہیں۔ اُن کا پورا نام یہ ہے: علی بن (سلطان) محمد، نور الدین الملا الہروی القاری ۔ ملا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ اُن کی وفات ۱۰۱۴ھ (۱۶۰۶ء) میں مکہ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں کتا بیں لکھیں (کتاب الأعلام) ملا علی قاری کی ایک کتاب کا نام مرقاۃ المصابیح ہے جو مشکاۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی اس کتاب میں ملا علی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے لفظ میں لغوی طور پر جدوجہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ثم غلب في الإسلام على قتال الكفار۔ پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہلِ کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔
ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا استعمالی مفہوم۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ کا لفظ جہد سے نکلا ہے۔ لغوی طور پر اس کے معنی کوشش کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ استعمال میں یہ لفظ مختلف قسم کی جدوجہد کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے۔ اُنہی میں سے ایک جنگ بھی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف اس استثنائی جنگ کے لیے خاص ہے جو فی سبیل اللہ کی گئی ہو، ملک و مال
کے لیے جو جنگ کی جائے اُس کو جہاد نہیں کہا جائے گا۔
قرآن میں اس سلسلہ میں دو مختلف لفظ استعمال کئے گئے ہیں ـــــ جہاد اور قتال۔ جب پر امن جد و جہد مراد ہو تو وہاں قرآن میں جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن کے ذریعہ پر امن دعوتی جد و جہد (الفرقان ۵۲)۔ اور جب باقاعدہ جنگ مراد ہو تو وہاں قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا مثلاً آل عمران ۱۲۱۔ تاہم بعد کے زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر قتال کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ جہاد کے لفظ کے اس استعمال کو اگر بالفرض درست مانا جائے تب بھی وہ جہاد کے لفظ کا ایک توسیعی استعمال ہوگا، نہ کہ اُس کا حقیقی استعمال۔
اپنے حقیقی مفہوم کے اعتبار سے جہاد ایک پر امن عمل کا نام ہے، نہ کہ متشددانہ عمل کا نام۔ عمل انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر بدلنے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انسان کو قتل کرنے کے لیے۔ ہر حال میں امن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی حد تک ایک امن پسند آدمی تھے۔ آپ کے مخالفین نے بار بار آپ کو لڑائی میں الجھانا چاہا مگر ہر بار آپ اعراض کر کے لڑائی سے بچتے رہے۔ تاہم چند بار یک طرفہ جارحیت کی بنا پر آپ کو وقتی طور پر دفاعی جنگ کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ انہی چند دفاعی جنگوں میں سے ایک بدر کا غزوہ ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ عین اُس وقت جب کہ دونوں طرف کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں، پیغمبرِ اسلام کے پاس خدا کا فرشتہ آیا۔ اُس نے کہا کہ اے محمد، اللہ نے آپ کو سلام (سلامتی) کا پیغام بھیجا ہے۔ یہ سُن کر پیغمبرِ اسلام نے فرمایا: هو السلام ومنه السلام واليه السلام ۔ (البدایہ والنہایہ، الجزء الثالث، صفحہ ۲۶۷) یعنی اللہ سلامتی ہے اور اُس سے سلامتی ہے اور اُسی کی طرف سلامتی ہے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی پیغمبرِ اسلام ایک امن پسند انسان بنے اُس ہنگامی وقت میں بھی ایسا نہ تھا کہ آپ کا ذہن نفرت اور تشدد سے بھر جائے بلکہ اُس وقت
بھی آپ امن اور سلامتی کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، اُس وقت بھی آپ کا دل اس آرزو سے تڑپ رہا تھا کہ اللہ کی مدد سے وہ دنیا میں امن اور سلامتی کا ماحول قائم کرسکیں۔ سچا انسان وہ ہے جو جنگ کے وقت بھی امن کی بات سوچے، جو لڑائی کے ہنگاموں میں بھی سلامتی کا جذبہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہو۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مثبت سوچ (positive thinking) کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جنگ تمام منفی واقعات میں سب سے بڑا منفی واقعہ ہے۔ عین اس کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر اُس کی زبان سے خون اور تشدد کے بجائے امن اور سلامتی کے الفاظ نکل رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ اعلیٰ انسان وہ ہے جو تشدد کے درمیان بھی امن کی بات سوچے، جو جنگ کے حالات میں بھی صلح کا منصوبہ بنائے۔