اللہ کا نام سلامتی
Al-Risala, October 2002, pp. 408–409
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اللہ کے مختلف نام (یا صفات) بتائے گئے ہیں۔ اُن میں سے ایک السلام ہے، یعنی گویا خدا خود سلامتی کا مظہر ہے، خدا خود سلامتی کا پیکر ہے۔ خدا کو امن و سلامتی اتنا زیادہ پسند ہے کہ اُس نے اپنا ایک نام السلام رکھا۔
اس آیت کی تفسیر میں الخطابی نے لکھا ہے کہ : معناه الذى سلم الخلق من ظلمہ (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، الجزء ۱۸، صفحہ ۴۶) یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہستی جس کے ظلم سے لوگ محفوظ رہیں۔ لوگوں کو جس سے سلامتی کا تجربہ ہو، نہ کہ تشدد کا۔
خدا کی حیثیت اعلیٰ ترین معیار کی ہے۔ جب خدا کا برتاؤ انسانوں سے امن اور سلامتی پر مبنی ہو تو انسانوں کو بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ اسی برتاؤ کا معاملہ کرنا چاہئے۔ ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ امن و سلامتی کا برتاؤ کرنا چاہئے، نہ کہ اس کے خلاف سختی اور تشدد کا۔ ایک حدیث کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليس الشديد بالصرعة، انما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب (البخاری، کتاب الادب، كتاب البر،
موطا کتاب الجامع، مسند احمد)۔ یعنی طاقت وہ نہیں ہے جو کشتی میں لوگوں کو پچھاڑ دے۔ صرف وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔
غصہ کے وقت غصہ کو روکنا سلف کنٹرول (self control) کی علامت ہے۔ اور سلف کنٹرول بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسے موقع پر سلف کنٹرول آدمی کو غلط کارروائیوں سے بچاتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر سلف کنٹرول کی طاقت نہ ہو، وہ غصہ کے وقت بپھر اٹھے گا، یہاں تک کہ وہ متشددانہ کارروائی کرنے لگے گا۔ غصہ کو قابو میں رکھنا امن پسند انسان کا طریقہ ہے اور غصہ کے وقت بے قابو ہو جانا تشدد پسند انسان کا طریقہ۔
ایک آدمی کی لڑائی دوسرے آدمی سے ہو اور وہ اُس کو لڑائی میں پچھاڑ دے تو یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ دوسرے آدمی کے مقابلہ میں پہلا آدمی جسمانی اعتبار سے زیادہ طاقتور تھا۔ جسمانی طاقت ایک محدود طاقت ہے۔ اس کے مقابلہ میں جس شخص کا یہ حال ہو کہ اُس کے اندر غصہ بھڑک کے مگر وہ اپنے غصہ پر کنٹرول کرلے اور غصہ دلانے والے کے ساتھ معتدل انداز میں معاملہ کرے، ایسا آدمی زیادہ بڑی طاقت کا مالک ہے۔ اُس کی یہ روش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقل کی طاقت رکھتا ہے، اور عقل کی طاقت بلاشبہ جسم کی طاقت سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ اپنی دانش مندانہ منصوبہ کے ذریعہ ہر جنگ کو جیت سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اُس نے ایک انسان کا بھی خون بہایا ہو۔