Al-Risala · October 2002

سماجی امن کا فارمولا

Al-Risala, October 2002, pp. 409–410

By Maulana Wahiduddin Khan

سماجی امن کا فارمولا کیا ہے اور کسی سماج میں معتدل حالات کو کس طرح برقرار رکھا جا سکتا ہے، اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الفتنة نائمة لعن الله من أيقظها (حدیث) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو سوئے ہوئے فتنہ کو جگائے۔ یہ سماجی امن کا ایک فطری فارمولا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر انا (ego) کا جذبہ اور انا کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو چھیڑا جائے تو وہ بہت جلد بھڑک اٹھے گا اور فساد برپا

مگر فطرت نے اس جذبہ کو ہر آدمی کے سینہ میں سلا دیا ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر موجود ہے مگر تخلیقی نظام کے تحت وہ خوابیدہ حالت میں ہے۔ ایسی حالت میں کسی سماج کو پر امن سماج بنانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے سینے میں سوئی ہوئی انانیت کو سویا رہنے دیا جائے۔ سماجی امن کو وہی لوگ درہم برہم کرتے ہیں جن کی انانیت کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ اگر اَنانیت کو بھڑکانے سے بچا جائے تو سماج کا امن بھی تباہ نہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سماجی امن کا قیام خود آپ کے اپنے بس میں ہے، نہ کہ دوسروں کے بس میں۔ آپ اپنے مثبت رویہ سے دوسروں کی انا کو نہ چھیڑیے، اور پھر یقینی طور پر آپ اُن کے شر سے محفوظ رہیں گے۔

Printed page