نان وائلنس کا طریقہ
Al-Risala, October 2002, pp. 412–413
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف (مسلم، کتاب البر، ابوداؤد، کتاب الأدب، سنن ابن ماجه، کتاب الادب، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد ۱۱۴/ ار) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ دراصل فطرت کے اُس قانون کا بیان ہے جو خُدا نے موجودہ دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ اسی قانون کی بنا
پر ایسا ہے کہ جب کوئی شخص نرمی اور عدم تشدد کے حدود میں رہ کر کام کرے تو اُس کا کام زیادہ نتیجہ خیز بن اور جو شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے اُس کا کام آگے بڑھنے کے بجائے اور پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص سختی اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے تو اُس کی کوششیں غیر ضروری طور پر دو محاذوں میں بٹ جاتی ہیں۔ ایک محاذ، اپنی داخلی تعمیر کا۔ اور دوسرا محاذ، خارجی حریف سے لڑنے کا۔ اس کے برعکس جو شخص نرمی اور عدم تشدد کا طریقہ اختیار کرے، اُس کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام موجود طاقتوں کو صرف ایک محاذ، داخلی تعمیر کے محاذ پر لگائے، اور اُس کے فطری نتیجہ کے طور پر زیادہ بڑی ترقی حاصل کرلے۔
اس حدیث میں فطرت کے اس قانون کا ذکر ہے جس پر ہماری دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ اسی نظام کے تحت ملتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔ فطرت کا یہ نظام تمام تر امن اور عدم تشدد کے اصول پر قائم ہے۔ اس لیے یہاں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا، امن اور عدم تشدد کے اصول پر ملے گا، اُس سے انحراف کر کے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔