اختلاف کی حد
Al-Risala, October 2002, pp. 413–414
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف یہ فرمایا کہ: افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر، افضل الجهاد كلمة عدل عند امیر جائر (ابوداؤد، کتاب الملاحم، الترمذی، کتاب الفتن، النسائی، کتاب البیعة، ابن ماجه، کتاب الفتن، مسند احمد) یعنی ظالم حکمران کے سامنے حق وعدل کی بات کہنا افضل جہاد ہے۔
دوسری طرف حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: من رأى من أميره شيئاً فكرهه فليصبر (البخاری، کتاب الأحکام، مسلم، کتاب الاماره، الدارمی، کتاب السیر، مسند احمد) یعنی جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اُس کو پسند نہ ہو تو وہ اُس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك (صحیح مسلم، کتاب الایمان) یعنی تم
اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ ان حدیثوں میں بظاہر دو قسم کے احکام ہیں۔ ایک طرف یہ حکم ہے کہ تم اپنے حاکم میں کوئی غلط بات دیکھو تو کھلے طور پر اس کا اعلان کرو۔ دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیر کے اندر تمہیں کوئی غلط بات دکھائی دے تو اس پر صبر کرو، اگر وہ تمہارے اوپر ظلم کرے تب بھی تم اُس کو برداشت کرو۔ یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ ہے، اعلان اور اقدام کا فرق۔ یہ ایک مطلوب بات ہے کہ آدمی حکمراں کے اندر کوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اور خیر خواہی کے انداز میں اُس کا اعلان کرے۔ مگر جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کو اُس سے مکمل طور پر باز رہنا چاہئے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے وہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر بچے ۔
فرق کا یہ اصول بے حد اہم ہے۔ سماج میں جب بھی تشدد کا ماحول بنتا ہے، وہ اُس وقت بنتا ہے جب کہ لوگ حکمراں کے خلاف عملی ٹکراؤ کی مہم شروع کر دیں۔ وہ اصلاح سیاست کے نام پر حکمراں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سے بچتے ہوئے صرف قولی نصیحت پر اکتفا کیا جائے تو ہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہے گا، سماج کبھی بھی تشدد کا جنگل نہیں بنے گا۔