پُر امن طریق کار زیادہ بہتر
Al-Risala, October 2002, pp. 414–415
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی کیا تھی۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ماخیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين الاختار أيسرهما ( صحیح البخاری ، کتاب الأدب ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی معاملہ میں دو میں سے ایک طریقِ کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان تر کا انتخاب کرتے تھے۔ اختیار ایسر کے اس اصول کو اگر متشددانہ طریقہ کار اور پُر امن طریقِ کار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو اُس سے نپٹنے کے لیے
متشددانہ طریق کار کو اختیار نہ کیا جائے بلکہ پر امن طریق کار کو اختیار کیا جائے ۔ کیوں کہ متشددانہ طریق کار یقینی طور پر مشکل ہے اور پر امن طریق کار یقینی طور پر آسان ۔
تاہم یہ سادہ طور پر صرف آسان اور مشکل کا معاملہ نہیں ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پر امن طریقہ ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے اور متشددانہ طریقہ یقینی طور پر بے نتیجہ ہے۔ وہ مسئلہ کو حل نہیں کرتا البتہ اُس میں کچھ اور اضافہ کر کے اُس کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ حدیث میں مشکل طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول مشکل ہو۔ اس کے مقابلہ میں آسان سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ مقصد کا حصول آسان اور یقینی ہو۔