Al-Risala · October 2002

لچک کا طریقہ، نہ اکڑ کا طریقہ

Al-Risala, October 2002, pp. 415–416

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ــــــــــ صحیح البخاری ، کتاب التوحید، صحیح مسلم، کتاب المنافقین، سنن الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد۔ اس حدیث میں مومن، بالفاظ دیگر، خدا پرست انسان کی مثال خامہ سے دی گئی ہے۔ خامہ نرم پودے کو کہتے ہیں ۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ مومن کا حال نرم پودے کی طرح ہے۔ جب بھی ہوا کا کوئی جھونکا آتا ہے تو وہ اُس کے مطابق، جھک جاتا ہے۔ اور جب جھونکا چلا جائے تو وہ دوبارہ اُٹھ جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو بلا اور مصیبت سے بچا لیتا ہے۔

اس حدیث کے مطابق، کسی طوفان کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ اُس کے مقابلہ میں اکڑ دکھائی جائے ۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اُس کے مقابلہ میں لچک کا طریقہ اختیار کیا اس کو دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا ایک طریقہ متشددانہ طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ پر امن طریقہ۔ خدا کا پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ پہلے طریقہ کو چھوڑ دیا جائے اور دوسرے طریقہ کو اختیار کیا جائے۔

طوفان کے مقابلہ میں جو لوگ اکڑ کا طریقہ اختیار کریں وہ اپنے اس عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ وہ انانیت میں مبتلا ہیں۔ اس کے مقابلہ میں امن کا طریقہ تواضع پر مبنی ہے۔ خدا کی اس دنیا

میں انانیت کی روش اختیار کرنے والوں کے لیے تباہی ہے اور تواضع کی روش اختیار کرنے والوں کے یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: من تواضع رفعه الله ۔ یعنی جس نے تواضع کی روش اختیار کی، خدا اُس کو بلندی عطا فرمائے گا۔

Printed page