Al-Risala · October 2002

انتظار بھی حل ہے

Al-Risala, October 2002, pp. 416–419

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أفضل العبادة انتظار الفرج

(الترمذی، کتاب الدعوات)۔ یعنی کشادگی کا انتظار کرنا ایک افضل عبادت ہے۔

ہر فرد اور ہر گروہ پر ہمیشہ ایسے حالات آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو تنگی میں محسوس کرنے ایسے موقع پر بیشتر لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر تنگی کو ایک مستقل حالت سمجھ لیتے ہیں اور اُس کو فوراً اپنے آپ سے دور کرنے کے لیے حالات سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی لڑائی ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ تنگی پر کچھ اور مشکلات کا اضافہ کر لیا جائے۔

تنگی کبھی ہمیشہ کے لیے نہیں آتی، وہ صرف وقتی طور پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں تنگی کے مسئلہ کا آسان حل صرف یہ ہے کہ انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ یعنی غیر ضروری طور پر حالات سے لڑائی نہ چھیڑی جائے بلکہ سادہ طور پر انتظار کرو اور دیکھو (wait and see) کی پالیسی اختیار کی جائے۔ پالیسی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کا ذہنی سکون برباد نہ ہوگا۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ اپنے آپ اپنے وقت پر ہو جائے گا۔

جب کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو آدمی یہ چاہنے لگتا ہے کہ فوراً اُس کا حل نکل آئے۔ یہی اصل غلطی آدمی اگر پیش آئے ہوئے مسئلے کو انتظار کے خانہ میں ڈال دے تو کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ خدائی انتباہ، نہ کہ انسانی ظلم پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بعد کے جن حالات سے پیشگی طور پر آگاہ کیا ہے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں مسلم امت دوسری قوموں کی زد میں آجائے گی۔ فرمایا: یوشک الامم أن تداعى عليكم كما تداعى الأكلة الى قصعتها (ابو داؤد، کتاب الملاحم، مسند احمد) یعنی قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو پکاریں جس طرح کھانا کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان پر پکارتے ہیں۔

قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ اٹھارویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ کی نو آبادیاتی قوموں کے ذریعہ یہ واقعہ ہوا۔ اس کے بعد دوسری قومیں اس میں شریک ہوتی چلی گئیں۔

اس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسا کیوں ہوا ۔ قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ براہ راست خدا کی سنت کے تحت پیش آیا۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ قوموں کو جگانے کے لیے اُن پر تنبیہات نازل کی جاتی ہیں ۔ یہ گویا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے تاکہ وہ چونکیں اور اپنی اصلاح چنانچہ فرمایا: فلولا اذ جاء هم باسنا تضرعوا ولكن قست قلوبهم و زين لهم الشيطان ما كانوا يعملون (الانعام ۴۳) یعنی پس جب ہماری طرف سے اُن پر سختی آئی تو کیوں نہ وہ گڑگڑائے ۔ بلکہ اُن کے دل سخت ہو گئے ۔ اور شیطان اُن کے عمل کو ان کی نظر میں خوش نما کر کے دکھاتا رہا۔

اس آیت میں تزئین کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے ۔ ایک بُرے کام کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرنا تا کہ اُس کی بُرائی چھپ جائے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ عین یہی واقعہ پیش آیا ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر عین وہی کام کیا جس کو مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر قوموں کی طرف سے جو مسائل پیش آئے وہ خدائی انتباہ (warning) تھے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے ان مسائل کو ظلم اور سازش کی اصطلاحوں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعہ اس لیے تھا کہ مسلمان اپنی کوتاہیوں کو محسوس کریں اور اپنی داخلی اصلاح میں سرگرم ہو جائیں ۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی ساری سوچ غیر اقوام کی طرف متوجہ ہو گئی۔ جس واقعہ سے احتسابِ خویش کا ذہن پیدا ہونا چاہئے تھا ، اس سے احتسابِ غیر کا ذہن جاگ اُٹھا، جو بڑھتے بڑھتے تشدد تک جا پہنچا۔ خاموشی کی طاقت حضرت عمر فاروق اسلامی تاریخ کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ اُن کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : أميتوا الباطل بالصمت عنه۔ (تم لوگ باطل کو ہلاک کرو اُس کے بارے میں چپ رہ کر)۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں حق کو زندگی ملتی ہے اور باطل کے لیے موت مقدر

ایسی حالت میں باطل کی ہلاکت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اُس کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی جائے۔ باطل کے خلاف بولنا یا اُس کے خلاف ہنگامہ کرنا اُس کو زندگی دیتا ہے۔ اور باطل کو نظر انداز کر کے اُس کے بارے میں چپ رہنا اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ باطل کے بارے میں چپ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کو نظر انداز کیا جائے۔ اُس کے خلاف کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا جائے۔ اُس کے مقابلہ میں احتجاج اور صف آرائی کا طریقہ اختیار نہ تاہم ایسا کرنا صرف اُن لوگوں کے لیے ممکن ہے جو فطرت کی طاقت کو جانیں اور اُس پر بھروسہ کر سکیں۔ جو لوگ فطرت کی طاقت کو نہ جانیں، وہی لوگ باطل کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے اُس کو زندگی دینے کا سبب بن جاتے ہیں۔

Printed page