Al-Risala · October 2002

تشدد مایوسی کا نتیجہ

Al-Risala, October 2002, pp. 419–421

By Maulana Wahiduddin Khan

تشدد محرومی کے احساس کا نتیجہ ہے، اور امن یافت کے احساس کا نتیجہ۔ جو لوگ اس احساس میں مبتلا ہوں کہ وہ محروم ہیں، دوسروں نے اُن کی چیز اُن سے چھین لی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ منفی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں۔ اور اُن کا یہی احساس اکثر تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ اس احساس میں جیتے ہوں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں یافت کا تجربہ کیا ہے، ایسے لوگ ذہنی سکون سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ پر امن زندگی گزارتے ہیں۔

جو فرد یا گروہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے، جو دوسروں کے خلاف تشدد پر اُتر آئے، وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو محروم سمجھ رہا ہے۔ اس کے برعکس جو فرد یا گروہ امن پسندی کی زندگی گزارے وہ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ اُس نے اپنی زندگی میں وہ چیز پالی ہے جو اُس کو پانا چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ محرومی کا احساس کسی کو کیوں پیدا ہوتا ہے اور وہ کون لوگ ہیں جو ہمیشہ یافت کے احساس میں جیتے ہیں۔

اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پا لیا ہو اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے

کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم ہو۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی، اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں وہ گویا محرومی کی اس آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں جہاں محرومی ہی محرومی ہے، اول بھی اور آخر بھی، کوئی بھی چیز اُن کی محرومی کے احساس کو ختم کرنے والی نہیں۔ پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم جب بھی کوئی آدمی عمل کرنا چاہے تو اُس کو فوراً محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے راستہ میں کچھ رکاوٹیں ایسا ایک فرد کے لیے بھی ہوتا ہے اور پوری قوم کے لیے بھی۔ اب عمل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے رکاوٹوں سے لڑ کر اُن کو راستہ سے ہٹا دیا جائے اور اُس کے بعد اپنا مطلوب عمل شروع کیا اس طریقہ کو عام طور پر ریڈیکلزم (radicalism) کہا جاتا ہے۔

ریڈیکلزم کا طریقہ جذباتی لوگوں کو یا انتہا پسند لوگوں کو بظاہر پسند آتا ہے، مگر وہ کسی مثبت مقصد کے لیے مفید نہیں۔ ریڈیکلزم کا طریقہ تخریب کے لیے کار آمد ہے، وہ تعمیر کے لیے کار آمد نہیں۔ ریڈیکلزم کے طریقہ میں صرف موجودہ سسٹم ہی نہیں ٹوٹتا، بلکہ اس عمل کے دوران وہ سماجی روایات ٹوٹ جاتی ہیں جو صدیوں کے درمیان بنی تھیں۔ قتل وخون اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے بے شمار لوگ طرح طرح کی مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ریڈیکلزم کا طریقہ نظریاتی طور پر بظاہر خوب صورت معلوم ہوتا ہے، مگر عملی انجام کے اعتبار سے اُس میں کوئی خوبی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے ممکن دائرہ میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ صورت موجودہ (statusquo) کو وقتی طور پر قبول کرتے ہوئے اُن مواقع کو استعمال کیا جائے جو اب بھی موجود ہیں۔ اس طریقہ کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم (positive statusquoism) کہا جاسکتا ہے۔

ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ تشدد پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم سماج کے امن کو باقی رکھتے ہوئے اپنا کام انجام دیتا ہے۔ ریڈیکلزم کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا اس کے برعکس پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ سماج میں کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر اپنا عمل انجام

ایک اگر بگاڑ کا راستہ ہے تو دوسرا بناؤ کا راستہ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قدیم عرب میں اصلاح کا جو طریقہ اختیار کیا اُس کو ایک لفظ میں، پازیٹیو اسٹیٹس کو ازم کہا جاسکتا ہے۔ مثلاً اُس زمانہ میں خانہ کعبہ کے اندر ۳۶۰ بُت رکھے ہوئے یہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔ مگر قرآن کے ابتدائی دور میں اس قسم کا حکم نہیں اُترا کہ طہر الکعبة من الاصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ اس کے بجائے اس ابتدائی دور میں قرآن میں جو آیت اُتری وہ تھی: وثيابك فطهر (المدثر ۴) یعنی اپنے کپڑے کو پاک کرو۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے اخلاق کو اور دوسروں کے اخلاق کو درست بناؤ۔

Printed page