عداوت کے مسئلہ کا حل
Al-Risala, October 2002, pp. 421–426
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سے لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے۔ پھر اس مفروضہ کے تحت وہ اُس قوم کے خلاف متشددانہ لڑائی چھیڑ دیتے ہیں تا کہ اُس کی دشمنی کے انجام سے اپنے آپ کو بچا مگر یہ مفروضہ بھی غلط ہے اور اس مفروضہ کی بنیاد پر بنایا جانے والا نقشہ کار بھی غلط۔
دشمنی ہاتھ کی انگلی کی طرح انسانی وجود کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ وہ انسانی وجود کا ایک اوپرى مثبت تدبیر کے ذریعہ ہر دشمنی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ دشمنی کی مثال ایسی ہے جیسے گلاس کے اوپر لگی ہوئی مٹی۔ ایسی مٹی کو نہایت آسانی کے ساتھ پانی سے دھو کر صاف کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ گلاس میں مٹی کا لگنا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے پاس مٹی کو دھونے کے لیے صاف پانی نہ ہو۔ تالی ہمیشہ دو ہاتھ سے بجتی ہے، ایک ہاتھ سے کبھی تالی نہیں بجتی۔ اسی طرح دشمنی ایک دوطرفہ اگر کوئی شخص آپ کا دشمن بنے تو آپ خود اُس کے دشمن نہ بنیں۔ اس کے بعد دشمنی اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔ دشمن کے ساتھ دشمنی نہ کرنا ہی دشمنی کے مسئلہ کا سب سے زیادہ کارگر عمل ہے۔ ہتھیار جمع کرنا بے فائدہ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ میرا گھر شہر کے ایک ایسے کنارہ پر ہے جہاں سے غیر قوم کی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ میں نے پیسہ خرچ کر کے اپنے گھر کے ہر فرد کے لیے لائسنس بنوایا اور پھر گھر کے ہر فرد کے نام گن اور ریوالور حاصل کر لیا۔ اب میں اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو محفوظ سمجھتا ہوں۔ اب مجھے دنگے اور فساد کا کوئی ڈر نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ تجارت کا اصول جانتے ہیں مگر آپ سماجی زندگی کے اصول کو نہیں جانتے۔ سماجی تحفظ کا ذریعہ گن اور ریوالور نہیں ہے۔ سماجی تحفظ کا اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کے لیے بہترین پڑوسی بن کر رہیں۔ آپ دوسروں کو اپنے شر سے بچائیں۔ اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہیں گے۔ اگر آپ دوسروں سے نفرت کریں تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو نفرت ملے گی اور اگر آپ کے دل میں دوسروں کے لیے خیر خواہی ہو تو دوسروں کی طرف سے بھی آپ کو محبت اور خیر خواہی کا تحفہ ملے گا۔
میں نے کہا کہ اگر آپ کے گھر کے سامنے غیر قوم کی بھیڑ اکٹھا ہو جائے اور آپ اپنی بالکنی پر کھڑے ہو کر اُس کے اوپر گولی چلا دیں تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بس اتنے ہی پر معاملہ ختم ہو جائے گا۔
آپ کو جاننا چاہیے کہ انسانوں کے اوپر گولی چلانا آپ کے لیے قابل دست اندازی پولیس جرم (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جب بھی ایسا ہوگا تو پولیس فوراً وہاں آ جائے گی اور آپ ہرگز پولیس سے لڑ نہیں سکتے۔
آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ کے پاس گن ہونا اور پولیس کے پاس گن ہونا دونوں میں بے حد بنیادی آپ گن رکھنے کے باوجود کسی کو گولی مارنے کا قانونی حق نہیں رکھتے۔ لیکن پولیس کے پاس گن ہے تو وہ گولی مارنے کا قانونی حق بھی رکھتی ہے۔ غیر قوم کے مقابلہ میں بظاہر مقابلہ دو مساوی فریق کے درمیان نظر آتا ہے مگر جب معاملہ آپ کے اور پولیس کے درمیان کا ہو جائے تو یہ مقابلہ مکمل طور پر غیر مساوی ہو جاتا ایسی حالت میں آپ کا گولی چلانا اپنے نتیجہ کے اعتبار سے، سے،آبیل مجھے مار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہے کہ اس قسم کا اقدام تحفظ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف ہلاکت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ضمیر بہترین حج ہے ایک شہر میں ایک مسلمان نے اپنے لیے نیا گھر بنایا۔ گھر سے ملی ہوئی ایک زمین کو انہوں نے حصار بنا کر اپنے گھر میں داخل کر لیا۔ اُن کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکیدار تھا۔ اس ہندو ٹھیکیدار کا دعویٰ تھا کہ یہ زمین اُس کی ہے۔ چنانچہ اُس نے شہر کے کٹر ہندوؤں سے مل کر انہیں بھڑ کایا۔ یہاں تک کہ ایک دن ہندوؤں کی ایک بھیڑ گھر کے سامنے سڑک پر اکٹھا ہو گئی، اور نعرے لگانے لگی۔ مذکورہ مسلمان کے پاس اُس وقت دو بندوقیں تھیں۔ مگر اُنہوں نے بندوق نہیں اٹھائی۔ اور خالی ہاتھ گھر سے نکل کر باہر آئے۔ انہوں نے نعرہ لگانے والی بھیڑ سے کچھ نہیں کہا۔ صرف یہ پوچھا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ ایک صاحب جن کا نام مسٹر سونڈ تھا، آگے بڑھے اور کہا، وہ میں ہوں، بتائیے کہ آپ کو کیا کہنا ہے۔ مسلمان نے بھیڑ سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے اور مسٹر سونڈ کو لے کر گھر کے اندر آ گئے۔ اُن کو کمرہ میں لا کر اُنہیں کرسی پر بٹھا دیا۔ اس کے بعد مسلمان نے کہا کہ مسٹر سونڈ آپ لوگ کس سلسلہ میں یہاں آئے۔ مسٹر سونڈ نے غصہ میں کہا کہ آپ نے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے، ہم اسی کے لیے یہاں آئے ہیں۔
نے نرمی کے ساتھ کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ زمین کا خذر پر ہوتی ہے۔ زمین کا فیصلہ کا غذ کو دیکھ کر کیا جاتا آپ ایسا کیجئے کہ میرے پاس جو کا غذات ہیں اُن کو لے لیجئے اور ٹھیکہ دار صاحب کے پاس جو کا غذات ہیں اُن کو بھی لے لیجئے۔ اور پھر نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے گھر چلے جائیے۔ اس معاملہ میں میں آپ ہی کو جج بناتا ہوں ۔ آپ کا غذات کو دیکھنے کے بعد جو بھی فیصلہ کر دیں وہ مجھے بلا شرط منظور ہوگا۔ یہ سُن کر مسٹر سونڈ بالکل نارمل ہو گئے۔ وہ غصہ کی حالت میں اندر گئے اور ہنستے ہوئے باہر انہوں نے سڑک پر کھڑی ہوئی بھیڑ سے کہا کہ تم لوگ اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ میاں جی نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ اب ہم دونوں کے کا غذات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ مسٹر سونڈ نے اس کے بعد گھر جا کر دونوں کے کا غذات کو دیکھا اور معاملہ کو اچھی طرح سمجھا۔ چند دن کے بعد انہوں نے صد فی صد مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔
مذکورہ مسلمان اگر اپنی بندوق کو لے کر بھیڑ کے اوپر گولی چلاتے تو وہ بھیڑ کے نفس امارہ (انانیت) کو جگا دیتے۔ اور پھر یقینی طور پر سارا معاملہ مسلمان کے خلاف ہو جاتا۔ مگر جب انہوں نے گن کے بجائے معقولیت کو استعمال کیا تو اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کا نفس لوامہ (ضمیر) جاگ اُٹھا۔ اور جب ضمیر جاگ اُٹھے تو اُس کا فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں ہوتا ہے، ضمیر کبھی ظلم اور بے انصافی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ فتح بھی شکست ہے شاہ پائرس (King Pyrrhus) تیسری صدی قبل مسیح کا ایک یونانی بادشاہ تھا۔ اُس کی لڑائی رومیوں سے ہوئی ۔ اس جنگ میں آخر کار شاہ پائرس کو رومیوں کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ مگر لڑائی کے دوران شاہ پائرس کی فوج اور اُس کے ملک کی اقتصادیات بالکل تباہ ہو چکی تھی۔ شاہ پائرس کے لیے یہ بظاہر فتح تھی مگر وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے شکست کے ہم معنی تھی۔ اس تاریخی واقعہ کی بنا پر ایک اصطلاح مشہور ہوئی ہے جس کو پرک وکٹری (Pyrrhic Victory) کہا جاتا ہے، یعنی بظاہر فتح مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل شکست۔
جنگوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اکثر فتح پرک فتح ہی ہوتی ہے۔
کے حصہ میں دو نقصان کا پیش آنا لازمی ہے۔ ایک، جان اور مال کی تباہی۔ دوسرے، مفتوح کے دل میں فاتح کے خلاف نفرت۔ کوئی بھی فاتح ان نقصانات سے بچ نہیں سکتا۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ کوئی فاتح اس نقصان کو فوراً بھگتتا ہے، اور کسی فاتح کے حصہ میں یہ نقصان کسی قدر دیر کے بعد آتا ہے۔ نقصان کا یہ معاملہ صرف پرتشدد طریقہ کار کے ساتھ وابستہ ہے۔ پر امن طریقہ کار کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ پر امن طریقہ کار میں صرف فتح ہے، پر امن طریقہ کار میں شکست کا کوئی حتیٰ کہ اگر پر امن طریقہ کار کا نتیجہ بظاہر شکست کی صورت میں نکلے تب بھی وہ فتح ہے۔ لیے کہ پر امن طریقہ کار کی صورت میں آدمی جنگ کو کھوتا ہے مگر وہ مواقع کو نہیں کھوتا۔ امکانات اب بھی اُس کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ وہ ان مواقع کو استعمال کرکے دوبارہ ایک نئی جدوجہد شروع کرسکتا ہے اور از سر نو اپنی کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ شکایت کو فوراً ختم کرنا شکایتی مزاج ایک قاتلانہ مزاج ہے۔ شکایتی مزاج آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا کرتا ہے۔ آدمی کو مثبت سوچ سے محروم کر دیتا ہے۔ اور اس قسم کا مزاج بلاشبہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ تشدد کے پیچھے شکایتی مزاج ہی کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
موجودہ دنیا کا تخلیقی نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں لازماً ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ ہے کہ شکایت کا خیال آتے ہی فوراً اُس کو اپنے دماغ سے نکال دیا جائے۔ شکایت جب پیدا ہوتی ہے تو پہلے وہ آدمی کے شعوری ذہن (conscious mind) میں ہوتی ہے۔ اگر اُس کو یاد رکھا جائے یا بار بار دہرایا جائے تو وہ دھیرے دھیرے آدمی کے غیر شعوری ذہن (unconscious mind) میں چلی جاتی ہے۔ اور اس طرح بیٹھ جاتی ہے کہ اس کے بعد کسی طرح اُس کو نکالا نہیں جاسکتا۔
ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ شکایت کے معاملہ میں وہ ’’گر بہ کشتن روز اول‘‘ کا معاملہ شکایت پیدا ہوتے ہی اس کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ اگر پہلے ہی مرحلہ میں اُس کو ختم نہ کیا
جائے تو دھیرے دھیرے وہ آدمی کی نفسیات کا مستقل جز ء بن جائے گی۔ اس کے بعد آدمی کی سوچ منفی سوچ بن جائے گی۔ وہ دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ اگر موقع ہو تو وہ دوسروں کے خلاف تشدد پر اتر آئے گا۔ یہاں تک کہ وہ زیر شکایت لوگوں سے عملی ٹکراؤ شروع کر دے گیا ، خواہ اس کا نتیجہ برعکس صورت میں کیوں نہ ظاہر ہو۔
شکایت کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کرنے کا فارمولا کیا ہے، وہ فارمولا قرآن کے الفاظ میں یہ ہے: وما أصابكم من مصيبة فبما كسبت ايديكم (الشورى (۳۰) یعنی جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کو دوسرے کے خلاف شکایت پیدا ہو تو فوراً آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ شکایت کا رخ اپنی طرف کر لیں۔ معاملہ کی کوئی ایسی تو جیہہ ڈھونڈیں جس میں قصور خود آپ کا نکلتا ہو۔ جب آپ کو یہ احساس ہوگا کہ کوتاہی خود آپ کی ہے، نہ کہ کسی غیر کی تو ایسی حالت میں یہ ہوگا کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے میں لگ جائیں گے، نہ کہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف فریاد اور احتجاج میں وقت ضائع کریں گے۔ بین کا ذکر ( )'ریر'