Al-Risala · November 2002

ہجر جمیل

Al-Risala, November 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن مکی سورہ نمبر ۷۳ میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: واصبر علی ما یقولون واهجرهم هجراً جميلاً (المزمل ۱۰) اُردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کئے ہیں اُن میں سے چند یہاں نقل کئے جاتے ہیں:

اور سہتارہ جو کہتے رہیں اور چھوڑ اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا (شاہ عبد القادر) اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں اُن پر صبر کر اور خوبصورتی کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ۔ (اشرف علی تھانوی)

اور سہتارہ جو کچھ وہ کہتے رہیں اور چھوڑ دے اُن کو بھلی طرح کا چھوڑ نا۔ (محمود حسن، دیو بندی) اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اُس پر صبر کرو اور اُن کو خوبصورتی سے نظر انداز کر۔ (امین احسن اصلاحی) اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا:

Endure patiently what ever they say, and avoid them in a decent manner. قرآن کی یہ آیت کی دور میں اُتری۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ماحول میں قرآن کی یہ آیت اُتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔

ہجر جمیل کے لفظی معنی ہیں___ خوبصورتی کے ساتھ چھوڑ نا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسن اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی رد عمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ مثبت رد عمل کا طریقہ ہونا چاہئے۔ تم کو چاہئے کہ اُن کے معاملہ میں در گذر کرو اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔

مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیات قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہل ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی رد عمل کا تحل نہیں کر سکتا۔ نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے تاکہ اُس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تاکہ اُس کے اندر محبت الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔ ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ بھی حال میں اُس کے اندر نقصان (erosion) نہ ہونے پائے۔

قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے ۔ (الاحزاب ۴) یعنی انسان کے دل میں بیک وقت دو متضا د نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں ۔ جو دل انسان سے نفرت کرے، عین اُسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو وہ خدا ئے رحمٰن ورحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے ۔ آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اُس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

ابن اسحق کی روایت ہے کہ مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ وشتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمّم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مذمّم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: الا تعجبون لما صرف الله عنى من اذى قريش، يسبون ويهجون مذمما وأنا محمد ـ (سیرت ابن ہشام جلد ۱، صفحہ ۳۷۹) یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا، وہ سبّ وشتم کرتے ہیں اور مذمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میں محمد ہوں۔

پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ ’’مذمم مجنون ہے‘‘ تو رسول اللہ اس کا بُرا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اُس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مذمم ہو، میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اُس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمل نہیں کر سکتا۔

اس طرح کے حسن اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے، اتفاق سے اُن کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ اُن کی گاڑی میں رگڑ (dent) آ گیا۔ اُس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی ۔ گاڑی روک کر اُترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اُتر گئے۔ اٗس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ ایڈیٹ (idiot) ۔ اس انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں، احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا: Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain. جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں ۔ میں ذاکر حسین ہوں۔ یہ سُن کر اُس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ساری (sorry) کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہو گیا۔

۲-ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکہ کے سرداروں نے رسول اللہ کو اور آپ کے صحابہ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اُس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اُن کی یک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے۔ اصحابِ رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا اُن کو بظاہر ایک ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ: قریش آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اُس پر راضی ہو جاؤں گا (سیرت ابن ہشام، الجز ء ۳ ، صفحہ ۳۵۸) دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک گوارا معاملہ بنا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قولِ ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالاں کہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن ابی تھا۔ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوگیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔

اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ، ارفق بہ، فواللہ لقد جاء نا اللہ بك وان قومه لينظمون له الخرز ليتوجوه، فانه ليرى أنك قد استلبته ملكاً ۔ (سیرت ابن ہشام، الجزء ۳، صفحہ ۳۳۶) یعنی اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیے تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو اپنا بادشاہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔

یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شرانگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں ، حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔

اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔

حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ اپنے صحابہ کے ساتھ با جماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔

اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: یا أبابكر أليس برسول الله ، قال : بلى ، قال : أولسنا بالمسلمين، قال : بلى ، قال : قال : بلى ، قال : فعلام نعطى الدنية في ديننا ؟ لابن كثير ۳/ ۳۲۰)۔ یعنی اے ابو بکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ

کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔

یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود اُن کی یک طرفہ شرطوں پر دس سال کا جو امن معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدہ امن کر کے معتدل حالات پیدا کئے جائیں تا کہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری ہو سکے۔ مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔

یہ ہجر جمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔ اگر اُس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اُس کی ساری معنویت ختم ہوجائے گی۔

ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے۔ یا تو وہ اتنا زیادہ ہوش مند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں۔ وہ اعلان کے بغیر اُس کی اہمیت کو دریافت کر جن لوگوں کے اندر اتنی ہوش مندی نہیں ہے اُن کے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ اُن کے رہنمانے جو بات کہی ہے اُس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔

۵- صلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صلح تھی جو دشمن کے مقابلہ میں دب کر کی گئی۔ مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھا اور وہ تھا ٹکراؤ کو ایوائڈ کر کے اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہده کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اُسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہو جاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان

کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہوگیا، اُس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔

یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابوبکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: ما كان فتح اعظم فى الإسلام من فتح الحديبية، ولكن الناس يومئذٍ قصر رأيهم عمّا كان بين محمد ورّبه، والعباد يعجلون والله لا يعجل كعجلة العباد حتى يبلغ الامور ما أراد ـ (حياة الصحابة، ۱/ ۱؍۱۵۷) یعنی اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی۔ کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان انسان عجلت پسند ہے اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ امور کو وہاں تک پہنچادے جو وہ چاہتا ہے۔

ہجر جمیل (حسن اعراض) سادہ طور پر محض ایک بچاؤ کی تدبیر نہیں، بلکہ وہ با مقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔ با مقصد انسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اُس کا سب سے بڑا کَنْسَرْن (concern) ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستہ کے ہر الجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے تاکہ وہ کسی رُکاوٹ کے بغیر اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکہ کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت زیادہ ستایا تھا۔ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترکِ وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔

آخرکار وہ وقت آجا جب کہ پیغمبر اسلام اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی اُنہیں سزا دی جائے۔ عام رواج کے مطابق، اُن کو قتل کردینا عین جائز تھا۔ پیغمبر اسلام نے اُن لوگوں کے ساتھ ہجر جمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں

تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ: اخ کریم و ابن اخ کریم ۔ بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں)۔

پیغمبر اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے بارہ میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا۔ یعنی لا تثریب علیکم الیوم (یوسف ۹۲) آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ: جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ اس طرح آپ نے اُن تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک با مقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں۔ مکہ کے لوگوں کو شرک سے نکال کر انہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں ۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے، تو جیہہ کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔

پیغمبر اسلام کے یک طرفہ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو راوی کہتے ہیں کہ: فخرجوا كانما نشروا من القبور، فدخلوا في الإسلام (حياة الصحابة ۱/ ۵۱۷) یعنی پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس اُن دشمنوں سے اُن کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا اور پھر حالات ایسا منفی رُخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ غیر فطری ردعمل جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اُس کے مقابلہ میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں ۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ ۔ جذباتی ردعمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (alergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی

جاتی ہے کہ الرجی نام ہے، معتدل حالات میں غیر معتدل ردعمل کا۔

Printed page