امن برائے امن
Al-Risala, November 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
امن (peace) کیا ہے ۔ اہل علم اس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ امن عدمِ جنگ (absence of war) کا نام ہے ۔ یعنی جنگ نہ ہو رہی ہو تو کہا جائے گا کہ امن قائم ہے۔ حالت نہ ہونے کا نام امن کی حالت ہے۔ جو لوگ اپنے کسی حق (right) کے نام پر متشددانہ جنگ کر رہے ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ امن مع انصاف (peace with justice)
کا نام امن ہے۔ جس امن سے انصاف حاصل نہ ہو وہ امن بھی نہیں۔
یہ دوسرا نظریہ ایک غلط سوچ کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ اس طرح سوچیں اُن کو نہ کبھی امن ملے گا اور نہ کبھی انصاف۔ حقیقت یہ ہے کہ امن کا مقصد مواقع (opportunities) کو حاصل کرنا ہے نہ کہ انصاف کو حاصل کرنا۔ امن بجائے خود کسی کو انصاف نہیں دیتا۔ امن صرف یہ کرتا ہے کہ وہ معتدل حالات قائم کر دیتا ہے جس میں عمل کر کے انصاف یا حق حاصل کیا جا سکے۔
موجودہ دنیا میں جب بھی کسی کو کوئی چیز ملتی ہے وہ اُس کے اپنے عمل کے نتیجہ میں ملتی ہے۔ کا فائدہ صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے حق میں وہ معتدل حالات پیدا کر دے جس میں آپ کے لیے اپنے موافق منصوبہ بندی کرنا ممکن ہو جائے۔ جنگ و تشدد کے حالات کام کے مواقع کو برباد کرتے ہیں۔ جب کہ امن اور صلح کے حالات کام کرنے کے تمام دروازے اس طرح کھول دیتے ہیں کہ اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔