عمومی صحبت
Al-Risala, November 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی صحبت جو اکثر مسجد میں یا کسی اور مجلس میں آپ کے اصحاب کو حاصل ہوتی تھی، اُس کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ آپ کی مجلسوں میں اصحابِ رسول کو کس طرح ذہنی تعمیر کی خوراک ملتی رہتی تھی۔
عن ابی ذر قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : كيف أنتم و ائمة من بعدی، يستأثرون بهذا الفئ، قلت : أما والذي بعثك بالحق، اضع سیفی علی عاتقی، ثم اضرب به حتی القاك، قال : اولا ادلك علی خیر من ذلك : تصبر حتی تلقانی (سنن ابی داؤد، كتاب السنة ؛ بحواله مشكاة المصابيح ۲/ ۱۰۹۵)
ترجمہ: ابو ذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس وقت تمہارا حال کیا ہو گا جب میرے بعد والے حکمران آئیں گے۔ وہ فئ(اموال (اموالِ حکومت) کو اپنے لیے خاص کر لیں گے۔ میں نے کہا کہ اُس خدا کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تلوار کو اپنے کندھے پر رکھوں گا اور پھر اس سے انہیں ماروں گا یہاں تک کہ میں آپ سے مل جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اس سے زیادہ بہتر بات نہ بتاؤں۔ تم صبر کرو، یہاں تک کہ تم مجھ سے مل جاؤ۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کے ذریعہ اپنے اصحاب کو ایک نئی فکری روشنی دی۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جب اپنے حکمرانوں میں بگاڑ دیکھتے ہیں تو وہ اصلاحِ سیاست کے نام پر
ان سے متشددانہ ٹکراؤ شروع کر دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بگاڑ کے زمانہ میں حکمرانوں سے ٹکرا کر شہید ہو جانے سے زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اُن کے بگاڑ پر صبر کیا جائے اور یہ سب اُس وقت تک جاری رکھا جائے جب کہ انسان کی موت آجائے۔
اس حدیث میں ”صبر“ سے مراد بے عملی نہیں ہے بلکہ اُس سے مراد ایک عظیم ترین عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمرانوں سے نزاع کا طریقہ چھوڑ کر اپنے عمل کے لیے غیر نزاعی طریقہ ڈھونڈنا اور اُس پر کار بند ہو جانا۔ سیاسی نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے صبری کی پیدا وار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نزاع کو ایوائڈ کرتے ہوئے عمل کرنا اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے جذبات پر کنٹرول کر کے صابرانہ انداز میں اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔
یہ ایک عظیم حکمت تھی جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو تلقین فرمائی، صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین نے اس حکمت کو سمجھا اور اُس پر بھر پور عمل کیا۔ اس کے نتیجہ میں دورِ اوّل میں وہ عظیم اسلامی کام انجام پایا جو مذکورہ صابرانہ سیاست کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے خلفائے راشدین کے بعد فورا سیاست میں بگاڑ آگیا۔ مسلم حکمراں شریعت کے مقرر راستے سے ہٹ گئے ۔ اُس زمانہ میں اگر اہل ایمان اپنے حکمرانوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اُس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ پہلی اور دوسری نسل کے تمام بہترین لوگ قتل کر دیئے جاتے۔ ابتدائی نسل کے وہ تمام تاریخ ساز لوگ قبروں میں دفن ہو جاتے۔ اسلام کی وہ عظیم تاریخ بننے کی نوبت ہی نہ آتی جوان لوگوں کے ذریعہ بنی۔
مثلاً ابتدائی نسل کے یہی وہ لوگ ہیں جو سیاسی ٹکراؤ کے محاذ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کے میدان میں سرگرم ہو گئے اور کروڑوں لوگوں کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر دیا۔ دورِ پریس سے پہلے قرآن کی حفاظت اور اشاعت کا وہ عظیم کام انجام دیا جس کی مثال دوسری آسمانی کتابوں میں نہیں ملتی۔ انہوں نے لاکھوں حدیثوں کو جمع کر کے اُن کی چھان بین کی اور صحیح احادیث کے مجموعے تیار کر کے دنیا کو علم حدیث کا قیمتی تحفہ دیا۔ انہوں نے فقہ کی تدوین کا وہ عظیم
کام انجام دیا جس کی مثال کسی اور دین میں موجود نہیں۔
اسی طرح یہی ابتدائی نسل کے لوگ ہیں جنہوں نے حکومتی بگاڑ سے صرف نظر کر کے تمام اسلامی علوم کو مدون کیا۔ مثلاً سیرت، تاریخ، عقائد و کلام، عربی زبان کے لغات تیار کرنا، نحو اور صرف اور بلاغت اور دوسرے متعلق علوم کی ترتیب و تدوین۔
دور اول کے اہل ایمان کی انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام ہر اعتبار سے ایک محفوظ اور معتبر تاریخی دین بن گیا۔ جب کہ کسی بھی دوسرے مذہب کو یہ حیثیت حاصل نہیں۔ اور یہ تمام کارنامے صرف اس لیے انجام پائے کہ دور اول کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کی دی ہوئی رہنمائی کی بنا پر یہ حکیمانہ طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے مقابلہ میں متشددانہ ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور خدمتِ اسلام کے اُن بقیہ شعبوں میں پُر امن طور پر سر گرم عمل ہو گئے جو غیر نزاعی میدان میں انہیں