Al-Risala · November 2002

توسیعی صحبت

Al-Risala, November 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲۶ میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت فرمایا ہے کہ وہ ساجدین کے درمیان تمہارے تقلّب کو دیکھ رہا ہے (الشعراء، ۲۱۹) قرآن کی اس آیت میں ساجدین سے مراد مؤمنین ہیں۔ اور تقلب کا مطلب ہے چلنا پھرنا۔ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صبح و شام کی سرگرمیاں ہیں جو آپ اہل ایمان کی اصلاح کے لیے اور اُن کے اندر دینی شعور کو بیدار کرنے کے لیے انجام دیتے تھے۔ آپ کی یہ کوششیں بھی توسیعی مفہوم میں صحبت رسول کا ایک حصہ تھیں۔ ان کوششوں کے دوران آپ مسلسل اہل ایمان کے دینی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ توسیعی صحبت کے معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس قسم کی ایک مثال نقل کی جاتی ہے: عن ابی ھریره ان رجلا شتم أبا بکر والنبی صلی الله عليه و سلم جالس فجعل النبی صلی الله عليه و سلم یعجب و یتبسم فلما اکثر رد عليه بعض قوله

معك ملك يرد عنك فلما رددت عليه بعض قوله وقع الشيطان فلم أكن لأقعد مع الشيطان (مسند أحمد ۴۳۶/۲)

ترجمہ: ابو ہریرہ بتاتے ہیں کہ ایک شخص نے ابو بکر کے خلاف سب وشتم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر متعجب ہوتے رہے اور تبسم فرماتے جب اُس آدمی نے بہت زیادہ سخت کلامی کی تو ابو بکر نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دے دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور وہاں سے اُٹھ گئے۔ پھر ابو بکر چل کر اُن سے ملے ۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول! وہ آدمی مجھ کو سب وشتم کر رہا تھا اور آپ بیٹھے رہے۔ پھر جب میں نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو آپ غصہ ہو گئے اور وہاں سے اُٹھ کر چلے آئے۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری طرف سے بول رہا تھا۔ پھر جب تم نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا تو (فرشتہ چلا گیا) اور شیطان آگیا۔ تو میں نے شیطان کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں کیا۔ یہ اُس چیز کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس کو ہم نے پیغمبر کے ذریعہ ملی ہوئی شعوری بیداری کہا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر دو قسم کی صفات ہوتی ہیں__ نفسِ امارہ اور نفسِ لوامہ۔ نفسِ امارہ شیطان کی علامت ہے اور نفسِ لوامہ فرشتے کی علامت۔ ایک آدمی آپ کو گالی دے اور آپ چپ رہیں تو گالی دینے والے کا نفسِ لوامہ بیدار ہو کر اندر ہی اندر اْس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ آپ کی طرف سے فرشتہ کا جواب دینا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ ایسا کریں کہ سخت کلامی کے جواب میں آپ بھی سخت کلامی کریں تو دوسرے آدمی کا نفسِ امارہ متحرک ہو جائے گا۔ یہ آدمی کا شیطان کے زیرِ اثر آ جانا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس تلقین کے ذریعہ صحابہ کو ایک عظیم حقیقت بتائی۔ نے صحابہ کے اندر وہ فکری روشنی پیدا کی جو ہر معاملہ میں اُن کی کامیابی کی ضامن بن جائے خواہ وہ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اہلِ ایمان کو ایک گہری سوچ عطا کی۔ آپ نے بتایا کہ ہر انسان کے اندر پیشگی طور پر دو مختلف قِسم کی شخصیتیں چھپی ہوئی ہیں۔ دشمن شخصیت اور دوسری تمہاری دوست شخصیت۔ یہ تمہارے اپنے اختیار میں ہے کہ تم فریقِ ثانی کو اپنا دوست بناتے ہو یا اپنا دشمن۔ اگر تم نے فریقِ ثانی کے نفسِ امّارہ کو جگایا تو اِس کی دشمن شخصیت تمہارے حصّہ میں آئے گی۔ اور اگر تم نے اُس کے نفسِ لَوّامہ کو جگایا تو اِس کی دوست شخصیت تمہارے حصّہ میں

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِس ارشاد کے ذریعہ اس اہم حقیقت کی طرف نشان دہی فرمائی کہ اس دنیا میں کچھ نہ کرنے کا نام بھی کرنا ہے اور کچھ نہ بولنے کا نام بھی بولنا۔ اگر ایک شُخص آپ کے خلاف سَبّ و شتم کر رہا ہے اور آپ جواب نہیں دیتے، تو اس کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خاموش رہ کر زیادہ طاقتور متکلم کو بولنے کا موقع یعنی خدا کے فرشتہ کو۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ آپ جو کام کم مؤثر انداز میں انجام دیتے، اُس کو خدا کے فرشتہ نے زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے دیا۔

Printed page