Those who do not have arguments use bombs.
Al-Risala, January 2002, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر مشیر الحسن صاحب بھی ڈھاکہ کی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ دہلی ایر پورٹ پر ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کی ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی کی تاریخ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اس دور کی مسلم شخصیتوں پر انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے ان سے گفتگو کے دوران کہا کہ ۱۹ ویں اور ۲۰ ویں صدی میں برصغیر ہند میں جو معروف مسلم شخصیتیں اٹھیں وہ میرے مطالعہ کے مطابق، سب کی سب حال رخی (present oriented) ان میں سے کوئی بھی شخصیت مجھے مستقبل رخی (future oriented) دکھائی نہیں دیتی۔ انہوں نے میری اس رائے سے اتفاق کیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ بعض افراد مثلاً حکیم اجمل خاں کو
اس سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے لئے ایسا کہنا مشکل ہے۔ کیوں کہ حکیم اجمل خاں اور ان کے ساتھی خلافت تحریک میں سرگرم طور پر شریک ہوئے۔ حالاں کہ جس زمانہ میں یہ لوگ ترکی کی خلافت کے لئے ہندوستان میں کام کر رہے تھے اس وقت ترکی کی خلافت عملاً اپنا وجود کھو کر ماضی کا قصہ بن چکی تھی۔
دہلی ائر پورٹ پر جب میں سیکورٹی چیک پر پہنچا تو گیٹ پر کھڑے ہوئے پولیس نے ایک مسافر کو روک رکھا تھا۔ کیوں کہ اس کے ہینڈ بیگ میں ٹیگ (tag) لگا ہوا نہیں تھا۔ پولیس والے نے کہا کہ ٹیگ لگا کر لاؤ اس کے بعد اندر جانے کی اجازت ہوگی۔ مسافر نے کہا کہ ٹیگ تو ونڈو پر ملے گا اور ونڈو اب بند ہو چکا ہے۔ مسافر اسی پریشانی کے عالم میں کھڑا ہوا تھا کہ اب میں ٹیگ کہاں سے لاؤں۔ اتفاق سے میرے پاس ایک فاضل ٹیگ موجود تھا وہ میں نے اپنے بیگ سے نکال کر اس کو دیا۔ بعد پولیس نے مسافر کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ اس وقت فارسی کی اس مثل کی معنویت سمجھ میں آئی: داشته آید بکار (رکھا ہوا کام آتا ہے)
۳۱ مئی کی صبح کو میں دہلی ائر پورٹ پر فجر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ اتنے میں دو نو جوان آکر میرے ساتھ شریک ہو گئے۔ ایک نو جوان کا نام حسن عبداللہ اور دوسرے کا نام عبداللہ تھا۔ انڈونیشیا سے ۴۰ دن کے چلے پر تبلیغ میں آئے تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ کس لئے آئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی اصلاح کے لئے۔ یقین و ایمان حاصل کرنے کے لئے۔ میں نے ان سے مزید تشریحی سوالات کرنے چاہے مگر وہ عربی اور انگریزی دونوں ہی زبانوں سے نا واقف تھے، اس لئے ان سے زیادہ گفتگو نہ ہوسکی۔
۳۱ مئی کی صبح کو ۵ بجے دہلی سے ڈھاکہ کے لئے روانگی ہوئی۔ ۲ گھنٹہ کا یہ سفر بنگلہ دمان کی فلائٹ کے ذریعہ طے ہوا۔ جہاز مقرر وقت سے دو گھنٹہ لیٹ تھا۔ یہ ایک پرانا جہاز تھا جس کی ہر چیز بظاہر معمولی تھی۔ کھانا بھی معمولی دیا گیا۔ بچوں اور عورتوں کا شور جہاز کے اندر سکون کو مسلسل برہم کئے
البتہ جہاز کی روانگی سے پہلے ٹیپ کی ہوئی آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اور قرآن کی قرأت سنائی دی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ یہ ایک مسلم ملک کا جہاز ہے۔ جہاز کے اندر اس کا فلائٹ میگزین Diganto (اپریل۔ جون ۲۰۰۱) دیکھا۔ کے اندر کوئی قابل مطالعہ مضمون نہیں ملا۔ البتہ اس کے آخری صفحہ پر چند چیزوں کی تصویریں تھیں۔ مثلاً بنگلہ دیش بننے کے بعد چند نیشنل یادگاروں (Monuments) کی تصویریں ۔ بنگلہ دیش بننے کے وقت ۱۹۷۱ میں ۳۱۱۰ لاکھ سے زیادہ ہلاک ہونے والے بنگلہ دیشیوں کی یادگار، ۱۹۵۲ کے لسانی فسادات میں جو لوگ کام آئے ان کی یادگار، نواب ڈھاکہ کی قیام گاہ احسن منزل، بہمان نیشنل کیرئر، وغیرہ کی تصویریں۔ اس کے اوپر یہ لکھا ہوا تھا: