جہاد کیا ہے
Al-Risala, November 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
ملا علی قاری مشہور عالم اور فقیہہ ہیں۔ وہ اپنے مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ اُن کا پورا نام یہ ہے: علی بن (سلطان) محمد، نورالدین الملا الہروی القاری۔ ملا علی قاری ہرات میں پیدا ہوئے۔ کی وفات ۱۰۱۴ھ (۱۶۰۶ء) میں مکہ میں ہوئی۔ انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پر کثیر تعداد میں
ملا علی قاری کی ایک کتاب کا نام مرقاۃ المصابیح ہے جو مشکاۃ المصابیح کی شرح میں لکھی گئی اس کتاب میں ملا علی قاری کتاب الجہاد کے تحت لکھتے ہیں کہ جہاد کے لفظ میں لغوی طور پر جد و جہد اور مشقت کا مفہوم ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: ثم غلب في الإسلام علی قتال الكفار۔ پھر جہاد کا لفظ اسلام میں اہل کفر سے جنگ کے لیے استعمال ہونے لگا۔
ہر لفظ کا ایک لغوی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا استعمالی مفہوم۔ یہی معاملہ جہاد کا بھی ہے۔ کا لفظ جہد سے نکلا ہے۔ لغوی طور پر اس کے معنی کوشش کے ہیں۔ اس میں مبالغہ کا مفہوم ہے۔ میں یہ لفظ مختلف قسم کی جدو جہد کے لیے لکھا بولا جاتا ہے۔ اُنہی میں سے ایک جنگ بھی ہے، تاہم اس کا استعمال صرف اس جنگ کے لیے خاص ہے جو فی سبیل اللہ کی گئی ہو، ملک و مال کے لیے جو جنگ کی جائے اُس کو جہاد نہیں کہا جائے گا۔
قرآن میں اس سلسلہ میں دو مختلف لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ جہاد اور قتال۔ جدوجہد مراد ہو تو وہاں قرآن میں جہاد کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن کے ذریعہ پر امن دعوتی جد و جہد (الفرقان (۵۲)۔ اور جب باقاعدہ جنگ مراد ہو تو وہاں قرآن میں قتال کا لفظ استعمال کیا جاتا مثلاً آل عمران ۱۲۱۔ تاہم بعد کے زمانہ میں جہاد کا لفظ اکثر قتال کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ جہاد کے لفظ کے اس استعمال کو اگر بالفرض درست مانا جائے تب بھی وہ جہاد کے لفظ کا ایک توسیعی استعمال ہوگا، نہ کہ اُس کا حقیقی استعمال۔