چند اسلامی مسائل
Al-Risala, November 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں ایک برائی ظاہر ہوئی ہے جس کو دہشت گردی (terrorism) کہا جاتا دہشت گردی کو عام طور پر کنڈم کیا جاتا ہے مگر دہشت گردی کیا ہے، اس کی کوئی واضح تعریف غالباً ابھی تک سامنے نہ آسکی۔ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے میں نے سمجھا ہے کہ دہشت گردی نام ہے، غیر حکومتی تنظیموں کا ہتھیار اٹھانا (armed action by NGOs)۔
اسلام کے متفقہ اصول کے مطابق، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے ہے(الرحیل للإمام) وہ چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دہشت گردی کہا جاتا ہے، وہ سب کی سب غیر حکومتی تنظیموں کے مسلح اقدام کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ اس قسم کی مسلح تحریک بلاشبہ اسلام میں نا جائز ہے۔ عوام کو پر امن انداز میں اپنی بات کہنے کا حق ہے مگر کسی بھی عذر کی بنا پر مسلح تحریک چلانا عوام کے لئے ہر گز جائز نہیں۔
مزید یہ کہ ایک قائم شدہ حکومت کے لیے بھی جنگی اقدام کی کئی لازمی شرطیں ہیں۔ قائم شدہ حکومت بھی صرف دفاعی جنگ کر سکتی ہے، جارحانہ جنگ چھیڑنے کا حق حکومت کو بھی نہیں۔ اسی طرح ایک جائز جنگ بھی اعلان کے ساتھ لڑی جائے گی، بلا اعلان جنگ (undeclared war) کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں۔ اسی طرح ایک جائز دفاعی جنگ میں بھی حکومت صرف مقاتل (combatants) پر وار کر سکتی ہے، غیر مقاتل (non-combatants) کو مارنا یا اُن کو نقصان پہنچانا جنگ کی حالت میں بھی ہر گز جائز نہیں۔
ان حقیقتوں کو سامنے رکھے تو معلوم ہوگا کہ اسلام میں جنگ کی صرف ایک قسم کا جواز ہے، اور وہ دفاعی جنگ ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی جنگ، مثلاً جارحانہ وار، پراکسی وار، گوریلا وار اور پھر بلا اعلان وار، یہ سب کی سب اسلام میں قطعی ناجائز ہیں۔ کسی بھی عذر کی بنا پر اس قسم کی جنگوں کو اسلامی جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مذکورہ تعریف کے مطابق، دہشت گردی کی ہر تحریک یقینی طور پر ناجائز ہے، ایسی کسی تحریک کو اسلامی جہاد کا نام دینا اُس کو جائز نہیں بناتا۔ ایسی ہر کوشش گناہ پر سرکشی کا اضافہ ہے، وہ یقینی طور پر ایسی کسی جنگ کا اسلامی جواز نہیں۔