کھلی مذمت ضروری
Al-Risala, November 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن وحدیث میں اہلِ ایمان کو جو احکام دیے گئے ہیں اُن میں سے ایک حکم وہ ہے جس کو انکار منکر کہا جاتا ہے۔ یعنی برائی کو دیکھنے کے بعد کھلے الفاظ میں اُس کی مذمت کرنا۔ اس سلسلہ میں بتایا گیا ہے کہ کسی سماج میں اگر بُرائی ہورہی ہو تو اُس کو دیکھ کر چپ رہنا ایک سنگین جرم ہے۔ کسی آدمی کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ براہِ راست طور پر بُرائی میں شریک نہیں۔ اگر وہ برائی کو دیکھنے کے باوجود چپ رہے تو وہ بالواسطہ طور پر اُس کا مجرم قرار پائے گا۔
مثلاً موجودہ زمانہ میں مسلمان جگہ جگہ جہاد کے نام پر وہ کام کر رہے ہیں جس کو ساری دنیا کا پریس دہشت گردی کے عنوان سے رپورٹ کرتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس معاملہ میں دنیا کے تقریباً تمام مسلمان خدا کی نظر میں مجرم ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق، ساری دنیا میں کوئی بھی قابلِ ذکر مسلمان نہیں جو تشدد کی اس برائی کو کھلے طور پر کنڈم کرتا ہو۔ مسلمانوں کی ایک تعداد وہ ہے جو اس متشددانہ سرگرمی کو عین اسلامی جہاد قرار دیتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ خودکش بمباری (suicide bombing) کو استشہاد (طلب شہادت) کا نام دے کر اُس کو عین درست بتاتی ہے۔ مسلمانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو مذمت کے الفاظ بولتا ہے مگر حقیقت میں وہ مذمت نہیں ہوتی۔ مثلاً وہ کہیں گے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ مگر وہ یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں فلاں مقام پر مسلمان جو متشددانہ تحریک چلا رہے ہیں وہ دہشت گردی ہے اور وہ اسلام کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں اُن کی مذمت ایک خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جو بظاہر نام لے کر مذمت کرتا ہے مگر اسی کے ساتھ وہ ایسے دفاعی الفاظ بھی بولتا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ اس دہشت
گردی کی اصل ذمہ داری مسلم دشمنوں کی ہے، نہ کہ خود مسلمانوں کی۔
مذمت کے یہ طریقے یقینی طور پر غیر اسلامی ہیں۔ مذمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف دہشت گردی کو خلاف اسلام بتایا جائے بلکہ مختلف مقامات پر جہاد کے نام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اُس کو کھلے لفظوں میں رد کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ کی یہی مجرمانہ خاموشی ہے جس کی بنا پر یہ ہو رہا ہے کہ جہاد کے نام پر ہونے والا تشدد کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔ اس مجرمانہ تشدد میں خود ساختہ مجاہدین اگر براہ راست شریک ہیں تو بقیہ مسلمان بالواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں۔ اور اسلامی نقطہ نظر سے، براہ راست شرکت اور بالواسطہ شرکت کے درمیان صرف ڈگری کا فرق ہے، اُن کے درمیان نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ناکامی کا کیس امن کی طاقت تشدد کی طاقت سے زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ امن دانش مندوں کا طریقہ ہے اور تشدد نادانوں کا طریقہ۔ ایسی حالت میں جب کوئی شخص تشدد کرتا ہے تو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے زیادہ طاقتور طریقہ استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح ایسا آدمی اپنے متشددانہ عمل سے یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے معاملہ میں ایک نادان آدمی ثابت ہوا، نہ کہ دانش مند آدمی۔
امن اور تشدد سادہ طور پر صرف دو طریقے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسانیت کے دو مختلف معیار ہیں۔ امن کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنی انسانیت کو بلند کرتا ہے اور تشدد کا طریقہ اختیار کرنے والا آدمی اپنے آپ کو انسانیت کے اعلیٰ معیار سے نیچے گرا لیتا ہے۔
کوئی مسئلہ پیش آنے کے بعد جب ایک آدمی امن کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے اندر مثبت سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ وہ اپنے اخلاقی معیار کو بلند کرتا ہے۔ وہ اپنی شخصیت کو بلندیوں کی طرف لے وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر ثابت شدہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک آدمی اپنے مسئلہ کے حل کے لیے تشدد کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو انسانیت کے نچلے درجہ
کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت کو عملی طور پر مشتبہ بنا رہا ہے۔ امن اور تشدد دونوں کسی انسان کی اصل حیثیت کی پہچان ہیں۔ ایک طریقہ اگر انسان کو انسان ثابت کرتا ہے تو دوسرا طریقہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک حیوان تھا، اگرچہ ظاہری طور پر وہ ایک انسان دکھائی دے رہا تھا۔