Al-Risala · November 2002

جوابات

Al-Risala, November 2002, pp. 7–10

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملہ میں کیا کریں، کا جواب یہ نہیں ہو سکتا کہ ہندوستانی مسلمان اپنا الگ سیاسی محاذ بنائیں۔ وہ ملی اتحاد کے مظاہرے کریں۔ وہ احتجاج اور مطالبہ کی مہم چلائیں۔ وہ اپنی مظلومیت اور دوسروں کے ظلم کا اعلان کریں۔ وہ تقریر اور تحریر کے ہنگامے جاری کریں۔ اس قسم کی تدبیریں پچھلے ۵۵ سال کے عرصہ میں بہت بڑے پیمانہ پر عمل میں لائی گئی ہیں اور وہ مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہوئی ہیں۔

اب مسلمانوں کے لیے کرنے کا صرف ایک ہی کام باقی ہے جس کا ابھی تک عملی تجربہ نہیں کیا گیا، اور وہ دعوت ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل ہمیشہ دعوت کے ذریعہ ہوا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے (المائدہ ٦٧) اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت مسلمانوں کے مسائل کا یقینی حل ہے۔ اپنے اندر تسخیری طاقت رکھتی ہے۔ مگر دعوتی عمل کو انجام دینے کی ایک لازمی شرط ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان، نفرت اور کشیدگی کو یک طرفہ اعراض کے ذریعہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ تا کہ دونوں کے درمیان دعوت کا ماحول شکایت و احتجاج کی بات کرنا اور اسی کے ساتھ دعوت کا نام لینا ایک مسخرہ پن ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوتی عمل۔

دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، وغیرہ کے درمیان موجودہ قسم کے مسلکی اختلافات ہر حال میں فسادات ہوں یا نہ ہوں، انہیں بہر حال ختم ہونا چاہئے۔ جن چھوٹے چھوٹے اختلافات پر یہ گروہ بندیاں کی گئی ہیں وہ دور اول میں بھی موجود تھے لیکن وہ گروہ بندی کا سبب نہیں بنے۔ ان انتہا پسندانہ اختلافات کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) ہے۔ یعنی اساسی باتوں پر زور دینے کے بجائے جزئی باتوں پر زور دینا۔ اس برائی کو ہر حال میں ختم ہونا چاہئے۔

میرے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں کہ آج ملتِ اسلامیہ کی بقاءء کا مسئلہ درپیش ہے۔ کا تحفظ حاصل ہے اور قیامت تک وہ بہر حال محفوظ رہے گی۔ میرے نزدیک جس چیز کی بقا کا مسئلہ درپیش ہے وہ ملتِ اسلامیہ نہیں ہے بلکہ وہ طریق کار ہے جو موجودہ زمانہ میں کچھ خود ساختہ لیڈروں کی رہنمائی میں اختیار کیا گیا۔ اور وہ پُر تشدد طریق کار ہے۔ میرے نزدیک تقریباً دوسوسال سے مسلمان جہاد کے نام پر پُر تشدد طریق کار اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ طریق کار اب آخری طور پر ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ اب وہ پوری طرح پُر امن طریق کار کو اختیار کر لیں ۔ پُر تشدد طریق کار کو وہ مکمل طور پر چھوڑ دیں، براہ راست بھی اور بالواسطہ بھی، لفظی بھی اور عملی بھی۔

میرے نزدیک الیکشن میں علیحدہ سیاسی محاذ آرائی مسلمانوں کے لئے تباہ کن ہے۔ اس قسم کی جداگانہ سیاست کو اُنہیں مکمل طور پر چھوڑ دینا چاہئے ۔ میرے نزدیک جداگانہ تشخص کا تعلق مذہب سے ہے۔ جہاں تک الیکشنی سیاست کا تعلق ہے، اِس کو قومی ہونا چاہئے، مسلمانوں کے لیے بھی اور دوسرے فرقوں کے لیے بھی۔

یہ بات اصولاً غلط ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ قرآن و حدیث میں جن یہود و نصاریٰ کا ذکر ہے وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر یہود و نصاریٰ ہیں، نہ کہ ہر زمانہ کے یہود و نصاریٰ ۔ میرے نزدیک مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن خود وہ مسلمان ہیں جو دوسری قوموں کو اسلام دشمن بتا کر مسلمانوں کے دلوں میں اُن کے خلاف نفرت پیدا کرتے اسلام کا طریقہ، اسلام دشمنوں کی نشاندہی کرنا نہیں ہے بلکہ دشمنوں کے ساتھ یک طرفہ حسن سلوک کر کے اُنہیں اپنا دوست بنانا ہے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو تفریق اور انتشار پایا جاتا ہے، اُس کا سبب میرے نزدیک صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، اختلاف اور تنقید پر غیر ضروری حساسیت۔ اس مسئلہ کا حل اختلاف اور تنقید کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اختلاف اور تنقید کے بارے میں اپنی غیر فطری حساسیت کو ختم کرنا

اتحاد ہمیشہ اختلاف کو برداشت کرنے سے ہوتا ہے، نہ کہ اختلاف کو مٹانے سے۔ اختلافات کا مٹنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ ان کے اندر اسلام کی ظاہری صورت یا فارم والا اسلام تو موجود ہے مگر اسلام کی روح ان کے اندر موجود نہیں۔ وہ بہت بڑے پیمانہ پر اور لاکھوں مسجدوں میں ہر دن نماز کی ظاہری شکل کو دہراتے ہیں مگر نماز کی اصل روح جو اتحاد ہے، وہ ان کے اندر موجود نہیں۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اسلام کی اصل اسپرٹ کو زندہ کیا جائے جو خوف خدا اور فکرِ آخرت پر ہوتی ہے۔ روح کے بغیر شکل اسی طرح بے قیمت ہے جس طرح پھل کے مغز کے بغیر اس کا چھلکا۔

جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش ہی میں لگا ہوا ہوں۔ میرے نزدیک مسلم اتحاد جلسوں اور کانفرنسوں کے ذریعہ قائم نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف اس طرح قائم ہوسکتا ہے کہ دلوں اور دماغوں میں روحِ اتحاد کو زندہ کیا جائے۔ اور میں یہی کام کر رہا ہوں۔ میرے نزدیک مسلمانوں کے انتشار کا سبب یہ ہے کہ اُن کے دلوں سے اللہ کا خوف نکل گیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا مقصد، دوسری قوموں کی طرح صرف مال کمانا اور مادی ترقی حاصل کرنا بن گیا ہے۔ یہ مزاج ہمیشہ حسد اور نفسانیت کے جذبات کی پرورش کرتا ہے۔ اور یہی موجودہ مسلمانوں میں بڑے پیمانہ پر پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاملہ میں علماء اور غیر علماء کی کوئی تفریق نہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا گہرا جائزہ بتاتا ہے کہ اُن کے اندر اجتماعی شعور موجود نہیں۔ مقاصد کی تکمیل میں اتنا زیادہ گم ہیں کہ اجتماعی مقاصد کی اہمیت کی انہیں خبر ہی نہیں۔ کی اس کمزوری کی اصلاح تعلیم اور شعوری بیداری کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے۔

موجودہ زمانہ کے علماء دو بڑی کمزوریوں کا شکار ہیں۔ ایک تقلید، جس نے انہیں ذہنی جمود میں مبتلا کر دیا ہے۔ اُن کی دوسری کمزوری یہ ہے کہ وہ عصری تعلیم سے دور ہونے کی بنا پر زمانہ کے جدید حالات سے بالکل بے خبر ہیں۔ علماء کی ان دو کمزوریوں نے انہیں اس قابل ہی نہیں رکھا

ہے کہ وہ جدید مسلم نسلوں کی کامیاب رہنمائی کر سکیں۔

سیاست میں حصہ لینا کوئی غلط یا غیر شرعی بات نہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اپنی فکری اور علمی پس ماندگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہیں کہ وہ سیاست میں کوئی مفید کردار ادا کر سکیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ کے علماء نے بڑے پیمانہ پر سیاست میں عملاً حصہ لیا ہے۔ مگر وہ اپنے اس سیاسی عمل سے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہ دے سکے۔

میرے نزدیک یہ مفروضہ غلط ہے کہ ملت بھیڑیوں کا چارہ بن رہی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ملت خود اپنی غلطیوں کی قیمت ادا کر رہی ہے۔ جہاں تک اہون البلیتين کا تعلق ہے، وہ ایک مسلمہ شرعی اصول ہے۔ حدیث میں اس کو اختیار اعسر کے مقابلہ میں اختیار ایسر کہا گیا ہے حسب ضرورت اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔

فقہی مسالک کوئی دورِ جدید کی چیز نہیں۔ وہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں موجود تھے۔ ہے وہ یہ کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں فقہی فروق کی بنیاد پر گروہی مسالک نہیں بنے۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے فروق کو لے کر انتہا پسندانہ گروہی مسالک بنا دیے گئے ہیں۔ معاملہ کو میں نے اپنی کتاب ”تجدیدِ دین‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسلامی شریعت کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک بنیادی احکام کا حصہ اور دوسرے ضمنی اور فروعی احکام کا حصہ۔ بنیادی احکام سب کے سب یکساں ہیں، اُن میں کوئی فرق و اختلاف نہیں۔ ضمنی اور فروعی احکام میں بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں قسم کے احکام کے درمیان یہ فرق عین فطری ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ فروعی اختلافات کو توسع اور تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ اُن کے معاملہ میں رواداری کا انداز اختیار کیا جائے، نہ کہ شدت پسندی کا انداز۔

Printed page