Al-Risala · December 2002

سوالات

Al-Risala, December 2002, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام اگر ایک مہذب اور مثقف مذہب ہے تو وہ دوسرے مذاہب کی توہین کیوں کرتا ہے۔ اس کی روحانی اور عملی قدریں بہت بلند ہیں تو وہ دیگر اقوام کے لیے تحقیر آمیز الفاظ کیوں استعمال کرتا ہے، کیا یہ ایک مذہب کا دوسرے مذہب کے تئیں نفرت کا اظہار نہیں ہے؟ جب مشرک کو اسلام کی مذہبی کتابوں میں نجس کہا جاتا ہے اور ان کی بنائی ہوئی چیزوں کو چھونے سے روکا جاتا ہے اور اسلامی سلطنت میں برابر کے حقوق نہیں دیئے جاتے ہیں تو کیا اسلام کا ہندو دھرم یا دیگر مذاہب کے ساتھ بر اسلوک نہیں ہے؟

اسلام کی مذہبی کتابوں میں کافر اور مشرک کا لفظ کچھ اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ اس سے ہندو دھرم کے ماننے والوں کو مراد لے کر کم تر درجے کا ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کیا یہ مناسب بات ہے؟

قرآن میں جگہ جگہ کافروں سے لڑنے اور مشرکین کا خون بہانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ بات ایسی صورت حال میں اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے جب کافر سے ہندو دھرم کے ماننے والے ہی مراد لئے جاتے ہیں، تو کیا خونریزی کی یہ تعلیم امن وامان کے خلاف ایک نظریاتی اور عملی کوشش نہیں ہے؟ جہاد کے بہت سے معانی ہوتے ہیں لیکن اس کا اصل معنی اس قوم کے ساتھ جنگ کرنا ہے جو مسلمان نہ ہو۔ گویا مسلم قوم کی سیاسی بالا دستی کے لئے لڑائی کرنا۔ کیا اس خیال کی تشہیر منطقی اور معقول بات ہے؟

اسلام پر ایک الزام ہے کہ وہ نوع انسانی کو دو حصوں، مسلم و کافر میں تقسیم کرتا ہے۔

ہونے کی صورت میں کافر قرار دیتا ہے ۔ ہندو سماج کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے جس کی وجہ سے دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں ، نفرت وعناد جنم لیتی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات ہوتے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔

قرآن کریم کی وہ آیات جن پر اکثر وبیشتر اعتراضات کئے جاتے ہیں ۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں: انما المشركون نجس (التوبه ۲۸)

فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم وخذوهم واحصروهم واقعدوا لهم كل مرصد (التوبه ۵)

لا يتخذ المؤمنون الكافرين اولياء من دون المؤمنين و من يفعل ذالك فليس من الله في شئ الا ان تتقوا منهم تقة (آل عمران ۲۸)

يا ايها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوى وعدوكم اولياء تلقون اليهم بالمودة وقد كفروا بما جاء كم من الحق ( الممتحنة ١)

ياايها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم و ماواهم جهنم وبئس المصير

ايها الجاهلون (قل افغير الله تأمروني اعبد ايها الجهلون) (الزمر ٦٤) يا ايها الذين آمنوا قاتلوا الذين يلونكم من الكفار وليجدوا فيكم غلظة (التوبة ۱۲۳) يا ايها النبي حرض المؤمنين على القتال، ان يكن منكم عشرون ..... الخ

قاتلوا الذين لايؤمنون بالله واليوم الآخر ولا يحرمون ما حرم الله و رسوله ولا يدينون دين الحق من الذين أوتوا الكتب حتى يعطوا الجزية عن يد وهم صٰغرون (التوبه ۹۲)

Printed page