جوابات
Al-Risala, December 2002
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے۔ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو برا نہ کہا جائے۔ اس سے مذاہب کے درمیان باہمی احترام کا ماحول ختم ہوتا ہے (الانعام ۱۰۸) اسی طرح یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلام دوسری قوموں کی تحقیر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اپنے غیر مسلم معاصرین کو ہمیشہ ’’اے میری قوم‘‘ کہہ کر خطاب کیا اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، دیگر اقوام کو نہ غیر قوم سمجھنا درست ہے اور نہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرنا جائز ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کھلے دشمن کے ساتھ بھی نفرت کرنا جائز نہیں (فصلت ۳۴)۔ ایسی حالت میں صرف مذہبی فرق کی بنا پر نفرت کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام میں مشرک کو عمومی طور پر نجس قرار دیا گیا ہے۔ آیت انما المشرکون نجس (التوبہ ۲۸) کا یہ مطلب نہیں۔ یہ آیت محدود زمانی مفہوم میں اس میں ’’المشرکون‘‘ سے مراد صرف عرب کے وہ قدیم مشرک ہیں جو پیغمبر ﷺ کے ہم عصر اْنہوں نے کسی حق کے بغیر یہ کیا تھا کہ حضرت ابراہیم کے تعمیر کیے ہوئے دار التوحید کو ظلماً دار الاصنام بنا دیا تھا۔ اس لیے رسول اللہ کے ان معاصر لوگوں کے بارے میں قرآن میں یہ حکم آیا کہ یہ مشرکین نجس ہیں۔ اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں (التوبہ ۲۸)۔ اسی طرح یہ بات بالکل غلط ہے کہ مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو چھونا اسلام میں ناجائز ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ اس کی کوئی اصل اسلام کی تعلیمات میں نہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو مُس کیا ہے۔ حال میں کچھ لوگوں نے یہ ’’فتویٰ‘‘ دیا کہ امریکہ کی مصنوعات کو مسلمان نہ خریدیں۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ فتویٰ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں۔ بین اقوامی امور میں اسلام کا وہی مسلک ہے جو دوسری قوموں کا مروجہ مسلک ہے۔ اس لیے آج اگر
اسلامی ریاست قائم ہو تو اُس میں غیر مسلموں کو وہی حقوق دیے جائیں گے جو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی حقوق سمجھے جاتے ہیں (سیرت ابن ہشام، الجز ء ۲ / ۲۷۲)۔
اسلام انسانی برابری کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں کم تر انسان اور برتر انسان کا کوئی تصور قرآن کی مدنی سورتوں میں بعض مقامات پر کافر یا کفار کا لفظ آیا ہے۔ مگر یہ لفظ خدا کی طرف سے ہے، نہ کہ اہلِ اسلام کی طرف سے ۔ مثلاً نبوت کے تیرہویں سال قرآن میں یہ آیت اُتری کہ: قل يا ایها الکافرون (الکافرون ۱) ۔ مگر رسول یا اصحابِ رسول نے کبھی اپنے ہم عصر غیر مسلموں کو ایہا الکافرون کہہ کر خطاب نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے جہاں کی آبادی اْس وقت غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ مگر کسی بھی ملک میں انہوں نے یہ نہیں کیا کہ وہاں کے لوگوں کو ”اے کافرو“ کہہ کر خطاب کریں۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ کیا کہ کوئی قوم اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھی اُسی نام سے اُس کو پکارا۔ مثلاً شام میں نصاریٰ، فلسطین میں یہود، ایران میں مجوس، چین میں بُوذا ، ہندوستان میں ہندو، مصر میں قبطی، وغیرہ۔ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے کہ قرآن میں کافروں اور مشرکوں سے لڑنے کی تعلیم دی گئی کافروں اور مشرکوں کے مقابلہ میں قرآن کا حکم اصلاً صرف ایک ہے، اور وہ تبلیغ ما انزل اللہ (المائدہ ۶۷) ہے۔ یعنی خدا کی دی ہوئی تعلیمات کو انتہائی پر امن انداز میں لوگوں تک پہنچانا۔ مخاطبین کی طرف سے اذیت رسانی ہو تب بھی پرامن رویہ پر قائم رہتے ہوئے پیغام رسانی کا کام جاری جہاں تک لڑائی یا جنگ کا تعلق ہے، اُس کی اجازت صرف اْس وقت ہے جب کہ اہلِ اسلام کے خلاف کھلی جارحیت کی جائے اور اُن کو مجبورانہ دفاع کے تحت لڑناپڑے۔ (البقرہ ۱۹۰، الحج ۳۹)۔ ہندو دھرم کے ماننے والوں کو کافر کہنا سراسر غیر اسلامی ہے، بلکہ وہ ایک گناہ کا فعل ہے۔ سے مراد کوئی نسل یا گروہ نہیں۔ کافر کا مطلب ہے انکار کرنے والا۔ انکار کا تحقّق صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی گروہ پر دعوت کا پر امن عمل کیا جائے اور اْس کو تمام ضروری شرائط کی ادائیگی کے ساتھ اتمام حجت تک پہنچا دیا جائے، اس کے باوجود وہ گروہ انکار کی روش پر قائم رہے۔ مزید یہ کہ اس انکار کا
تعلق مکمل طور پر انسان کی نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے کسی فرد یا گروہ کو کافر (منکر) قرار دینا صرف اللہ عالم الغیب کا حق ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے کوئی ایک نسل کافر (منکر) ہوسکتی ہے جس پر اتمام حجت کیا گیا ہو۔ اُس کی بعد کی نسلوں پر پھر بھی اس لفظ کا اطلاق
ی وجہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کو کافر کا لقب نہیں دیا، وہ اُنہیں ان کے معروف نسبتی نام سے پکارتے رہے۔ یہ زبان پچھلے دو سو سال کے دوران استعمال ہوئی ہے جب کہ مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں کے مقابلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ در حقیقت موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی طرف سے احساس نفرت کا اظہار تھا، نہ کہ احساس دینی کا اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ظہورِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال تک مسلمان اپنے دورِ دعوت میں تھے اور اب وہ اپنے دورِ نفرت میں ہیں۔ کافر اور دشمن کے الفاظ در اصل مذہب نفرت کی پیداوار ہیں، نہ کہ مذہبِ اسلام کی پیدا وار۔
خونریزی اسلام کی تعلیم ہی نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات امن اور انسانی خیر خواہی پر مبنی ہیں۔ اس مسئلہ پر اسلام کے نقطہ نظر کو میں نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے جو ماہنامہ الرساله اکتوبر ۲۰۰۲ ”امن کلچر“ کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔
جہاد کا لفظی مفہوم کوشش یا جد و جہد ہے۔ اس سے مراد اسلام کے دعوتی مقصد کے لیے پر امن جد و جہد کرنا ہے۔ جہاد کا کوئی بھی براہ راست تعلق جنگ سے نہیں۔
قرآن میں جنگ کے لیے قتال کا لفظ آیا ہے۔ مگر قرآن کے مطابق ، قتال کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیر مسلموں پر مسلمانوں کا غلبہ قائم کرنے کے لیے جنگ کی جائے۔ اس قسم کی جنگ قرآن کے مطابق ، نہ جہاد ہے اور نہ قتال۔ بلکہ وہ ایک قومی سرکشی ہے جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی جنگ فساد ہے، نہ کہ جہاد۔ جو نظریہ یہ سرے سے درست ہی نہ ہو اُس کی تشہیر کیوں کر معقول ہو سکتی ہے۔ یہ سراسر الزام ہے کہ اسلام میں نوع انسانی کو مسلم و کافر میں تقسیم کیا گیا ہے۔
میں بار بار ایہا الانسان اور ایہا الناس کا لفظ استعمال ہوا ہے جن کی مجموعی تعداد قرآن میں ۳۱۵ اس سے اور دوسری قرآنی آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کی اصل حیثیت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ وہ انسان ہیں۔ تمام لوگ بنی آدم ہونے کی حیثیت سے یکساں طور پر بنی آدم کا حصہ ہیں۔ ان میں سے جن لوگوں کو خدائی حق کی معرفت ہو جائے اور وہ اُس کو قبول کر لیں تو وہ اللہ کے نزدیک مومن قرار پائیں گے۔ ہند وسماج کے ذہن میں اس سلسلہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اُس کا سبب اسلام کی حقیقی تعلیمات فہمیں ہیں بلکہ کچھ مسلمانوں کی غلط نمائندگی ہے۔ چنانچہ جو ہندو مسلمانوں کی روش سے قطع نظر کر کے براہ راست طور پر اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں وہ کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتے۔ اس معاملہ کی ایک مثال ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیا ہیں۔ ان کا پورا واقعہ خود انہی کے الفاظ میں، راقم الحروف کی کتاب اسلام ری ڈسکورڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوئے یا ہو رہے ہیں، اُن کا کوئی بھی تعلق اسلام کی تعلیمات سے نہیں ہے۔ وہ براہ راست طور پر دو قومی سیاست اور تقسیم ملک کی غیر فطری تحریک کا نتیجہ اس کا سادہ ثبوت یہ ہے کہ اس غیر فطری اور غیر دانش مندانہ تحریک سے پہلے تقریبا ہزار سال تک ہندو اور مسلمان برصغیر ہند میں مل جل کر رہتے تھے۔ اُن کے درمیان کبھی وہ چیز مشاہدہ میں نہیں آئی جس کو آج کل فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ یہ فرقہ وارانہ فساد یقینی طور پر تقسیم کے غیر فطری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ اسلام کی تعلیم کا نتیجہ۔
سوال نامہ میں قرآن کی ۹ آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اعتراض کرنے والے انہی آیتوں کو لے کر اعتراض کرتے ہیں۔ مگر یہ تمام اعتراضات صرف غلط نہی پر مبنی ہیں۔ محولہ آیتوں کا جواب مختصر طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔
(الف) قرآن میں نجَس کا لفظ صرف رسول کے اُن معاصر لوگوں کے بارے میں آیا ہے جنہوں نے ناجائز طور پر بیت اللہ میں ۳۶۰ بُت رکھ دیئے تھے۔ اُن کے بارے میں کہا گیا کہ آئندہ
وہ بیت اللہ کے قریب نہ آئیں (التوبہ ۲۸) یہ حکم خصوصی ہے، نہ کہ عمومی۔ (ب) قرآن کی جس آیت میں مشرکین کے قتل کا حکم ہے، اُس سے مراد رسول اللہ کے وہ معاصر لوگ ہیں جو مکہ میں تھے اور جنہوں نے اپنے مسلسل عمل سے یہ ثابت کیا تھا کہ وہ ظالم اور جارح اس حکم کا دوسری اقوام یا دوسری نسلوں سے کوئی تعلق نہیں۔
(ج) قرآن کی جس آیت میں یہ حکم آیا ہے کہ اہل ایمان اہل کفر کو اپنا اولیاء نہ بنائیں اُس سے مراد زمانۂ رسالت کے وہ مخصوص اہل کفر ہیں جنہوں نے یک طرفہ طور پر دشمنی اور جارحیت کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ یہ حکم بھی یقینی طور پر وقتی اور خصوصی ہے، نہ کہ ابدی اور عمومی۔ (د) اسی طرح قرآن کی جس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عدو سے مودت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس کا تعلق صرف عرب کے ایک جارح گروہ سے ہے۔ یہ بلاشبہ ایک استثنائی حکم ہے۔ جہاں تک عداوت کے مقابلہ میں اسلام کے عمومی حکم کا تعلق ہے، وہ قرآن کی سورہ نمبر ۴۱، آیت نمبر ۳۴ میں بیان ہوا ہے۔ اس کے مطابق، اہل اسلام کو اپنے اعداء کے مقابلہ میں ردعمل کا طریقہ نہیں اختیار کرنا چاہئے بلکہ انہیں یک طرفہ حُسنِ سلوک کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ (ہ) قرآن کی جس آیت میں کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے اُس سے مراد ہرگز جنگ نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی منافقین سے جنگ نہیں یہ دراصل تشدیدی لحظہ کی ایک مثال ہے جس کو مصلح بعض اوقات اصلاح کے لیے اختیار کرتا ہے۔ (و) قرآن کی جس آیت میں جاہلوں کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اُس سے مراد ناواقف اور بے خبر ہونا ہے۔ یعنی بے خبر لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ باخبر شخص سے بے دلیل تکرار کرنے لگیں۔ (ز) مذکورہ آیت میں کفار سے مراد جارح کفار ہیں۔ یہ آیت بھی قرآن کے ایک خصوصی اور زمانی حکم کو بتاتی ہے، نہ کہ عمومی اور ابدی حکم کو۔ اس میں مسئلۂ جارحیت کا حکم بتایا گیا ہے، نہ کہ مذہبی اختلاف کا حکم۔
(ح) اس نمبر کے ذیل میں قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اُس کا تعلق اُن لوگوں
سے ہے جنہوں نے یک طرفہ جارحیت کرکے اہل اسلام پر حملہ کر دیا ہو اور اہل اسلام کو دفاع کے طور پر اُن سے لڑنا پڑے۔
(ط) اس آیت کا تعلق بھی حالت جارحیت سے ہے۔ اس آیت میں لا یدینون دین الحق کا لفظ صرف قید اتفاقی کے طور پر آیا ہے۔ اس حکم کا انطباق صرف دورِ اول کے کچھ لوگوں پر کیا گیا۔ کے بعد اس حکم کی توسیع نہیں کی گئی، جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیتوں کا جو مفہوم راقم الحروف نے یہاں بیان کیا ہے وہ ان آیتوں کا کوئی نیا مفہوم نہیں۔ قرونِ مشہود لہا بالخیر میں عام طور پر ان آیتوں کا یہی مفہوم سمجھا گیا ہے اور اسی کے مطابق عمل کیا جاتا رہا ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں اسلام کے اس پہلو کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب : دین انسانیت۔ تاہم موجودہ زمانہ میں کچھ مسلمانوں کو مذکورہ تشریحات اجنبی معلوم ہو سکتی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک نئی کمزوری پیدا ہوئی ہے جو اس سے پہلے کبھی مسلمانوں میں اور وہ ہے غیر مسلموں کے خلاف نفرت۔ آج کل کے مسلمان عام طور پر غیر مسلموں کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اور جو لوگ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہوں وہ منفی باتوں کو تو خوب سمجھیں گے مگر مثبت باتیں ان کے لیے اجنبی ہو جائیں گی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ حالت اُس حدیث رسول کے عین مطابق ہے جس میں پیشگی طور پر یہ خبر دی گئی تھی کہ : بدأ الاسلام غریبا وسيعود كما بدأ (مسلم کتاب الایمان، الترمذی کتاب الایمان، ابن ماجہ کتاب الفتن، الدارمی کتاب الرقاق، مسند احمد) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ لوگوں کے لیے اجنبی تھا اور دوبارہ وہ لوگوں کے لیے اجنبی بن جائے گا جیسا کہ وہ پہلے اجنبی تھا۔ ۲۶ / ستمبر ۲۰۰۲
سوال و جواب (پندرہ روزہ فرائیڈے اسپیشل، نئی دہلی کے سوالنامے کا جواب)
جماعت اسلامی کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟
ایک خیال یہ ہے کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی جدوجہد کے ساتھ اقامت سیکولرزم کے لئے بھی کوششیں کررہی ہے۔ جماعت اسلامی میں ممتاز علماءئے کرام نظر نہیں آتے جیسا کہ ماضی میں تھا۔ کیا علما کا طبقہ اس کی طرف نہیں آرہا ہے۔ جماعت اسلامی میں مجموعی طور پر اشاعت دین کا وہ جذبہ نظر نہیں آتا جو قدیم کارکنوں کے یہاں تھا۔ کیا یہ قیادت کی کمزوری ہے یا ارکان کی تربیت میں کمی آگئی ہے؟ کارکنوں کے باہمی تعلقات میں بھی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں اور ’’بنیان مرصوص‘‘ والی کیفیت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ الیکشن کے معاملہ پر جماعت اسلامی میں اکثر وبیشتر شدید اختلافات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ کیا مٹھی بھر افرادی قوت رکھنے والی پارٹی کو متنازع معاملات میں اپنی قوت صرف کرنی چاہئے۔ بعض حلقے اسے شمالی اور جنوبی ہند کی کشمکش سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی ہند کے لوگوں کو فرقہ وارانہ عصبیت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ ان میں مصالحت اور ہم آہنگی کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے جب کہ شمالی ہند کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ جماعت اسلامی ایک مقام پر آکر ٹھہر گئی ہے اور اس پر فکری جمود طاری ہے۔ تخلیقی لٹریچر میں جس طرح خود کودہرایا جارہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنے والوں کی بھی کمی ہو گئی ہے۔
"فرائیڈے اسپیشل"، عصرِ حاضر کے مفکرِ اسلام مولانا مودودیؒ پر خصوصی نمبر شائع کرنے جا رہا ہے جس میں مختلف پہلوؤں سے ان کی شخصیت پر مضامین شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے تحت مولانا مرحوم کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی سے متعلق مذکورہ سوال نامہ آپ کی خدمت میں ارسال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس کا مفصل جواب عنایت فرمائیں گے۔