صلح حدیبیہ
Al-Risala, February 2002, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
صلح حدیبیہ کیا ہے۔ صلح حدیبیہ اسلام کی ابتدائی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ جب یہ صلح ہوئی تو اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری: انا فتحنا لک فتحاً مبینا۔ یعنی یہ صلح تمہارے لیے فتح کی ایک یقینی ضمانت ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنا مشن ۶۱ھ میں شروع کیا۔ آپ کا یہ مشن توحید کا مشن تھا۔ اُس وقت عرب میں بہت سے مشرک لوگ رہتے تھے۔ یہ لوگ آپ کے مشن کو پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ یہ لوگ آپ کے سخت مخالف بن گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ کئی سال تک لڑائی کا ماحول قائم رہا۔ لڑائی کے ماحول کی بنا پر دعوت اور تعمیر کا کام معتدل طور پر جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ اس ناموافق ماحول کو ختم کرنے کے لیے پیغمبر اسلام نے اپنے مخالفین سے صلح کی بات چیت شروع کر دی۔ یہ بات چیت حدیبیہ کے مقام پر ہوئی۔ وہ لوگ کڑی شرطیں پیش کرتے رہے۔ کی بات چیت کے بعد پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ اپنے مخالفین کی پیش کی ہوئی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کر لیا اور اس طرح جنگ کی حالت کو موقوف کر دیا۔ اور اپنے اور مخالفین کے درمیان امن کی حالت قائم کر دی۔
اس معاہدہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل اسلام کو دعوت و تعمیر کے مواقع حاصل ہو گئے۔ چنانچہ مثبت تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہو گیا۔ اس کے بعد صرف دو سال کے اندر اسلام کو اتنا زیادہ استحکام حاصل ہوا کہ جلد ہی خون بہائے بغیر پورے عرب میں اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا۔
صلح حدیبیہ کوئی منفرد قسم کا واقعہ نہیں، یہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی فرد یا قوم تنہا نہیں ہے، بلکہ یہاں دوسرے بہت سے لوگ ہیں۔ ہر ایک کا انٹرسٹ الگ الگ ہے۔ اس بنا پر بار بار ایک اور دوسرے کے درمیان مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
ایسی حالت میں صرف دو ممکن صورتیں ہیں ۔ مسائل سے ٹکراؤ شروع کر دینا یا مسائل سے اعراض کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا۔ پہلا طریقہ جنگ کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ صلح کا قرآن میں ارشاد ہوا ہے: والصلح خیر (النساء ۱۲۸)۔ یعنی صلح کا طریقہ زیادہ مفید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآنی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صلح حدیبیہ کا معاملہ کیا جو اسلام کے لئے فاتحانہ صلح ثابت ہوئی۔
صلح یا ایڈجسٹمنٹ کا یہ طریقہ خود فطرت کا طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک بہتے ہوئے چشمہ کو آپ دیکھیں گے کہ چشمہ کے راستہ میں جب بھی کوئی پتھر آتا ہے تو وہ پتھر کو توڑنے کی کوشش نہیں وہ پتھر کے کنارے سے راستہ نکال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتا ہے تو وہ سامنے کی طرف سے آنے والی گاڑی سے ٹکراؤ نہیں کرتا۔ وہ کنارے کی طرف مڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
اسی مصالحانہ طریقہ کا نام حدیبیہ ہے۔ حدیبیہ کے طریقہ کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہ ایک ابدی اصول ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے ہے۔ خاندان کا معاملہ ہو یا سماج کا معاملہ، یا کوئی بین اقوامی معاملہ، ہر جگہ کامیاب زندگی کا یہی واحد اصول ہے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ چھوڑنے کا انجام صرف ٹکراؤ ہے اور ٹکراؤ سے کوئی مسئلہ کبھی حل نہیں ہوتا۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ اگر زندگی ہے تو ٹکراؤ اور جنگ کا طریقہ
صلح حدیبیہ کا طریقہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ یہ طریقہ آدمی کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف لاتا ہے۔ وہ آدمی کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کرتا رہے اور ممکن دائرہ میں موجود مواقع کو استعمال نہ کر سکے۔ صلح حدیبیہ کا طریقہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کرلے۔ وہ اپنے مائنس کو پلس بنا سکے۔ وہ اپنے نہیں میں ہے کا راز دریافت کرلے۔