جوابات
Al-Risala, December 2002, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
جماعت اسلامی کے اپنے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اُس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس نے ۱۹۴۰ء کے بعد ایک معمولی تنظیم کی حیثیت سے اپنا آغاز کیا اور اب جماعت اسلامی مادی اعتبار سے ایک مؤسسہ (stablshment) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مؤسسہ کے بیشتر ظاہری لوازم اُس نے اپنے گرد جمع کر لیے ہیں۔ لیکن اگر اسلام اور ملّتِ اسلام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو شاید جماعت اسلامی کا کوئی قابلِ ذکر کارنامہ نہیں۔ اسلام کے اعتبار سے جماعتِ اسلامی کی سب سے بڑی فکری ناکامی یہ ہے کہ اُس نے اسلام کی غلط تعبیر پیش کی۔ اُس نے اسلام کو، وقت کے مروّجہ مزاج کے مطابق، سیاست کی اصطلاحوں میں اس کا ثبوت جماعت اسلامی کا لٹریچر ہے۔ اس لٹریچر نے جن لوگوں کو متاثر کیا اُن کا حال یہ ہوا کہ وہ اسلام کو ایک قسم کا سیاسی نظریہ سمجھنے لگے۔ نتیجہ اسلام کا اصل پہلو، خشوع اور تقویٰ اور انابت اور اخبات اور ربانیت جیسی چیزیں اُن کے ذہن میں اپنا حقیقی مقام نہ پاسکیں۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی عملاً ایک قسم کی سیاسی پارٹی بن کر رہ گئی۔
یہ خیال بجائے خود درست ہے۔ مگر یہ جماعت اسلامی کی مجبوری ہے، نہ کہ اُس کے نقطۂ نظر سے کوئی انحراف۔ اصل یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اقامتِ دین کا ایک خودساختہ تصور پیش کیا۔ اس خودساختہ تصور کے مطابق، اقامتِ دین کا مطلب یہ تھا کہ اسلام کو ایک مکمل قانونی اور سیاسی نظام کے
طور پر قائم کیا جائے۔ میرے نزدیک یہ نظریہ غیر اسلامی بھی تھا اور غیر حقیقی بھی۔ چنانچہ جب واقعی حالات سے سابقہ پیش آیا تو معلوم ہوا کہ یہ رومانی تخیل حقائق کی دنیا میں قابل عمل ہی نہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تجربہ ثابت کرتا ہے کہ جماعت اسلامی کا مفروضہ اقامت دین وہاں بھی قابل عمل نہیں۔ مگر پاکستان کے مخصوص حالات کی بنا پر وہاں کم از کم یہ ممکن ہے کہ سیکولرزم کے خلاف شور و غل کا ہنگامہ جاری رکھا جائے۔ چنانچہ جماعت اسلامی پاکستان میں یہی کام کر رہی ہے۔ اگر چہ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان میں جماعت اسلامی کی حیثیت ایک ایسی جماعت کی بن گئی جو صرف از عاج کی صفت (nuisance value) رکھتی ہے۔ وہ مشکلات پیدا کرنے والی (trouble maker) تو ضرور ہے مگر وہ کوئی تعمیری رول ادا کرنے والی نہیں۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، 1974ء کے بعد یہاں کے افراد جماعت بھی، جماعت اسلامی کے بانی کی تقلید میں سیکولرزم کو باطل اور غیر اسلامی نظریہ بتاتے رہے۔ مگر ایک عرصہ کے بعد اُن پر کھلا کہ ہندوستان جیسے ملک میں سیکولرزم کو باطل قرار دینے کے بعد اُن کے لیے دو میں سے ایک کا چوائس باقی رہتا ہے۔ یا تو وہ یہاں کے نظام کو طاغوتی نظام قرار دے کر اُس سے لڑیں اور اس راہ میں مرتے رہیں۔ یا پھر مصالحت کا طریقہ اختیار کر کے سیکولرزم کے زیر سایہ زندگی کا استحقاق حاصل کر لیں۔
سیکولرزم کے معاملہ میں جماعت اسلامی نے یہی مصالحانہ انداز اختیار کیا۔ سیکولرزم نہ تو طاغوتی نظریہ ہے اور نہ وہ غیر اسلامی ہے۔ سیکولرزم کے تحت ہم انتہائی جائز طور پر کسی ملک میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اگر کھلے طور پر اس قسم کا اعلان کرتی تو وہ موجودہ تضاد کا شکار نہ مگر ایسی صورت میں اُس کو یہ اعلان کرنا پڑتا کہ سیکولرزم کے بارے میں اُس کا پچھلا نظریہ غلط اور انتہا پسندانہ تھا۔ اْس نے اس معاملہ میں اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا اور غلطی کا اعتراف نہ کرنے کی قیمت ہمیشہ یہ دینی پڑتی ہے کہ آدمی تضاد فکری اور تضاد عملی کا شکار ہو جائے۔
یہ صحیح ہے کہ جماعت اسلامی کے ابتدائی دور میں کچھ ممتاز علماء وقتی طور پر اس میں شریک دسمبر 2002 14 ترجمان القرآن
ایک عرصہ کے بعد وہ اُس سے الگ ہوگئے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں اصل غلطی ممتاز علماء کی ہے، نہ کہ جماعت اسلامی کی۔ یہ علماء میرے نزدیک زیادہ غور وفکر کے تحت جماعت اسلامی میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ وہ زیادہ تر رومانی تخیل کے تحت اُس میں شریک ہوئے تھے۔ جب حالات نے رومانی تخیل کو توڑ دیا تو اس کے بعد اُن کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اُس سے الگ ہوجائیں۔
اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ جو علماء جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد اُس سے الگ ہوئے، اُن سب کے علیحدگی کا ایک ہی مشترک سبب تھا۔ اور وہ یہ کہ انہیں جماعت اسلامی کی عملی سیاست سے اختلاف تھا، نہ کہ فکری معنوں میں اس کے نظریہ سے۔ اصولی طور پر اس قسم کی علیحدگی کے لیے کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔
اس معاملہ میں صرف راقم الحروف کا استثناء ہے۔ جماعت اسلامی سے میری علیحدگی عملی اختلاف کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ تمام تر فکری اور نظریاتی اختلاف کی بنا پر تھی جس کی تفصیل میری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی سے علیحدگی کے لیے میرے پاس تو مبرر رہے مگر دوسرے علماء کے پاس اس کا کوئی مبرر نہیں۔
جماعت اسلامی کے ماضی اور حال میں یہ فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ مگر یہ فرق فطری جماعت اسلامی کے قدیم کارکن وہ لوگ تھے جو جماعت کی پہلی نسل کی حیثیت رکھتے تھے اور اُس کے موجودہ کارکن اُس کی دوسری نسل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور کسی بھی جماعت یا تحریک کی ابتدائی نسل اور بعد کی نسل میں اس قسم کا فرق پیدا ہونا تقریبا لازمی ہے۔
اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے قدیم کارکن بھی اُس زمانہ میں جو کام کرتے تھے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اشاعت دین کا کام نہ تھا بلکہ اشاعت سیاست کا کام تھا۔ لوگ دین کے نام پر جماعت اسلامی کے بانی کا وہ لٹریچر پھیلاتے تھے جو حقیقی معنوں میں اسلام کی مطلوب تشریح نہیں ہے بلکہ وہ اسلام کی خود ساختہ سیاسی تشریح ہے۔ میرے نزدیک ایسے کسی کام کو
اشاعت دین کا عنوان نہیں دیا جاسکتا۔
کارکنوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں یہ شکایت بالکل درست ہے۔ مگر اس کا تعلق عروج وزوال کے فطری قانون سے ہے، نہ کہ خود جماعت اسلامی کے کسی داخلی سبب سے۔ ہے کہ ہر جماعت یا تحریک کی بعد کی نسلوں میں وہی گراوٹ آجاتی ہے جس کا مشاہدہ جماعت اسلامی کے موجودہ افراد میں کیا جارہا ہے۔
الیکشن کے معاملہ میں جماعت اسلامی کے لوگوں میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ جماعت کے بانی نے ’’طاغوتی نظام‘‘ کے نام سے جو نظریہ پیش کیا، اُس کے مطابق، سیکولر جمہوری ریاست کے اندر الیکشن میں حصہ لینا حرام قرار پاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، تقسیم ملک کے بعد جماعت اسلامی کے بانی نے ایک دستوری نکتہ نکال کر یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کی ریاست نے کلمہ پڑھ لیا ہے اس لیے پاکستان میں الیکشن میں حصہ لینا جائز ہو گیا ہے۔
مگر ہندوستان میں یہاں کی ریاست کے بارے میں اس قسم کی ’’کلمہ گوئی‘‘ کا بہانہ موجود نہ ایسی حالت میں جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، ہندوستان میں الیکشن میں حصہ لینا بدستور حرام تھا۔ مگر دھیرے دھیرے جماعت اسلامی والوں کو محسوس ہوا کہ اس قسم کا نظریہ سراسر ایک غیر عملی نظریہ ہے۔
اب جماعت اسلامی والوں کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ اُن کا طاغوتی نظام کا فلسفہ ایک انتہا پسندانہ نادانی تھی۔ وہ ایک سیاسی غلو تھا جس کا تعلق نہ اسلام سے ہے اور نہ عقل اگر وہ اس طرح اپنی غلطی کا اعلان کر دیتے تو وہ کھلے طور پر الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے۔ انہوں نے ایسا اعلان نہیں کیا۔ اس کے نتیجہ میں جماعت اسلامی دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک وہ لوگ ہیں جو اعترافِ خطا کے بغیر الیکشن میں حصہ لینا درست سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو بانی جماعت کی تقلید میں بدستور الیکشن کو حرام سمجھ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے لیے اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ اُؔس کا سابقہ طاغوتی نظریہ درست نہ تھا۔ اس اعلان کے بغیر یہی ہوگا کہ کچھ
لوگ مصلحت پسندانہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے اور کچھ لوگ تقلیدی طور پر اُس کو حرام سمجھتے رہیں
جماعت اسلامی میں ٹھہراؤ اور جمود کی بات بلاشبہ درست ہے۔ مگر اس کا سبب لکھنے والوں کی کمی نہیں ہے بلکہ جماعت اسلامی میں اعتراف کی کمی ہے۔ اصل یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا فکر ایک رومانی دور میں بنا۔ اس کے فطری نتیجہ کے طور پر جماعت اسلامی نے ایک ایسا فکری نظام بنایا جو عملی سے زیادہ تخیلاتی تھا۔ اس قسم کی رومانیت (romanticism) کا نتیجہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے جو جماعت اسلامی کے اندر پیش آیا۔ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ جماعت اسلامی میں وہ تحریک چلے جس کو عام طور پر تحریک نظرثانی (revisionism) کہا جاتا ہے۔ یعنی جماعت اسلامی کے لوگ کھلے طور پر یہ مانیں کہ اُن کی جماعت کے بانی نے فکری ناپختگی کی بنا پر غلط نظریات قائم کیے اور اسلام کی ایسی تشریح کی جس کا تعلق نہ دین سے تھا اور نہ عقل سے۔ اس حقیقت واقعہ کو مان کر جماعت اسلامی کے فکر پر نظرثانی کی جائے اور اس کی تصحیح کر کے اُس کو شریعت اور حقائق کے مطابق بنایا جائے ۔ اس کے بعد جماعت اسلامی کی مذکورہ کمزوری اپنے آپ دور ہو جائے گی۔
جماعت اسلامی جس نظریہ پر اُٹھی وہ یہ تھا کہ انسانی اقتدار کا نام طاغوت ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ، موجودہ دنیا میں ہر جگہ طاغوتی نظام قائم ہے۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو توڑ کر خدائی اقتدار کا نظام قائم کرے۔ اس کوشش کے بغیر جو موت ہوگی وہ جاہلیت کی موت ہوگی۔ یہ نظریہ نہ صرف خود ساختہ تھا بلکہ وہ ناقابلِ عمل بھی تھا۔ اس لیے جماعت اسلامی کے لوگ دھیرے دھیرے اس نظریہ سے ہٹنے لگے۔ یہاں تک کہ وہ دوسری مسلم جماعتوں کی طرح ، صرف ایک ملی جماعت بن کر رہ گئے ۔ اس گراوٹ کے بعد اُن کے اندر وہ تمام خرابیاں آ گئیں جو کسی جماعت کے اندر اُس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اُس نے اعلان کے بغیر اپنا موقف بدل لیا ہو۔ اس کے بعد جماعت اسلامی اُسی طرح ایک مسلم قومی جماعت بن گئی جس طرح آر۔ ایس ایک ہندو قومی
اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ ایک طرف آر ایس ایس کے آرگن ، پانچ جنیہ اور آرگنائزر کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور دوسری طرف وہ جماعت اسلامی کے آرگن دعوت اور ریڈینْس کے ایک سال کے شمارے اکٹھا کرے اور پھر دونوں کا تقابلی مطالعہ کرے تو وہ پائے گا کہ الفاظ کے فرق کے ساتھ دونوں میں حیرت انگیز مشابہت آر ایس ایس کے پرچے اگر اینٹی ہندو سازشوں اور اینٹی ہندو سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر ہیں تو جماعت اسلامی کے پرچے اینٹی مسلم سازشوں اور اینٹی مسلم سرگرمیوں کے انکشاف کا دفتر۔ یہ مشابہت اتنی زیادہ نمایاں ہے کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پانچ جنیہ اور آرگنائزر ہندوؤں کے دعوت اور ریڈینْس ہیں اور دعوت اور ریڈینْس مسلمانوں کے پانچ جنیہ اور
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پانچ جنیہ اور آرگنائزر پڑھنے والے ہندو جس طرح مسلمانوں کے بارہ میں منفی سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح دعوت اور ریڈینْس پڑھنے والے بھی اینٹی ہندو سوچ کا شکار ہیں۔
اس منفی ذہن نے جماعت اسلامی کے افراد کو بیک وقت دو برے تحفے دیے ہیں۔ ذہن کی بنا پر ایک طرف وہ لوگ دعوت کے قابل نہیں رہے ہیں۔ دعوت مدعو کے حق میں گہری خیر خواہی کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ اب جو لوگ اپنے مدعو کے خلاف منفی سوچ میں مبتلا ہوں وہ مدعو کے حق میں یک طرفہ خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ اس طرح کی منفی سوچ آدمی کو دعوت کے عمل کے لیے بالکل نااہل بنا دیتی آج کل جماعت اسلامی کے لوگ دعوت کے نام سے جو کچھ کر رہے ہیں، وہ میرے نزدیک ایک قسم کا پروفیشن ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی سنجیدہ مشن۔ وہ صرف ایک ظاہری نوعیت کا جماعتی پروگرام ہے، نہ کہ لعلّک باخع نفسک (الشعراء ۳) کی نفسیات کے تحت ظاہر ہونے والا کوئی ربانی اس منفی سوچ کا دوسرا اس سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو جائے اور جس آدمی کا سینہ مثبت نفسیات سے خالی ہو وہ اعلیٰ ربانی احساسات کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ زندگی میں بظاہر نماز روزہ دکھائی دے گا۔ مگر اس کا یہ نماز روزہ اُس کی زندگی کا صرف ایک رسمی حصہ
وہ ربانی نفسیات کا اظہار نہیں ہوسکتا۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی کے بارے میں میں نے اوپر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔ جہاں تک مولانا مودودی کی شخصیت کا تعلق ہے، اس سلسلہ میں عرض ہے کہ میرے مطالعہ کے مطابق، وہ کوئی مفکر (thinker) نہ تھے۔ آج کل ایک عجیب رواج یہ ہو گیا ہے کہ لوگ اپنی محبوب شخصیتوں کو خوش عقیدگی کے تحت مفکر لکھ دیا کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس لفظ کا یہ استعمال درست نہیں۔ آج کل جن مسلم افراد کو مفکر کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب یا تو شاعر تھے یا خطیب تھے یا ادیب۔ ذاتی طور پر میں مولانا مودودی کو ادیب اور انشا پرداز سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقی معنوں میں
مفکر یا تھنکر وہ ہے جو بصیرت (vision) کا حامل انسان ہو۔ جو اپنی بڑھی ہوئی تحلیلی قوت کے ذریعہ حال میں مستقبل کو دیکھے۔ جو متفرق حقائق کو ایک داخلی وحدت (inter-related whole) میں تبدیل کر سکے۔ جو ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان اُس فرق (difference) کو جانے جو صحت تفکیر کے لیے ضروری ہے۔ جو قریبی حالات سے اوپر اُٹھ کر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس کی سوچ مکمل طور پر رد عمل سے خالی ہو۔ جو منفی سوچ سے پوری طرح پاک ہو اور خالص مثبت سوچ کے تحت رائے قائم کر سکے۔ میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولانا مودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لیے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کی مستحق نہیں۔ کی فکر ردعمل کے تحت بنی جب کہ مفکر وہ ہے جو ابدی حقائق کی روشنی میں سوچ سکے۔ میرے نزدیک جماعت اسلامی کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اُس نے اپنے غیر فطری نظریہ کی بنا پر اپنے پیروؤں کو ایک دو طرفہ مشکل میں ڈال دیا۔ اب اُن کے لیے صرف دو میں سے ایک کا چوائس موجود ہے۔ یا تو وہ جماعت کے بانی کے نظریہ کے مطابق، طاغوتی نظام سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر اپنے آپ کو تباہ کرلیں یا اپنے اور اپنے بچوں کی انٹرسٹ کی خاطر منافق بن کر زندگی گزاریں۔ جماعت اسلامی کے مبینہ نظریہ کے مطابق، آج کی پوری دنیا میں طاغوتی نظام قائم ہے اور
طاغوتی نظام سے سمجھوتہ اُن کے نزدیک ہر حال میں حرام ہے۔ اس نظریہ کے مطابق، طاغوتی نظام کے تحت رہنے کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ اس سے مقاطعہ کر کے اُس سے مسلسل جنگ کی جائے، یہاں تک کہ اسی راہ میں اپنی جان دے دی جائے۔
ظاہر ہے کہ اس انتہا پسندانہ تصور سے آدمی کا اور اُس کے بچوں کا دنیوی مستقبل مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اب جماعت کے تمام لوگ موجودہ طاغوتی نظام سے سمجھوتہ کر کے اُس کے تحت دوسرے لوگوں کی طرح مادی تعمیر میں لگ گئے ہیں۔
میرے نزدیک موجودہ نظام کے تحت مادی ترقی حاصل کرنا غلط نہیں۔ مگر جماعت اسلامی والوں کے لیے، وہ ان کے عقیدہ کے مطابق، حرام ہے، الّا یہ کہ وہ اپنے سابقہ نظریہ کے باطل ہونے کا چونکہ جماعت والوں نے ایسا اعلان نہیں کیا، اس لیے اُن کی موجودہ سمجھوتہ کی زندگی صرف منافقت قرار پائے گی ، نہ کہ حقیقی معنوں میں با اصول زندگی ۔ (۱۱ ستمبر ۲۰۰۲)