Al-Risala · December 2002

سوال و جواب

Al-Risala, December 2002

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلم مصنفین کی کتابوں کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری خدائی صرف مسلمانوں کے لئے خواہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ محروم طبقہ ہوں۔ مگر وہ برابر یہ کہتے رہتے ہیں کہ "ساری کائنات بس ہمارے لئے تخلیق کی گئی ہے"۔ اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں وما ارسلنك الا رحمة للعالمين کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "نیز حق تعالیٰ نے وعدہ فرما لیا ہے کہ پہلی امتوں کے برخلاف اس امت کے کافروں کو عام و مستأصل عذاب سے محفوظ رکھا جائے گا" (صفحہ ۴۲۸)۔ یہ کیا معاملہ ہے، اس کی وضاحت کریں (محمد سلیم، دہلی) یہ بات بے بنیاد ہے کہ مسلم قوم خدا کے نزدیک کوئی افضل قوم ہے۔ (chosen people) کا عقیدہ خالص یہودی عقیدہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں جو فیصلہ ہوگا وہ ہر فرد کے اپنے ایمان وعمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی قوم یا نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنیاد پر۔

تفسیر عثمانی کا جو اقتباس آپ نے نقل کیا ہے وہ بھی درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عذاب مستأصل نہیں آئے گا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا تعلق صرف بعد کے مسلمانوں سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون الہی کا تعلق اس بات سے ہے کہ اب کوئی پیغمبر دنیا میں آنے والا نہیں۔ عذاب مستأصل صرف کسی ایسی قوم پر آتا ہے جس کے درمیان کوئی پیغمبر آئے اور وہ ان پر اتمام حجت کر دے۔ اس کے باوجود وہ قوم انکار کی روش پر قائم رہے۔ قوم پر عذاب مستأصل آتا ہے، جیسے کہ قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون پر آیا۔ اب ختم نبوت کے بعد چوںکہ دنیا میں کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس لئے اب کسی کے اوپر عذاب مستأصل بھی نہیں آئے گا۔ ماحولیاتی پرابلم (Ecological Problem) کے بارے میں اسلام کیا رہنمائی دیتا ہے۔

کل کے زمانہ میں ساری دنیا میں اس مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مسئلہ پر بہت زیادہ سوچ بچار ہو رہا ہے۔ اگر ممکن ہو تو بتائیں کہ اسلام میں اس مسئلہ کے بارے میں کیا روشنی ڈالی گئی ہے۔ (کرس فلپاٹ (Chris Philpott) برمنگھم)

ماحولیات کا مسئلہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فطرت کا قائم کیا ہوا نظام بگڑ جائے۔ واٹر پولیوشن، گلوبل وارمنگ، وغیرہ مسائل اس لئے پیدا ہوئے کہ جدید انڈسٹری یا جدید مشینی تہذیب کی وجہ سے فطرت کا بنایا ہوا نظام اپنی اصل حالت پر قائم نہ رہا، اس میں بگاڑ آگیا۔ اس معاملہ میں قرآن کی رہنمائی اس اصول پر قائم ہے کہ فطرت کے قائم شدہ نظام کو درہم برہم قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے دنیا کی ہر چیز معین مقدار میں بنائی (الحجر 19) اسی طرح قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ خدا نے دنیا کا نظام کس طرح کامل انداز میں بنایا کہ تم اس کے اندر کوئی نقص نہیں پا سکتے (الملک ۳) اسی حقیقت کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں انسان کو یہ حکم دیا گیا: لا تفسدوا فى الارض بعد اصلاحھا (الاعراف (۵۶) یعنی زمین میں فساد نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد۔ طرح کی مختلف آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہماری دنیا کو انتہائی متوازن(balanced) صورت میں بنایا ہے۔ اس کی ہر چیز انتہائی صحیح تناسب (right proportion) خدا جو اس دنیا کا مالک ہے اس نے اس دنیا کو انسان کے حوالہ کرتے ہوئے یہ تاکید کی کہ تم کو یہ حق حاصل ہے کہ تم دنیا کو اپنے لئے استعمال کرو۔ مگر تم کو یہ حق حاصل نہیں کہ تم اس کو بگاڑو۔ چاہئے کہ وہ اپنی ترقی کا منصوبہ اس طرح بنائے کہ دنیا میں فطرت کا قائم کیا ہوا توازن ٹوٹنے نہ پائے۔ یہاں کی مختلف چیزوں میں جو تناسب رکھا گیا ہے، وہ جیسا ہے ویسا ہی باقی رہے۔ قرآن کے مطابق، انسان کو ایک اصلاح یافتہ دنیا دی گئی ہے، انسان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اس اصلاحی حالت کو باقی رکھتے ہوئے اسے استعمال کرے۔ اگر انسان اس اصلاح میں خلل ڈالے اور وہ مسئلہ پیدا کرے جس کو ماحولیاتی مسئلہ کہا جاتا ہے تو خدا کے نزدیک وہ ایک مجرم قرار پائے گا۔

اس کی مثال ایسی ہے کہ آپ نے چند دن کے لئے کسی شخص کو اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ اگر وہ سمجھ لے کہ وہ اس گھر کا مالک ہے اور اس احساس کے ساتھ وہ گھر کی چیزوں کو بے قید طور پر استعمال کرنے لگے اور گھر کے اندر چیزوں کا جو نظم ہے اس کو بگاڑ ڈالے تو وہ مہمان نہ رہے گا بلکہ مجرم بن جائے گا۔

اسی طرح موجودہ دنیا گویا خدا کا ایک عالمی گسٹ ہاؤس ہے۔ انسان کو خدا نے اس گسٹ ہاؤس میں محدود مدت تک رہنے کی اجازت دی ہے۔ انسان اگر اصل مالک کی مرضی کے مطابق، یہاں رہے اور گیسٹ ہاؤس کے نظام میں خلل ڈالے بغیر اس کو استعمال کرے تو یہ اس کا جائز حق ہوگا، لیکن اگر وہ خود اپنے آپ کو اس عالمی گسٹ ہاؤس کا مالک سمجھنے لگے اور اس کے اندر قائم کئے ہوئے نظام کو درہم برہم کر دے تو اس کی حیثیت ایک ایسے مجرم کی ہو جائے گی جس کو انعام دینے کے بجائے ذلّت کی سزا دی جائے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو ماحولیاتی مسئلہ موجودہ زمانہ میں پیدا ہوا ہے اس کو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں قرآن کی یہ آیت بے حد اہم ہے: ظہر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدي الناس لیذیقھم بعض الذي عملوا لعلھم يرجعون (الروم (۴۱) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزا چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں ۔

اس آیت میں عین انہی ماحولیاتی مسائل سے پیشگی طور پر خبر دار کیا گیا ہے جو آج انسان کو قرآن کی اس آیت کے مطابق، جو ماحولیاتی مسائل آج پیش آرہے ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ ان ماحولیاتی مسائل کو وارننگ کے طور پر لے اور اپنی روش میں اصلاح کر کے دنیا کو دوبارہ اس اصلاحی حالت کی طرف لے جائے جو کہ صنعتی دور سے پہلے تھی۔

آپ نے الرساله ماه جون ۲۰۰۲ میں لکھا ہے کہ : اسی طرح گجرات میں جن لوگوں نے جگہ

جگہ خونی فساد کیا وہ بھی اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے، نہ کہ ہندو۔ یہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوتے تو ایسا واقعہ کبھی پیش نہ آتا (صفحہ ۲۶) واقعہ یہ ہے کہ آج دنیا میں سارا فساد تعلیم یافتہ لوگوں ہی کی وجہ سے ہے۔ اس لیے اس طالب علم کا قول ہے:

Education without ethics is an evil. (ابن غوری، انگلنڈا)

تعلیم یافتہ سے ہماری مراد ڈگری یافتہ نہیں ہے، بلکہ شعور کا مالک ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس سماج میں لوگ پڑھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، یعنی مصلحین اور عام لوگوں کے درمیان فکری بُعد (intellectual gap)۔ ہمیشہ اور ہر دور میں مصلحین ہوتے ہیں لیکن اگر سماج میں تعلیم عام نہ ہو تو لوگ ان مصلحین کی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس بنا پر سماج میں تربیتِ شعور کا عمل رُک جاتا ہے۔ یہی خاص حکمت ہے جس کی بنا پر تمام اعلیٰ دماغ لوگ عمومی تعلیم کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم کا مقصد جاب (job) حاصل کرنا ہے۔ میرے نزدیک جاب کا مسئلہ ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہاں مصلحین ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو کسی بات کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ جب کہ بے پڑھے لکھے سماج میں ایسے افراد موجود نہیں۔ غیر تعلیم یافتہ سماج میں لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ معاملات کا گہرا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ مثلاً اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ کہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل مسئلہ فقدانِ قیادت نہیں ہے بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت ہے۔ ہمارے یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُن افراد کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے جو ہائی پروفائل میں بولتے ہوں، حالاں کہ دانش مند ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتا ہے۔ اسی طرح باہمی نزاعات میں لوگ اکثر آئیڈیل سلوشن کی بات کرنے لگتے ہیں حالاں کہ اس طرح

کے معاملات ہمیشہ پریکٹیکل سلوشن کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔

اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ اکثر لوگ جب قومی معاملات میں بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ غیر مفاہمانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی لوگ خود اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور مصالحت کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کی جبلّت (instinct) ہی رہنمائی کے لئے کافی ہے جو ہر ایک کو حاصل ہوتی ہے مگر ملّی اور قومی معاملات میں مفاہمت اور مصالحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ شعور درکار ہے جو ایک کم تعلیم یافتہ معاشرہ میں لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ میں ماہنامہ الرسالہ کا ریگولر قاری ہوں۔ مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ ہمیشہ ناامیدی کے حالات میں امید کا پہلو تلاش کرتے ہیں۔ مایوسی کے حالات میں ہمت اور عزم پیدا کرنے والی بات کرتے ہیں۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان آپ کی مخالفت کیوں دوسرے لوگ جو مسلمانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں اور دنیا بھر میں لوگ مسلمانوں کو مٹانا چاہتے ہیں ان کی باتیں مسلمان خوب شوق سے سنتے ہیں مگر آپ مسلمانوں کو خوش خبری دیتے ہیں تو مسلمانوں کو آپ کی بات اچھی نہیں لگتی۔ ایسا کیوں ہے۔ (محمد اصغر، نئی دہلی) آپ کے اس سوال پر مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک بار میں بی بی سی لندن (ہندی) سن رہا انہوں نے پروگرام کے مطابق، مارینش میں مقیم ایک ہندو کا خط پڑھ کر سنایا۔ خط میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ بی بی سی لندن اپنے ہندی پروگرام میں ہندی بولنے والے علاقے کی خبریں دیتا ہے مگر اس کے ہندی پروگرام میں کبھی مارینش کی کوئی خبر نہیں آتی۔ حالانکہ مارینش میں ہندی بولنے والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ بی بی سی لندن کے اناؤنسر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام یہ ہے کہ وہ بیڈنیوز (بری خبریں) نشر کرے جب کہ مارینش میں سب اچھی خبریں ہوتی ہیں۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا: And good news is no news.

یہی معاملہ موجودہ مسلمانوں کا ہے۔ آج کے مسلمان اپنے پریس اور اپنے اسٹیج سے اپنے بارے میں بری خبریں سنتے سنتے اس کے اتنے زیادہ عادی ہو چکے ہیں کہ اب اپنے بارے میں اچھی خبریں ان کو اجنبی معلوم ہونے لگی ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ان کے بارے میں کوئی اچھی خبر بھی موجودہ مسلمانوں کے اس مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ: Good news is no news for a Muslim. کسی قوم کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ واقعہ پیش آنے کے وقت پہلے ہی مرحلہ میں اس کو ہوش منڈ لیڈر مل جائیں۔ جیسا کہ ۲۰۰ سال پہلے امریکہ کے ساتھ پیش آیا۔ مثلاً جیفرسن، واشنگٹن، بدقسمتی سے انہی ۲۰۰ سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ناخوش گوار واقعات پیش اس وقت کرنے کا کام یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن کے الفاظ میں عُسر میں يُسر کا راز بتایا جائے۔ مگر ساری دنیا کے مسلم لیڈر صرف عُسر کی اصطلاحوں میں لکھتے اور بولتے رہے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی قابل ذکر مسلمان ایسا نہیں نکلا جو یُسر کی اصطلاحوں میں بات کرے۔ اس مدت میں کچھ لوگوں نے فضائل کی زبان میں کچھ بشارتیں سنائیں مگر اس قسم کی بشارتیں افیون کی گولی ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت رہنمائی۔ اس طرح لمبی مدت تک منفی ماحول میں جینے کی وجہ سے مسلمانوں کا حال وہ ہو گیا ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔

اس معاملہ میں مسلمانوں کی مثال ساس اور بہو کے روایتی جھگڑے جیسی ہے۔ جو ساس اپنی بہو کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار ہو چکی ہو اس کے سامنے اگر بہو کی خوبیاں بیان کی جائیں تو ساس کو یقین نہیں آئے گا۔ عین ممکن ہے کہ اس بات کو سن کر وہ غصہ ہو جائے ۔ البتہ اگر بہو کی برائی بیان کی جائے تو وہ خوب خوش ہوگی اور بلا ثبوت بہو کے خلاف باتوں کو مان لے گی ۔ ٹھیک یہی معاملہ برعکس طور پر بہو کے بارے میں بھی درست ہے۔

موجودہ مسلمانوں کی یہی کمزوری ہے جس کی بنا پر اُن کا حال وہ ہو گیا ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو وہ اُس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا

راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے (الاعراف ۱۴۶)

میں نے عالمی تاریخ کی کچھ کتابیں پڑھیں اور کچھ مورخین کے تبصرے پڑھے۔ ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پوری انسانی تاریخ شورش اور ہنگاموں کی تاریخ ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے لمحات ملتے ہیں جب کہ پرسکون اور معتدل ماحول میں انسان کو جینے کا موقع ملا ہو۔ تاریخ کے اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ خدا کی خدائی پر شک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا اگر عادل ہے تو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ کیوں؟ براہ کرم اس سوال پر روشنی ڈالیں۔ دنیا کے بارے میں مذکورہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے لیکن اگر دنیا کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے تو نہایت آسانی سے اس کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا چاہئے تھا۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ موجودہ دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ قرآن کے مطابق، وہ تخلیقی نقشہ امتحان (test) کے اصول پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے انسان کو اس لئے نہیں بسایا کہ وہ یہاں عیش کرے۔ عیش کی زندگی انسان کو اُس کے عمل کے مطابق، آخرت میں ملے گی۔ موجودہ دنیا کا سارا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ ہر انسان اور ہر گروہ امتحان کی کسوٹی پر آ سکے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ معتدل حالات میں کسی انسان کی اصل حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ خوبصورت لفظوں اور خوشنما کپڑوں میں اپنے آپ کو چھپائے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو اکسپوز (expose) کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں اضطراب (disturbance) اس معاملہ میں انسان کی مثال انڈے جیسی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں ہر انڈا اچھا ہی معلوم جب انڈوں کو توڑا جائے اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون انڈا اچھا تھا اور کون انڈا خراب۔

اللہ تعالی کو اس دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ امتحان ہے۔ اور امتحان کے لئے غیر معمولی حالات کا پیش آنا لازمی ہے۔ اس لئے بار بار ہر فرد اور گروہ کی زندگی میں غیر معمولی حالات پیدا کئے جاتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کیسا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں حق پرست تھا یا اس نے صرف ظاہری طور پر حق کا نمائشی خول اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا ایک ہو گئی ہے۔ اس کا خوبصورت نام گلوبلائزیشن مگر جیسا کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے۔ مغرب کی مسلم دشمن طاقتیں گلوبلائزیشن کے نام پر اسلام کو اپنے جال میں پھنسا لینا چاہتی ہیں۔ اس نئے خطرہ کے بارے میں آپ کی رائے کیا (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی)

گلوبلائزیشن میرے نزدیک فتنہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ گلوبلائزیشن سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اور دوسرے ذرائع اتنا زیادہ وسیع ہو گئے ہیں کہ ساری دنیا ایک گاؤں (global village) کی مانند ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال ایک عظیم موقع ہے۔ اس دنیا میں خدا نے ہر ایک کو آزادی دی ہے۔ اس لیے دوسرے لوگ اگر اس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں تو آپ کو اُن کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے احتجاج سے یہ نہیں ہو سکتا کہ دوسرے لوگ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ ان جدید مواقع کو سمجھا جائے اور ان کو استعمال کیا جائے۔ آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کہ اللہ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا کے ایک ایک گھر میں پہنچادے جدید مواصلاتی ذرائع نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ حق کی اشاعت کے اس خدائی منصوبہ کو مکمل

عقبہ بن نافع تابعی افریقہ میں اسلام کا پیغام پہنچاتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے ۔

وہاں انہوں نے اپنے گھوڑے پر بیٹھے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کچھ لوگ آباد ہیں تو میں وہاں تک پہنچتا تا کہ کوئی بھی شخص اللہ کا پیغام پانے سے محروم نہ رہے۔ مگر آج اس گلوبلائزیشن کی بنا پر ہم دنیا کے ہر خطے کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جان چکے اسی بنا پر یہ ممکن ہو ہے کہ ہم بآسانی ہر جگہ پہنچ سکیں۔ پھر اسی بنا پر یہ بھی ممکن ہوا ہے کہ جدید وسائل کو استعمال کرتے ہوئے لٹریچر اور دوسری صورتوں میں بہت کم مدت میں سچائی کا پیغام زمین کے ہر گوشہ میں پہنچایا جا سکے۔

مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی تشدد پسندی کے موضوع پر کئی کتابیں اب تک شائع ہوئی آپ بھی اس موضوع پر لکھتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں۔ میں نے آپ کی تحریروں میں پایا ہے کہ آپ مسلمانوں کے اس تشدد کو غلط بتاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ درست کیوں کہ مسلمان اپنے جائز حق کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ رائے میں یہ اختلاف کیوں۔ (ایک قاری الرسالہ، کشمیر)

اپنے جائز حق کے لیے کوشش کرنا اور تشدد کا استعمال دونوں دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں کا حکم ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ایک کی حیثیت نظری اور اصولی ہے اور دوسرے کی حیثیت عملی طریق کار کی۔ اگر سوال یہ ہو کہ کسی شخص یا گروہ کو اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا درست ہے یا نہیں ، تو ہر شخص یہ کہے گا کہ جائز حق کے لیے کوشش کرنا اصولاً بالکل درست ہے۔ مگر جہاں تک تشدد کا سوال ہے، وہ عملی طریق کار سے تعلق رکھتا ہے۔ اور طریق کار کے بارے میں متفقہ طور پر یہ حکم ہے کہ پر امن طریق کار درست ہے۔ مگر پر تشدد طریق کار درست نہیں۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوا اور آدمی کو یہ اختیار ہو کہ وہ پر امن طریق کار اختیار کرے یا پر تشدد طریق کار، تو لازماً اس کو پر امن طریق کار اختیار کرنا چاہئے اور پر تشدد طریق کار کو چھوڑ دینا چاہئے۔

اپنے حق کے لیے پر امن طریق کار کے ذریعہ جد و جہد کرنا بالکل درست ہے مگر اپنے حق کے لیے پر تشد د طریق کار اختیار کرنا ہر گز درست نہیں۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ فریق ثانی جب تشدد کر رہا ہو تو ہم کیسے تشدد سے پر ہیز کر سکتے ہیں، کیا ہم یک طرفہ طور پر مار کھاتے یہ بات بالکل غلط ہے۔ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے دعوے کے مطابق، اُن پر تشدد ہو رہا ہے وہاں مسلمانوں نے خود ہی تشدد کا آغاز کیا۔ اس کے بعد فریق ثانی نے ان کے مقابلہ میں جوابی تشدد میرے علم کے مطابق، ہر جگہ ایسا ہی ہوا ہے۔ مسلمان اگر اپنی جد و جہد کو پر امن طریق کار کے حدود میں رکھتے تو ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ فریق ثانی اُنہیں اپنی گولی اور اپنے بم کا نشانہ بنائے۔ اس معاملہ کے اصل ذمہ دار مسلم عوام نہیں ہیں بلکہ اُن کے خود ساختہ لیڈر ہیں جو جوش دلا کر اُنہیں تشدد پر اکساتے ہیں۔ یہ مسلم لیڈر دورِ جدید کی ایک اہم حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔ کو یہ معلوم نہیں کہ دورِ جدید کے مانے ہوئے اصول کے مطابق، پر امن جد و جہد مکمل طور پر جائز ہے اور پر تشد د جد و جہد مکمل طور پر ناجائز۔ یہ فرق آج عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر اس حقیقت کو جانتے اور اُس کے مطابق، مسلمانوں کی رہنمائی کرتے تو مسلمان اُن تباہیوں سے بچ جاتے جو اس بین اقوامی اصول کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں اُنہیں پیش آرہی ہیں۔

الرساله جولائی ۲۰۰۲ کے شمارے میں آپ نے صفحہ ۳۳ پر ”بے بنیاد سوچ“ کے عنوان کے تحت ایک مکالمہ تحریر فرمایا ہے جو ایک ہندو اور مسلم کے درمیان ہے۔ ”مسلمان کا یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے، اس لئے میں بھی سچا ہوں“۔ جہاں تک جملہ کے پہلے حصہ کا تعلق ہے وہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ کہنا کہ اسلام سچا ہے اس لئے میں بھی سچا ہوں آج تک کسی مسلمان نے ایسا کہنے کی جرأت نہیں کی اور نہ آئندہ کرے گا۔ دین کا سچا ہونا الگ بات ہے اور دین کے ماننے والوں کا سچا ہونا قطعی الگ۔ سراسر الزام ہے جو آپ نے ایک مسلمان پر عائد کیا ہے، ورنہ ہر مسلمان جانتا ہے اور اس کا اعتقاد بھی

ہے کہ اس کے کسی بھی عمل کا سچ ہونا صرف روز محشر ہی میں ثابت ہوگا۔

آپ سے گذارش ہے کہ اپنی مثال کو اور واضح کریں تا کہ جو الزام آپ نے ایک مسلمان پر لگایا ہے اس کی وضاحت ہو جائے اور تشویش دور ہو جائے۔ (محمد بشیر احمد، گلبرگہ) آپ نے الرسالہ جولائی ۲۰۰۲ (صفحہ ۳۳) کے مضمون کو زیادہ غور کے ساتھ نہیں پڑھا، ورنہ یہ اشکال نہ ہوتا۔ آپ اس کو دوبارہ پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کی غلط فہمی ختم ہو جائے گی۔ واضح ہو کہ اس مضمون میں ہند و اور مسلمان کے ”کیس‘‘ کو بتایا گیا ہے، اس میں اُن کے ’’قول‘‘ کو نہیں دہرایا گیا آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ کسی کے قول کو دہرانا ایک بات ہے اور اُس کے کیس کو بتانا اُس سے بالکل مختلف دوسری بات ہے۔ کیس اور قول کے اس فرق کو قرآن و حدیث کے مطالعہ سے بھی جانا جا سکتا ہے اور روزمرہ کے تجربہ سے بھی۔

اس غلط فہمی کی بنا پر آپ نے مذکورہ مضمون کو ’’مکالمہ‘‘ سمجھ لیا ہے اور اس کو الزام قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ مکالمہ نہیں ہے بلکہ وہ تجزیہ ہے۔ اگر آپ اُس کو مکالمہ کے بجائے تجزیہ سمجھتے تو آپ کو ہرگز یہ غلط فہمی نہ ہوتی۔

میں نے ایک کتاب لکھنی شروع کی ہے جس کا عنوان ہے ’’رسول اللہ ﷺ کی سنتیں، سائنسی وجوہات اور اُخروی فائدے‘‘۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو سائنسی نظریے کی روشنی میں لوگوں کے سامنے پیش کروں تا کہ کلمہ میں جو بات کہی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے ہی میں کامیابی ہے، اور دوسروں کے طریقوں میں ناکامی ہے، لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں اور اس طرح میں ایک بہترین کتاب کی شکل میں اُسے لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ تھوڑی مدد کریں۔ بتائیں کہ اس سلسلہ میں آپ کی کون سی کتابوں کا مطالعہ کروں اور کیسے اس مشن کو آگے بڑھاؤں۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگ پور)

کتاب پو چھ کر نہیں لکھی جاتی۔ کتاب خود اپنے طوفانی احساس کے تحت لکھی جاتی ہے۔ مولا نا سید سلیمان ندوی سے کسی نے پوچھا کہ میں کب لکھوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔

اکثر لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں مصنف بننا چاہتا ہوں، اُس کی تدبیر بتائیے۔ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کوئی شخص مصنف نہیں بن سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریر مشکل ترین آرٹ جو آدمی واقعی معنوں میں اس آرٹ کو جانتا ہو اُسی کو کتاب لکھنا چاہئے ۔ بقیہ لوگوں کے لیے کتاب پڑھنا ہے، نہ کہ کتاب لکھنا۔

ایک فیکٹری میں مختلف مذاہب کے لوگ کام کرتے ہیں۔ وہاں میرے ماموں زاد بھائی بھی ایک ورکر کی حیثیت سے ہیں ۔ جب میں اُن سے ملاقات کے لیے گیا تو وہاں پر موجود دوسرے لوگوں نے مجھ سے اسلام کے متعلق مختلف سوالات کیے۔ میں نے اپنے علم کے مطابق ، اُن کے سوالات کے ان سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ مسلمان بے رحم اور خونخوار قوم ہے اس لیے کہ اُن کی مذہبی کتاب قرآن نے خون بہانے یعنی جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کا حکم دیا ہے جو کہ غلط ہے۔ مزید یہ انسانیت کے خلاف ہے اور بے رحمی کا ثبوت بھی۔ میں نے حتی الامکان اُن کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی مگر انہیں تسلی نہ ہوسکی ۔ آپ اس سوال کا فکری جواب وضاحت کے ساتھ لکھیں ۔ ( جاوید انجم سہراب علی ، نئی دہلی )

جانور کو ذبح کرنا صرف مسلمان کا اصول نہیں، وہ فطرت کا عام اصول ہے۔ میں کوئی بھی شخص، حتیٰ کہ سوال کرنے والے لوگ بھی اس سے بری نہیں ۔ دنیا میں بسنے والے انسانوں میں، بشمول ہندوستان، بیشتر لوگ حیوانی غذا کو استعمال کرتے ہیں ۔ جو لوگ بظاہر حیوانی غذا نہیں لیتے وہ

بھی بالواسطہ طور پر ایسا ہی کرتے ہیں۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل یا کوئی بھی چیز جس کو انسان کھاتا ہے اُن سب میں خوردبینی زندگیاں ہوتی ہیں۔ ان زندگیوں کو قتل یا ذبح کیے بغیر کوئی شخص و تحجییر ین غذا بھی نہیں لے سکتا۔ جس کو اس معاملہ میں شبہ ہو اُس سے کہیے کہ وہ دودھ کو خورد بین کے شیشے کے نیچے رکھ کر دیکھ لے۔

اصل یہ ہے کہ ذبح حیوان ہمارے لیے انتخاب (choice) کا معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ ہمارے لیے مقدر (destiny) کا معاملہ ہے۔ موجودہ دنیا میں اس کے بغیر زندگی کا کوئی امکان ہی نہیں۔ دنیا میں اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں ذبح حیوان کے بغیر جینا چاہے تو اُس کو خود اپنے آپ کو ذبح کرنا کیوں کہ ایسے کسی انسان کے لیے یہاں صرف خودکشی کا امکان ہے، اُس کے لیے زندگی کا سرے سے کوئی امکان ہی نہیں۔

میں انگریزی زبان میں کمزور ہوں۔ فکر و نظر کو تقویت بخشنے میں عربی کے ساتھ انگریزی کا کردار آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے انگریزی زبان جس اُصول و طریقہ کے مطابق سیکھی ہے اس سلسلہ میں کوئی نمونہ لکھ بھیجیں تاکہ میں اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو سکوں۔ (رضوان اللہ الریاضی، ریاض)

کسی کا قول ہے کہ پڑھنے سے پڑھنا آتا ہے اور لکھنے سے لکھنا آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی زبان کو سیکھنا چاہتا ہے تو اُس کو چاہئے کہ وہ اُس کو فوراً شروع کر دے۔ اور اُس کو مسلسل جاری رکھے۔ اس معاملہ میں آدمی کا شوق اور اُس کی محنت ہی اس کے سب سے بڑے معلم ہیں۔ میں نے افریقہ میں ایک تاجر کو دیکھا کہ وہ مسلسل انگریزی بولنے کی کوشش کرتا اگر چہ اُس کی زبان میں گرامر کے لحاظ سے بہت سی غلطیاں ہوتی تھیں۔ کسی نے اُس سے کہا کہ جب تم انگریزی نہیں جانتے تو تم انگریزی کیوں بولتے ہو۔ اُس نے جواب دیا کہ میں

غلط انگریزی بولتا ہوں تا کہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آ جائے :

I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English. آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے ملٹنسی (militancy) کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے ایسا لکھا ہے۔ اور اگر لکھا ہے تو کس دلیل کی بنیاد پر لکھا براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ۔

ایسا میں نے کبھی نہیں لکھا۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ البتہ میں نے ایک اور بات لکھی ہے اور کچھ غیر ذمہ دار لوگ اس کو بگاڑ کر میرے خلاف اس قسم کا پروپیگنڈاکر رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ : يحرفون الكلم عن مواضعه (المائدہ ۱۳)

میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ عام طور پر مسلم مقررین اور محررین دور جدید میں اسلامی جد جہد کا آغاز ۱۷۹۹ سے کرتے ہیں جب کہ میسور کے سلطان ٹیپو انگریزی فوج سے لڑتے ہوئے شہید اگر ۱۷۹۹ کو آغاز مانا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلمان ۲۰۰ سال سے اپنے مسائل کے حل کے لئے مسلح جد و جہد کر رہے ہیں۔ مسلح جد و جہد ابھی تک مختلف مقامات پر جاری ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ۲۰۰ سال کی اس مسلح جد و جہد کا کوئی بھی مثبت نتیجہ اسلام کے لئے یا مسلمانوں کے لئے نہیں نکلا۔ اب بھی مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے شکایت اور احتجاج کی زبان بول رہے ہیں۔ اس طرح یہ تمام لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ لمبی مدت تک اس مسلح جد و جہد کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔

اب میں کہتا ہوں کہ عقل اور شریعت دونوں کا تقاضا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اپنے طریق کار کے بارے میں نظر ثانی (revision) کا عمل کیا جائے ۔ ہندوستان میں ۱۸۵۷ میں آزادی کی تحریک مسلح

انداز میں شروع کی گئی۔ جب وہ بے فائدہ ثابت ہوئی تو 1919ء میں اس طریقِ کار کو بدل کر آزادی کی تحریک کو پرامن طریقِ کار کے اصول پر چلایا گیا۔

خود اسلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار صحابہ کے ساتھ 8 ہجری میں طائف کی طرف اقدام فرمایا۔ وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ بروقت حالات موافق نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ نے طائف کا محاصرہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف واپسی کا فیصلہ فرمایا۔ اسی طرح غزوۂ موتہ کے موقع پر ابتدائی جنگ کے بعد اندازہ ہوا کہ جنگ کو جاری رکھنا اہل اسلام کے حق میں نہیں ہے تو حضرت خالد درمیان ہی میں واپس ہو کر مدینہ آگئے، وغیرہ۔

میں اسی نظر ثانی (revision) کی بات کرتا ہوں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ 200 سال کی مسلح جدوجہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلح طریقِ کار موجودہ حالات میں ہمارے لئے کارآمد نہیں ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلح طریقِ کار کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور پر امن طریقِ کار کا تجربہ کریں۔ پرامن طریقِ کار سے مراد ہے مسلمانوں کی داخلی اصلاح، مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنانا، مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا، مسلمانوں کو جدید اقتصادیات میں آگے بڑھانا، جدید وسائل کی مدد سے دعوت و تبلیغ کا کام کرنا، مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنا، وغیرہ۔ آپ کے تعمیری انداز اور پلس طریقِ تعلقات اور دنیاوی اور دینی انداز عمل سے غیر متفق ہونے کا سوال ہی نہیں۔ لیکن ہم تجربہ حاصل کر رہے ہیں کہ پریکٹیکل لائف میں خیالات کی صحت مندی کام دینے سے قاصر ہے۔ لوگ، بالخصوص دیگر اور الگ الگ مذاہب کے لوگ اب بالکل ہی بے حس ہو گئے ہیں، وہ دوسروں کی پرابلم کو یا اوروں کی مصیبتوں کو سمجھنے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ انجام کیا ہوگا (عدنان کریمی، حیدر آباد)

موجودہ زمانہ کے مسلمان اور اُن کے رہنما ایک تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ نماز روزہ کے مسائل اور

حج کے آداب جیسے معاملات میں تو اسلام سے رہنمائی لینے کے لیے تیار ہیں۔ مگر جہاں تک اُن کے اور قومی مسائل کی بات ہے تو وہ ان معاملات میں اپنی خواہشوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ اس تضاد کی موجودگی میں ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں۔ جب تک وہ اس تضاد سے باہر نہ آئیں ، اُن کا کوئی بھی دنیوی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

اس سے بھی زیادہ غیر اسلامی بات یہ ہے کہ الرسالہ میں جس ایڈجسٹمنٹ کی بات کہی جاتی ہے، ہر مسلمان، عوام اور خواص دونوں اپنے ذاتی معاملات میں عین اسی ایڈجسٹمنٹ کے فارمولا پر عمل جہاں اُن کے ذاتی انٹرسٹ کا مسئلہ ہو وہاں وہ فورا ایڈجسٹمنٹ کے اصول کو اختیار کر لیتے البتہ جب انہیں ملی مسائل پر بولنا اور لکھنا ہو تو وہ ایڈجسٹمنٹ کو بزدلی کہہ کر اُسے رد کر دیتے ہیں۔ انفرادی اور قومی زندگی کا یہ تضاد بلا شبہ ایک جرم ہے۔ اس جرم کی موجودگی میں یہ امر بھی سخت مشتبہ ہے کہ دینی مسائل کے معاملہ میں اُن کی مذکورہ روش اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ قبول قرار پائے۔ آپ نے یہ شکایت کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے مسائل کے حل میں اُن کی مدد نہیں کرتے۔ یہ ایک غیر ضروری شکایت ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہوتا، حتی کہ رشتہ داروں کے درمیان بھی نہیں۔ مسلمانوں کو یا تو اپنا مسئلہ خود حل کرنا ہو گا یا اُن کے مسائل ہمیشہ غیر حل شدہ حالت میں پڑے رہیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ذہین لوگوں کے لئے گنجائش نہیں ہے ۔ یہ سوال اس لئے ذہن میں پیدا ہوا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ماضی میں اور حال میں بھی ذہین یا منطقی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ مثلاً ماضی میں سید شہاب سہروردی کو قتل کر دیا گیا جب کہ وہ ابھی صرف ۳۷ سال کے تھے، مگر بہت ذہین انسان تھے۔ ابنِ رُشد کو جیل میں ڈالا گیا۔ رازی، فارابی اور بوعلی سینا پر کفر کا فتوٰی لگا کر اُن کو ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے یہاں سرسید احمد خاں کی تکفیر کی گئی اور انہیں ذلیل کیا ڈاکٹر اقبال پر بھی کفر کا الزام لگایا گیا۔ بوعلی سینا نے بھی اپنے ایک فارسی قطعہ میں کہا ہے کہ یہاں

اگر رہنا ہے تو گدھا بن کر رہو اگر عقلمند بنو گے تو پھر خیر نہیں۔

کیا اسلام میں ایسے ہی لوگوں کی گنجائش ہے جو منطقی نہ ہوں، استدلالی نہ ہوں، اپنی عقل و فہم کی روشنی میں حیات وکائنات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوں۔ (احساس آفاقی، کُرلا، ممبئی) آپ نے چند مثالوں کو لے کر اُن کو جنرلائز کر دیا ہے۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ فکری آزادی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لیے آپ میری کتاب دین انسانیت کا باب ’’حریت فکر‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ انشاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ قرآن میں بار بار اہل عقل کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خود قرآن کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ عقل والے اس پر غور کریں (ص ۲۹)۔ چنانچہ ہر دور میں عقلی غور و فکر کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور و فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غور و فکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں دیکھ سکتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں فخر الدین رازی کی ضخیم تفسیر اور موجودہ زمانہ میں جو ہری طنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ خاص اسی مقصد کے لیے لکھی۔ خود راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔ تاہم بعد کے زمانہ میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا۔ اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے اُس کو قتل کر دیا جائے ۔ اس مسئلہ کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا۔ مگر یہ مسئلہ بذاتِ خود غلط ہے۔ اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں۔ اس مسئلہ کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ خود اسلام پر۔ اس معاملہ میں شرعی حکم کو سمجھنے کے لیے آپ راقم الحروف کی کتاب ’’شتم رسول کا مسئلہ‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

آج ایک ایسے قائد کی اشد ضرورت ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کر سکے۔ کئی کتابیں اور الرساله کا مسلسل مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیادت کے لائق صرف آپ کی شخصیت ہی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی احسن طور پر رہنمائی کر سکتی ہے۔ علماء کرام اور دانشوروں کا طبقہ ’’بغیاًبینہم کے مرض سے دور ہو جائیں (نثار احمد خاں سلفی، امام و خطیب مسجد اہل حدیث، مومن پورہ، ناگپور)

قیادت کا مسئلہ نامزدگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ قبولیت کا مسئلہ ہے۔ کوئی شخص قائد اُس وقت بنتا ہے جب کہ لوگوں کی اکثریت اٌس کو اپنے قائد کے طور پر قبول کرلے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ایک ہی زمانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں نے مسلمانوں کے اندر کام کیا اور اٌن کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد بن گئے، لیکن ابوالکلام آزاد عملاً مسلمانوں کے قائد نہ بن سکے۔ اس کا سبب سادہ طور پر صرف یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر محمد علی جناح کو قبول کر لیا اور ابوالکلام آزاد کو قبول کرنے کے لیے وہ تیار نہ ہو سکے۔ یہی معاملہ ساری مسلم دنیا کا ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ شعوری اعتبار سے ایک کھچڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ اٌن میں جب تک شعوری بیداری نہ لائی جائے، کسی صالح قیادت کا اٌن کے اندر ابھرنا

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۳ ستمبر ۲۰۰۲ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے حکم کے باوجود ابلیس نے آدم کو سجدہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ ابلیس نے یہ بتائی کہ: أنا خير منه (الأعراف ۱۲)۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو أنا خير منه کی نفسیات میں جیتے ہوں، اور دوسرے وہ جو الحق خير منی کی نفسیات میں جئیں ۔ مزید غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ہدایت اور گمراہی کے معاملہ میں یہ تقسیم بے حد اہم ہے۔ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت ایک ارتقاء پذیر عمل ہے۔ اُس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے (الکہف ۱۳)۔ اس قانون الہی کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ الحق خير منی کی نفسیات میں جئیں اُن کی ہدایت میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے اور جو لوگ أنا خير منه کی نفسیات میں جئیں اُن کے لیے ہدایت کا دروازہ بند ہو جائے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی انسان سب کچھ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ سیکھنے کے عمل کے ذریعہ اٗس کو بار بار اپنے علم میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے حضرت عمر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: کان يتعلم من کل احد (وہ ہر ایک سے علم سیکھتے تھے)۔ یعنی اُن کا تجسس اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جب بھی کسی کی طرف سے کوئی قابل اخذ چیز سامنے آتی تو وہ بلا تاخیر اُس کو لے لیتے تھے۔ بمبئی کے حالیہ سفر میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کی ڈائری شوق سے پڑھتا ہوں اور بار بار پڑھتا ہوں۔ اس میں طرح طرح کی معلومات ملتی ہیں۔ مگر میں آپ کی کتابیں نہیں پڑھتا۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کتاب کو پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک بولے اور دوسرا سنے۔ کتاب کا مطالعہ یک طرفہ عمل ہے، وہ دو طرفہ عمل نہیں۔ میں نے کہا کہ مطالعہ کتاب کا یہ

(intellectual sharing) مطلب ہرگز نہیں۔ مطالعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک فکری حصہ داری یہ مکمل طور پر ایک دوطرفہ عمل ہے۔ البتہ صاحبِ مطالعہ ذہنی بیداری کے جس درجہ پر ہوگا اُسی کے بقدر وہ مطالعہ کے عمل میں حصہ دار بن سکے گا۔

میں اپنی ساری زندگی میں کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ مگر میرا مطالعہ ہمیشہ دوطرفہ عمل تھا، نہ کہ یک طرفہ عمل۔ مثلاً میں نے انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل کی کتابیں پڑھیں ۔ یہ کتابیں مصنف نے تشکیک اور الحاد پر لکھی تھیں۔ مگر دوطرفہ ذہنی عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ برٹرینڈ رسل کی کتابوں میں برعکس طور پر ایک نہایت اہم چیز دریافت ہوئی۔ اور وہ ہے اسلامی عقائد پر استدلال کا سائنسی انداز۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میری کتاب: مذہب اور سائنس۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک باشعور انسان کے لیے اُس کی پوری زندگی ایک تعلّمی عمل (learning process) ہے۔ ایسا آدمی اپنے مشاہدہ اور تجربہ اور مطالعہ کے دوران ہر چیز سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ وہ ہر چیز سے کچھ نہ کچھ لیتا ہے۔ ہر چیز اُس کے لیے اُس کی معرفت میں اضافہ کا سبب بنتی رہتی ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: الحكمة ضالة المومن حيث وجدها فهو احق (حکمت مومن کا کھویا ہوا سرمایہ ہے، وہ جہاں اُس کو پائے تو وہی اُس کا زیادہ حق دار ہے۔ تعلّم (learning) کے اس عمل کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ یہ کہ آدمی کے اندر روح تجسس (spirit of inquiry) اتنی زیادہ پائی جائے کہ وہ کبھی اور کسی حال میں اُس سے سیر نہ ہو سکے۔

اس معاملہ میں دوسری لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی عُجب اور خود پسندی کی نفسیات سے مکمل طور پر جب بھی کوئی اچھی بات اُس کے سامنے آئے تو وہ اُس کو کسی تر دّد کے بغیر فوراً اخذ کرلے۔ قرآن کے الفاظ میں، اخذته العزة بالاثم (البقرہ ۲۰۶) کا مصداق نہ بنے۔

عام طور پر لوگوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ کوئی حقیقت اگر انسان کے سوا کسی اور ذریعہ سے آئے تو وہ اُس کو مان لیتے ہیں، اُس کو ماننے میں کوئی چیز اُن کے لیے رُکا وَٹ نہیں بنتی۔ لیکن جب اپنے

جیسے ایک انسان کے ذریعہ کوئی ایسی حقیقت اُن کے سامنے آئے جس کو وہ پہلے سے نہ جانتے ہوں تو اُس کو ماننا اُن کے لیے سخت دشوار ہو جاتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس نفسیات کا شکار ہو جاتے بیس کہ اگر میں نے اس کی بات مان لی تو میرا قد اُس کے مقابلہ میں چھوٹا ہو جائے گا۔ اُن کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے، خواہ اس حق کو کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے بیان کیا گیا ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ اعتراف علم کا دروازہ ہے۔ اعتراف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اُس کے اخذ کا عمل کبھی نہ رُکے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء کسی روک کے بغیر مسلسل جاری رہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میری ملاقات کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جس کو میں بیس سال یا چالیس سال پہلے جانتا تھا۔ اب لمبے وقفہ کے بعد اُس سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ہمیشہ پایا کہ وہ آدمی آج بھی وہیں ہے جہاں وہ پہلے تھا۔ ان میں سے اکثر اس مدت میں مادی اعتبار سے کافی ترقی کر چکے ہوتے ہیں مگر فکری اعتبار سے وہ اب بھی وہیں ہوتے ہیں جہاں وہ ہیں سال یا چالیس سال پہلے تھے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ مادی کمائی کے میدان میں تو انہوں نے اپنے ذہن کو خوب لگایا مگر فکری ترقی کے میدان میں وہ اپنے ذہن کو استعمال کرنے سے عاجز رہے۔

قرآن میں پیغمبر کے چار خاص کام بتائے گئے ہیں— تلاوت آیات، تعلیم کتاب، تعلیم حکمت اور تزکیہ (البقرہ ۱۲۹) تلاوت آیات کا مطلب ہے، نازل شدہ قرآن کو لوگوں تک پہنچانا۔ سے مراد تفصیلی قوانین کی تعلیم ہے۔ تعلیم حکمت سے مراد ہے، قرآن کی تعلیمات میں چھپی ہوئی وزڈم (wisdom) کو کھولنا۔

تزکیہ کو عام طور پر پر اسرار معنوں میں لیا جاتا ہے اور اُس کو تطہیر نفوس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس تشریح سے تزکیہ کی پوری معنویت واضح نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک تزکیہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ذہنی ارتقاء کہا جاتا ہے۔ پیغمبر کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ وہ ہر فرد کے ذہن کو بیدار کرے۔ وہ لوگوں کے اندر معرفت کا عمل جاری کرے۔ وہ لوگوں کو اس قابل بنائے کہ وہ

اپنی فکری قوتوں کو بیدار کر کے اپنی شخصیت کو ارتقاء یافتہ شخصیت بنائیں۔

ایک بیدار ذہن یہ کرتا ہے کہ مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے ذریعہ جو چیزیں اُس کے سامنے آتی ہیں اُن کو وہ تدبر اور توسّم کے ذریعہ معرفت حق میں ڈھالتا رہتا ہے۔ یہی تزکیہ نفس ہے اور پیغمبر کی سنت کے مطابق ، علماء کو یہ کرنا ہے کہ وہ خود اس معرفت کے حامل بنیں اور دوسروں کو اسی مفہوم میں صاحب معرفت بننے کی مدد کریں۔

تزکیہ نفس کا کوئی تعلق صوفیا کی ”روحانی‘‘ مشقوں سے نہیں ہے۔ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ فکر یعنی آدمی کے ذہن کو کنفیوژن سے نکال کر اُس کے اندر سد اد فکر پیدا کرنا۔ تحلیل و تجزیہ کی صلاحیت پیدا کر کے اُس کو اس قابل بنانا کہ وہ معاملات میں صحیح رائے تک پہنچ سکے۔ اُس کے ذہن کو اس طرح کھولنا کہ وہ اعلی حقائق کی گرفت کے قابل ہو جائے۔ اُس کے اندر اشیاء کی وہ معرفت پیدا کرنا کہ وہ حق کو ہر صورت میں اور ہر حال میں پہچان لے۔ اُس کے اندر وہ بلند فکری پیدا کرنا جو ہر بھٹکاؤ سے اوپر اٹھ کر چیزوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔

آخر میں عرض ہے کہ علم یا معرفت کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط تواضع کسی آدمی کے اندر ساری صلاحیت ہو مگر اُس کے اندر سچی تواضع نہ ہو تو وہ کبھی علم و معرفت کا اعلی درجہ نہیں پاسکتا۔ علم صرف اُس سینہ کے اندر جگہ پاتا ہے جو کبر اور انانیت اور خود پسندی جیسے جذبات سے پاک ہو۔ حقیقی علم دنیا میں خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کی معرفت کسی کو تواضع کے بغیر نہیں اسی طرح کسی شخص کو علم صرف اُس وقت ملتا ہے جب کہ وہ اپنے اندر حقیقی معنوں میں تواضع پیدا کر چکا ہو۔ کبر اور علم دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

Printed page