تشدد کا اسلامائزیشن
Al-Risala, February 2002, pp. 6–8
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پہلے انسان حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے ایک ذاتی سبب سے اپنے بھائی ہابیل کا مار ڈالا۔ اس کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اس سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے انسانوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے۔ اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ خدائی شریعت میں انسان کو قتل کرنا ہمیشہ سے ایک بدترین جرم قرار دیا گیا مگر انسان اپنی سرکشی کی بنا پر ہر زمانہ میں اس کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں قدیم و جدید کے درمیان ایک فرق پایا جاتا ہے۔ قدیم انسان یا تو ذاتی مفاد کے لئے کسی کو قتل کرتا تھا یا انتقام کے لیے۔ اس لئے قدیم زمانہ میں قتل کا معاملہ ایک حد کے اندر رہتا تھا۔ وہ لامحدود سفاکی کے درجہ کو نہیں پہنچتا تھا۔
موجودہ زمانہ میں قتل انسان کی ایک نئی صورت ظہور میں آئی ہے۔ اس کو نظریاتی قتل کہا جاسکتا یعنی ایک نظریہ بنا کر لوگوں کو قتل کرنا، نظریاتی جواز (ideological justification) کے تحت انسانوں کا خون بہانا۔ مبنی بر نظریہ قتل کے اس تصور نے انسان کے لیے ممکن بنا دیا کہ وہ قصوروار اور بے قصور کے فرق کو ملحوظ رکھے بغیر اندھا دھند لوگوں کو قتل کرنے، اس کے باوجود اس کے ضمیر میں کوئی خلش پیدا نہ ہو۔ کیوں کہ اپنے مفروضہ عقیدے کے مطابق وہ سمجھتا ہے کہ وہ حق کے لیے لوگوں کو قتل کر رہا ہے۔ نظریاتی قتل کے اس طریقہ کو بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونسٹوں نے ایجاد کیا۔ لوگ کمیوزم کے فلسفہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) میں عقیدہ رکھتے تھے۔ عقیدہ کے مطابق، انقلاب صرف اس طرح آ سکتا تھا کہ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو متشددانہ طور پر مٹا
اس عقیدے کے تحت ان لوگوں نے مختلف ملکوں میں پچاس ملین سے زیادہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
نظریاتی قتل کی دوسری بھیانک مثال وہ ہے جو مسلم دنیا میں ظہور میں آئی۔ کے نصف اول میں اس انتہا پسندانہ نظریہ کو فروغ حاصل ہوا۔ اس نظریہ کو وضع کرنے اور پھیلانے میں موجودہ زمانہ کی دو مسلم جماعتیں خاص طور پر ذمہ دار ہیں ـــــــــ عرب دنیا میں الاخوان المسلمون، اور غیر عرب دنیا میں جماعت اسلامی۔
الاخوان المسلمون نے اپنے مخصوص نظریہ کے تحت یہ نعرہ اختیار کیا۔ : القرآن دستورنا والجہاد منهجنا ۔ یعنی قرآن ہمارا آئین ہے اور جہاد (مشددانہ طریق کار) کے ذریعہ ہمیں اس کو ساری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔ عرب دنیا میں یہ نعرہ اتنا مقبول ہوا کہ سڑکوں پر یہ نغمہ سنائی دینے لگا: هلم نقاتل هلم نقاتل فإن القتال سبيل الرشاد فلسطین سے لے کر افغانستان تک اور چیچنیا اور بوسنیا تک جہاں جہاں اسلامی جہاد کے نام پر تشدد کیا گیا وہ سب اسی نظریہ کا نتیجہ تھا۔
اسی طرح جماعت اسلامی نے یہ نظریہ بنایا کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں جو نظام رائج ہے وہ طاغوتی نظام ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس طاغوتی نظام کو مٹائے اور اس کی جگہ اسلامی نظام کو یہ کام اتنا ضروری ہے کہ اگر وہ فہمائش کے ذریعہ پورا نہ ہو تو اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تشدد کی طاقت کو استعمال کر کے اہل طاغوت سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلامی قانون کی حکومت ساری دنیا میں نافذ کر دیں۔ پاکستان اور کشمیر جیسے مقامات پر اسلام کے نام سے جو تشدد ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر اسی خود ساختہ نظریہ کا نتیجہ ہے۔
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء سے پہلے اور ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد دنیا کے مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے جو بھیانک تشدد ہوا یا ہو رہا ہے، وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر انہی دونوں نام نہاد انقلابی تحریکوں کا
ان دونوں جماعتوں کے بانیوں کی غلط فکری کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ انہوں نے جماعت اور اسٹیٹ کے فرق کو نہیں سمجھا۔ جو کام صرف ایک منظم اسٹیٹ کی ذمہ داری تھی اس کو انہوں نے اپنی بنائی ہوئی جماعت کی ذمہ داری سمجھ لیا۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، جہاد بمعنی قتال اور اجتماعی شریعت کا نفاذ جیسا کام مکمل طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان مقاصد کے لیے جماعت بنا کر ہنگامہ آرائی کرنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔
اسلام میں جماعت کے جو حدود کار ہیں وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت میں ارشاد ہوا ہے: اور چاہیے کہ تم میں ایک جماعت ہو جو خیر کی طرف بلائے اور معروف کا حکم کرے اور منکر سے منع کرے، یہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں (آل عمران ۱۰۴) اس قرآنی ارشاد کے مطابق، غیر اہل حکومت کے لئے جماعت بنانا صرف دو مقصد کے لئے جائز ہے۔ ایک، پُر امن دعوت خیر، اور دوسرے، پُر امن نصیحت اور تلقین۔ دعوت خیر سے مراد غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور امر بالمعروف، نہی عن المنکر سے مراد مسلمانوں کے اندر نا صحانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنا اس کے علاوہ سیاسی ہنگامہ آرائی کے لئے جماعت بنانا سراسر بدعت اور ضلالت ہے جس کا کوئی جواز اسلام میں نہیں۔ نیز واضح ہو کہ قرآن میں جماعت سے مراد گروہ ہے، نہ کہ پارٹی۔ الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے بانیوں نے جو خود ساختہ نظریہ سازی کی وہ شریعت کے بھی خلاف تھی اور فطرت کے بھی خلاف۔ اس قسم کی غیر فطری نظریہ سازی ہمیشہ تشدد سے شروع ہوتی ہے اور منافقت پر ختم ہوتی ہے۔ لوگوں کے ذہن میں جب تک اپنے رومانی تصورات کا جنون ہوتا ہے وہ اپنے مفروضہ انقلاب کے لئے اتنے دیوانے ہو جاتے ہیں کہ استشہاد کے نام پر خود کش بمباری کو بھی جائز قرار دے لیتے ہیں۔ مگر جب حقائق کی چٹان ان کے جنون کو ٹھنڈا کر دیتی ہے تو اس کے بعد وہ منافقانہ روش اختیار کر لیتے ہیں۔ یعنی فکری اور اعتقادی اعتبار سے بدستور اپنے سابق نظریہ کو ماننا، مگر عملی اعتبار سے مکمل ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کر کے اپنے دنیوی مفادات کو محفوظ کر لینا۔