Al-Risala · February 2002

افغانستان کا سبق

Al-Risala, February 2002, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا کہ مجھے ایک لاکھ افغانی جوان مل جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر مگر آج انہی افغانی جوانوں نے بالکل برعکس کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کو تباہ کیا بلکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو رسوا کرنے کا سبب بن گئے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں افغانوں کے ذریعہ مسلم دنیا کو جس المناک صورت حال کا تجربہ پیش آیا ہے وہ پچھلے چودہ سو سال میں انہیں کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ اس کا راز کیا ہے۔ اس المیہ کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان نا اہل رہنماؤں پر ہے جنہوں نے افغانیوں کو جوش کی غذا تو دی مگر وہ انہیں ہوش کی خوراک نہ دے انہوں نے افغانیوں کو جہاد پر اکسایا مگر وہ ان کے اندر صبر کی اسپرٹ پیدا نہ کر سکے۔ شریعت اور عقل دونوں بتاتے ہیں کہ جہاد صرف اس وقت تعمیر بنتا ہے جب کہ اس کے ساتھ صبر شامل صبر کے بغیر جہاد صرف تخریب ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

افغانستان کی جدید نسل جن مسلم رہنماؤں سے خاص طور پر متاثر ہوئی، ان کے نام یہ ہیں سید جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال، سید قطب، آیت اللہ خمینی، ابوالاعلی مودودی، اور آخر میں ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن۔ ان تمام رہنماؤں کی مشترک کمی یہ تھی کہ وہ سب کے سب اپنے زمانہ کے منفی حالات کے ردعمل کے طور پر ابھرے۔ ان میں سے ہر ایک کی سوچ ردعمل کی نفسیات کے تحت بنی، نہ کہ مثبت فکر کے تحت۔ ان کی نفسیات کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے جہاد اور اقدام کی اہمیت کو تو سمجھا مگر وہ صبر اور مصالحت کی اہمیت کو دریافت نہ کر سکے۔ ان مسلم مفکرین نے اپنے اس ذہن کو افغان کی نئی نسلوں کی طرف انڈیل دیا۔ اسی نا اہل رہنمائی کا نتیجہ وہ بربادی ہے جو اکیسویں صدی میں حالیہ واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آئی۔

اس انتہا پسندانہ ذہن کا نتیجہ یہ تھا کہ افغانیوں نے لڑائی اور تشدد کو خیر مطلق کا درجہ دے دیا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نہیں جانا کہ روسی حملہ آوروں سے تو انہیں لڑنا ہے مگر جب روسی افغانستان سے

واپس چلے جائیں تو انہیں اپنے مذہبوں سے نہیں لڑنا ہے، خواہ ان کے ایک گروپ کو یکطرفہ طور پر اپنی بندوقوں کو ناکارہ کر دینا پڑے۔ انہیں باہمی اختلاف کو امن کے دائرہ میں رکھ کر حل کرنا ہے، اختلاف کو کسی بھی حال میں تشدد کے مرحلہ تک نہیں لے جانا ہے۔ افغانی معاشرہ پر کنٹرول کے بعد اسلامائزیشن کے عمل کو تعلیم و تربیت سے شروع کرنا ہے، نہ کہ کوڑامارنے اور پھانسی دینے سے۔ فلسطین کی لڑائی کو فلسطین کے دائرہ تک محدود رکھنا ہے، اس کو ہرگز امریکہ تک نہیں پہنچانا ہے۔ پڑوسی ملکوں سے مصالحانہ رشتہ قائم کرنا ہے، نہ کہ حریفانہ اور رقیبانہ رشتہ۔ افغانی لوگوں میں ان کے علماء اور مفکرین نے جہاد کا جذبہ ابھارا تھا مگر انہیں صبر کا سبق نہیں اسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ افغانیوں نے مذکورہ قسم کی بھیا نک غلطیاں کیں ۔ اور آخر میں رسوائی اور تباہی کے سوا ان کے حصہ میں کچھ اور نہ آیا۔

ایک بار میں ایک بڑی فیکٹری میں گیا۔ اس کا انجینئر مجھے فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ایک مقام پر لے گیا۔ یہاں ایک مشین تھی۔ اس کے ساتھ اس کے بیرونی حصہ میں ایک بڑا فلائنگ وہیل (flying wheel) لگا ہوا تھا۔ انجینئر نے ایک سوئچ دبائی۔ اس کے فوراً بعد فلائنگ وہیل پوری اسپیڈ کے ساتھ ایک سمت میں تیزی سے گھومنے لگا۔ پھر انجینئر نے دوسری سوئچ دبائی۔ بعد ایک سیکنڈ کے اندر فلائنگ وہیل اسی تیزی کے ساتھ برعکس سمت میں دوڑنے لگا۔ یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کے اندر یہ دوطرفہ صلاحیت ہو وہ آگے بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹنا جانتے ہوں۔ وہ جنگ کے ساتھ امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔ وہ اقدام کے ساتھ اقدام کی حدود سے واقف ہوں۔ وہ بولنے کے ساتھ چپ رہنے کو بھی کام سمجھتے ہوں۔ وہ نفرت کے ساتھ محبت کرنا بھی جانتے ہوں ۔ وہ امامت کے ساتھ اقتداء کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ مجاہد ہونے کے ساتھ صابر بھی ہوں۔ ایسے ہی لوگ دنیا میں کوئی حقیقی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ دو طرفہ صلاحیت نہ ہو وہ صرف تباہی کی مثالوں میں اضافہ کریں گے ۔ وہ حقیقی تعمیر کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔

Printed page