Al-Risala · February 2002

سوال و جواب

Al-Risala, February 2002, pp. 12–30

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کریم کو جناب نے کتاب الصبر فرمایا ہے۔ یہ قول ان کے مقابلے میں نہایت وزنی ہے جو اس کو کتاب الجہاد سمجھتے اور اسی انداز میں اس کو متعارف کراتے ہیں۔ جہاں تک حقیقت واقعہ کا تعلق ہے تو میرے نزدیک کتاب الجہاد کہنا اگر افراط ہے تو کتاب الصبر قرار دینا تفریط۔ لئے اگر ہمیں اس طرح کی کسی وضاحت کی واقعی ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اسے کتاب الاعتدال کہنا چاہئے اور اس کے نتیجہ میں جو مذہب وجود میں آتا ہے اسے مذہب اعتدال سے متعارف کرایا جا سکتا ہے (محمد عمران مظاہری، مدرسہ حسینیہ، اغوان پور، میرٹھ)

آپ نے صبر کو بہت محدود معنی میں لیا ہے اس لئے آپ نے ایسا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد خود صبر ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اہل ایمان کو سو میں ننانوے بار صبر کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جہاد کا موقع آتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایمان کے تقاضوں پر زندگی گزارنے کے لئے صبر لازمی مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے بھی صبر درکار ہے۔ کیوں کہ اگر آپ کھوئے ہوئے پر صبر نہ کریں تو ملے ہوئے پر حقیقی جذبہ شکر کا اظہار آپ کی زبان سے نہیں ہو سکتا۔ دعوت کے لئے صبر لازمی کیوں کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کئے بغیر آپ سچے داعی نہیں بن سکتے۔ نماز بھی آپ خشوع کے ساتھ صرف اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ آپ دنیوی تقاضوں پر صبر کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ہوں۔ انفاق بھی آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جب کہ آپ مال کی محبت کے جذبات پر صبر کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح حج مبرور بھی اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ سفر حج کے دوران پیش آنے والے مکارہ پر صبر کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی اخلاق کے اصولوں پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر صبر کیا جائے۔

یہی معاملہ خود جہاد کا ہے۔ جہاد کا آغاز دوسروں کے خلاف قتال سے نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے نفس پر کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کی قابل شکایت باتوں پر صبر کرتے

ہوئے اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرتا ہے۔ مومن دوسروں کی زیادتیوں پر صبر کرتے ہوئے اس کو دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔ مومن دوسروں کے جارحانہ عزائم کو یک طرفہ اعراض کے ذریعہ بے اثر بناتا رہتا ہے۔ اور اگر بالفرض جنگ کی نوبت آجائے تب بھی مومن یہ کرتا ہے کہ وہ صرف حملہ آوروں پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو پھر بھی مومن اپنی زد سے محفوظ رکھتا ہے۔ مومن اپنے منفی جذبات کو یکطرفہ طور پر دبا کر غیر حملہ آور کو نقصان پہنچانے سے بچتا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کے باوجود جو جہاد کیا جائے وہی دراصل اسلامی جہاد ہے۔ جہاد خود ایک صابرانہ عمل ہے، نہ کہ غیر صابرانہ عمل۔ جہاد بمعنی قتال ایک استثنائی حکم ہے اور صبر ایک عمومی حکم۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا عنوان بحث عموم کے اعتبار سے متعین کیا جائے گا، نہ کہ استثناء کے اعتبار سے۔

الرساله جولائی ۲۰۰۱ء کے صفحہ ۳۳ تا ۳۵ میں آپ نے اکبر کی خود ساختہ پالیسی کو تالیف قلب کی گہری پالیسی قرار دیا ہے۔ اور اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ اکبر نے اسے اسلام کی اشاعت میں برہمنوں کے ذریعہ پیدا کی گئی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ لیکن اس متنازع فیہ واقعہ کو آپ نے قرآن وسنت سے مدلل کرنے کے بجائے محض مولاناسید حسین احمد مدنی کی "مجتہدانہ نظر" سے مدلل کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ ہمارے نزدیک اکبر کا یہ اقدام اپنے سیاسی انٹرسٹ کی خاطر تھا، نہ کہ اسلام آپ کی اس بحث سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر مسلمان (یا کوئی مسلم حکومت) خالص مصلحتاً ہندوؤں یا غیروں کی چند بے ضرر رسومات کو اپنے یہاں رائج کر لیں تو یہ عین دین کی خدمت ہوگی۔ بالفاظ دیگر غیروں کی طرح مخصوص وضع قطع اختیار کرنا، دیوالی میں قندیلیں جلانا، ہولی میں رنگوں سے کھیلنا، کسی اچھے کام کا آغاز ناریل توڑ کر کرنا، وغیرہ جیسی بے ضرر رسمیں ، نہ صرف مسلمانوں کے لئے وقتی طور پر جائز ہو جاتی ہیں بلکہ وہ ضروری ہو جاتی ہیں۔ (محمد اقبال انجینئر، ایم اے صدیقی، فاروق فیصل، محمد رفیع چوگلے، ممبئی)

تالیف قلب دعوت اسلامی کا ایک مستقل اصول ہے۔ یعنی محدود دائرے میں مدعو کی وقتی رعایت کرنا جس سے وہ اسلام کی طرف مائل ہو سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اس کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً ہجرت کے بعد آپ نے ۱۶۔ ۱۷ مہینے تک یہودیوں کے قبلہ کو اپنا قبلہ عبادت اس کا سبب یہی تالیف قلب کا حکم تھا (تفسیر القرطبی ۲ صفحہ ۱۵۰) اکبر کا مذکورہ عمل اسی تالیف قلب کی بنا پر تھا۔ نیز یہ کہ اس معاملہ میں اکبر تنہا نہیں۔ کے صوفیاء نے اسی تالیف قلب کے اصول کے تحت کئی طریقے اپنی خانقاہوں میں رائج کئے ۔ فائدہ یہ ہوا کہ ملک کے لاکھوں باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔

اکبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اگر بالفرض اس کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کی توسیع و اشاعت سے اس کی سلطنت کو استحکام حاصل ہوگا، تب بھی اس کا فعل قابل ملامت نہیں۔ اگر بالفرض ایسا ہو تو ہم صرف یہ کریں گے کہ اکبر کے فعل کو اس حدیث رسول کا مصداق قرار دیں گے : ان الله ليؤيد هذا الدين

الرسالہ کے مذکورہ شمارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان ہندوؤں کے رسوم کو اپنی زندگی میں اختیار کر لیں۔ یہ مکمل طور پر ایک دعوتی بات ہے۔ اس کا تعلق صرف دعوتی مصالح سے ہے۔ کلچرل سمجھوتہ کا میں ہرگز مبلغ نہیں ہوں۔ میں صرف دعوتی مقصد کے لئے تالیف قلب کی بات کرتا ہوں۔ تالیف قلب بلاشبہ اسلام کا ایک مسلم اصول ہے۔ ہندوستان کے صوفیاء نے اس کو بڑے پیمانہ پر اختیار کیا۔ صوفیاء کی دعوتی کامیابی کا خاص سبب ان کی یہی پالیسی تھی۔ میں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔ کشمیر میں میں نے ایک سرکاری سروس کے لئے درخواست دی تھی۔ میں اس کے لئے کوالیفائڈ تھا مگر مجھ کو نہیں لیا گیا۔ اب یہاں کے لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر کے سیاسی حالات نہیں بدلیں گے ہمارے ساتھ نا انصافی ہوتی رہے گی۔ ہم کو لڑ کر

اپنے حقوق لینا ہے۔ کشمیر سے غیر مسلم غلبہ کو ختم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی ہم کو اپنے حقوق مل سکتے ہیں۔ (ایک کشمیری نوجوان، اننت ناگ)

یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ آپ کے ساتھی جو کشمیر چاہتے ہیں وہ انہیں بروقت ہی’’ آزاد کشمیر‘‘ میں مل چکا ہے۔ پھر آزاد کشمیر کے ہزاروں مسلمان کیوں وہاں سے نکل کر برطانیہ اور امریکہ میں چلے گئے اور وہاں غیر مسلم سیاسی غلبہ کے تحت پر سکون طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح آپ لوگ جو مسلم حکومت چاہتے ہیں وہ زیادہ بڑے پیمانہ پر پاکستان میں عملاً حاصل ہو چکی ہے۔ پھر پاکستان کے لاکھوں مسلمان کیوں امریکہ اور یورپ میں جا کر غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہرے معیار کی اسی پالیسی نے اس پورے علاقہ کے مسلمانوں کو اللہ کی نظر میں بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس قسم کی ڈبل پالیسی سے اس دنیا میں کسی کو ذلت تو مل سکتی ہے مگر اس کو کبھی عزت نہیں ملے گی۔ جہاں تک آپ کے ذاتی مسئلہ کا تعلق ہے تو اس قسم کی وقتی ناکامی موجودہ دنیا میں فطرت کے قانون کے تحت ہوتی ہے، نہ کہ کسی کے تعصب کے تحت۔ اس دنیا میں ہر ایک کے ساتھ اور ہر ملک میں ناموافق حالات پیش آتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ہر گوند کھورانہ کو لیاقت کے باوجود دہلی یونیورسٹی میں سروس نہیں ملی۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ناموافق حالات سے مایوس نہ ہو اور بہتر مستقبل کی طرف اپنا حوصلہ مندانہ سفر جاری رکھے۔ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ جہاں تک لڑ کر حقوق لینے کی بات ہے، وہ سراسر بے معنی ہے۔ حقائق کی اس دنیا میں کسی کو بھی لڑ کر اپنے حقوق نہیں ملتے۔ اس دنیا میں جب بھی کسی کو اس کے حقوق ملتے ہیں تو وہ پر امن تعمیری جدوجہد کے ذریعہ ملتے ہیں۔ پاکستان میں مہاجرین نے لڑ کر اپنے حقوق لینا چاہے مگر آخر میں انہیں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔

الرسالہ ماہ ستمبر ۲۰۰۱ میں ایک خط کے جواب میں آپ نے حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کتاب

الزہد کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ زمین میں چار انگل جگہ بھی نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے لئے سجدہ کی حالت میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا میں زمین پر انسانوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں، گندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اس حالت میں فرشتے کس شکل میں اپنی پیشانی سجدہ کی حالت میں اللہ کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ تفصیل سے مستفید فرمائیں (ابرار حسین قریشی، دھار، مدھیہ پردیش)

اس حدیث میں ”سجدہ“ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک تعبیر ہے۔ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ ساری دنیا میں اللہ کے فرشتے کثرت سے موجود ہیں اور وہ ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں سرگرم اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو چاہئے کہ وہ خود اپنے بارے میں سوچے، نہ کہ فرشتوں کے وہ فرشتوں کے ”سجدہ“ سے زیادہ خود اپنے سجدے کے لئے فکر مند ہو جائے۔ آپ ایک عالم دین ہیں۔ آپ کو ہر سوال کا جواب دینا چاہئے۔ اگر جواب نہیں دیتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے اس شخص کو اسلام کی باتیں نہیں بتائیں جو آپ سے سوال کر کے جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن کیا میں خدا سے عرض نہیں کروں گا کہ مجھے علم نہیں تھا اور میں نے ان سے علم مانگا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور، مونگیر، بہار) علم کے حصول کا ذریعہ سوال و جواب نہیں ہے۔ بلکہ مطالعہ ہے یا اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا۔ جو بات ذہن میں آ جائے ، اس کو سوال بنانا اور اس پر لمبے لمبے خطوط لکھنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ یہ بھی اسلام کا طریقہ نہیں کہ کوئی شخص اس قسم کا ایک مضمون استفتاء کے لیے بنائے کہ الرسالہ کو پڑھنا جائز ہے یا نا جائز اور پھر مفتی صاحبان اس پر ”الجواب صحیح“ کی مہر کے ساتھ تفصیلی جواب دینا شروع اس قسم کا سوال پوچھنا بھی اسلامی روح کے خلاف ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسلامی

روح کے خلاف۔ چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں: و كان ينهى عن قيل و كثرة السؤال (صحیح البخاری، کتاب الرقاق)

کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف بہو کو نقطہ نظر بنایا جاتا ہے۔ یہاں چھ گھر ساس بہو کا میں نے کچھ الگ دیکھا۔ ایسا کیوں ہے کہ گھر کے سارے جھگڑے کی وجہ بہو کو مانا جاتا کیا سسرال میں بہو کو دامی کی طرح رہنا چاہئے جو یک طرفہ نا خوش گواریوں کو برداشت (صوفیا حیدر، بتیا، بہار)

شرعی اعتبار سے ساس اور بہو دونوں کی ذمہ داری بالکل یکساں ہے۔ ساس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہو کو وہی عزت اور محبت دے جو وہ اپنی بیٹی کا حق سمجھتی ہے۔ اسی طرح بہو کا فرض ہے کہ وہ ساس کے ساتھ اسی عزت اور محبت کا معاملہ کرے جو وہ اپنی ماں کے لئے کرتی رہی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں میں سے جو بھی کوتاہی کرے گا وہ یقینی طور پر اس کے لیے آخرت میں پکڑا جائے گا۔ سے کوئی بھی آخرت کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہر گھر کو امتحان کا مقام بنا دیا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لئے امتحان کا پرچہ ہیں۔ اسی طرح ساس اور بہو دونوں ایک دوسرے کے لئے امتحان کا پرچہ ہیں۔ امتحان اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس میں کوتاہی کی تلافی نماز روزہ کے ذریعہ بھی نہیں ہو سکتی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کی تسبیح اور اس کا ذکر کر ہر چیز خدا کے ذکر میں مشغول ہے۔ یہاں دنیا میں ایسی بھی چیزیں ہیں جو گندگی کی حالت میں ہوتی ہیں تو کیا وہ بھی ذکر کر رہی ہیں۔ قرآن کی ان باتوں کا اصل مفہوم کیا ہے۔ براہ کرم وضاحت (خورشید احمد کمار، شوپیان، کشمیر)

مذکورہ قسم کی قرآنی آیتوں میں جو ذکر بتایا گیا ہے اس سے مراد ذکر قولی نہیں ہے بلکہ ذکر حالی یعنی ان کا وجود اللہ کی قدرت کو بیان کر رہا ہے۔ مثلا سورج ہم کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے۔ اس روشنی اور حرارت میں انسان کے لئے مفید پہلو بھی ہے اور مضر پہلو بھی۔ مگر فطرت کے مخصوص نظام کے تحت انسان کو سورج کا صرف مفید پہلو پہنچتا ہے، اس کے مضر پہلو سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ معاملہ دنیا کی دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، مذہب اور جدید چیلنج) جن چیزوں کو آپ گندی چیزیں کہہ رہے ہیں ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مثلا زمین پر جب بھی کہیں کوئی گندی چیز ظاہر ہوتی ہے، جیسے جانور کا بول و براز، تو فورا ہی وہاں لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا اور کیڑے جمع ہو جاتے ہیں جوڈی کمپوز (de-compose) کر کے اس کو فضا میں تحلیل کر دیتے ہیں۔ اگر فطرت کا یہ نظام نہ ہو تو موجودہ زمین پر انسان کے لئے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لئے عبرت اور نصیحت بن سکیں ۔ اس دنیا کی ہر چیز، خواہ وہ پھول ہو یا کانٹا، انسان کو کوئی نہ کوئی اعلیٰ پیغام دے رہی ہے۔ مثلا درخت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم یکطرفہ طور پر، دوسرے انسانوں کے لئے نفع بخش بنو۔ حتی کہ ان چیزوں میں بھی گہرا سبق ہے جن کو آپ گندی چیز سمجھ رہے مثلا یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی نادانی سے گندگی کرے تو تم اس کو مزید بکھیرنے والے نہ بنو بلکہ پہلی فرصت میں اس کو صاف کرنے کی کوشش کرو۔ تمہارا کام لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالنا ہونا چاہئے، نہ کہ اس کی تشہیر کر کے لوگوں کو بدنام کرنا۔

آپ کے مشن سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمانوں کو صالح بنانے سے پہلے غیر مسلموں کو کس طرح دعوت دی جائے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔

الرساله اردو کا مطلب چند دن پہلے ایک صاحب کے ذریعہ معلوم ہوا، یعنی سب سے اچھا مجھ کو تعجب اس بات پر کہ جو شخص اپنے آپ کو اچھا کہے وہی تو سب سے زیادہ برا ہوتا ہے۔ پھر بھی آپ نے عالم ہونے کے باوجود اتنا فخر والا نام کس طرح رکھ لیا۔ اس کی وضاحت کریں۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)

پہلے سوال کا جواب الرسالہ میں شائع ہو چکا ہے۔ عرض یہ ہے کہ غیر مسلموں کو جو دعوت دینی ہے وہ مسلمانوں کی صالحیت کی طرف نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف ہے۔ چنانچہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دعوت وتبلیغ کے لیے مسلمانوں کا اصلاح یافتہ ہونا شرط نہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۸۵۔

دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ الرسالہ کا مطلب سب سے اچھا رسالہ نہیں ہے۔ رسالہ کے لئے عربی زبان میں مجلہ یا جریدہ کا لفظ آتا ہے۔ رسالہ کا معنی عربی زبان میں پیغام (message) کے ہیں۔ الرسالہ کا مطلب پیغام (The message) ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ جن صاحب نے آپ سے مذکورہ بات کہی، ان کو بتائیے کہ اس طرح کی بات تنقید نہیں ہے بلکہ غلط الزام ہے۔ اسلام میں تنقید کرنا جائز ہے مگر غلط الزام لگانا یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔ اسلام چونکہ ایک دین فطرت ہے۔ اور رب العزت نے اس کو انسان کی طبیعت کے عین مطابق بنایا ہے۔ یہ دین باقی ماندہ ادیان پر غالب ہے۔ آپ متشددانہ طرز عمل کے خلاف ہیں۔ حالت میں چوری کرنے والے یا شراب پینے والے کو شرعی سزا کیسے دی جائے گی۔ (محمد ادریس ٹاک، کشمیر، پن 192303)

اسلام بلا شبہ دین فطرت ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ادیان خلاف فطرت تھے۔

اصل یہ ہے کہ اللہ کا بھیجا ہوا ہر دین فطرت کے مطابق ہی تھا مگر بعد کی تحریفات نے اس کو بدل دیا۔ اسلام اور دوسرے آسمانی مذاہب میں جو فرق ہے وہ افضل اور غیر افضل کا نہیں ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ پچھلے آسمانی مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر غیر مستند ہو گئے۔ جب کہ اسلام آج بھی اپنی ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ مجرم کو شرعی سزا دینا عوام کا کام نہیں۔ یہ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے جو حالات پر کنٹرول عوام کے لئے پر امن تبلیغ واصلاح ہے، نہ کہ شرعی قوانین کو طاقت کے ذریعہ نافذ کرنا۔ موجودہ زمانہ میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ ٹینشن (ذہنی تناؤ) میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس مسئلہ کو لے کر لوگ نفسیاتی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حال میں مجھے ایک تجربہ ہوا۔ صاحب جو ٹینشن کی کیفیت میں مبتلا تھے وہ ایک نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ایک ہزار روپیہ خرچ کرنے کے بعد انہیں جو مشورہ ملا وہ یہ تھا کہ تم اپنے مذہب کے مطابق ، عبادت کیا کرو۔ مریض نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سے عبادت کرتا ہوں۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ قرآن کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں (نازش اعظمی ، دہلی)

نفسیاتی ڈاکٹروں کی سوچ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہ مریض کو ایسی ترکیب بتائیں جو ٹینشن کو ختم کرنے والی ہو۔ میرے نزدیک یہ نظریہ بذات خود غلط ہے۔ کیوں کہ ٹینشن خود نظام فطرت کی پیدا وار ہے۔ اور جو چیز نظام فطرت کی پیدا وار ہو اس کو آپ کسی بھی تدبیر سے ختم نہیں کر سکتے۔ فطرت میں شامل ہو اس کو قبول کرنا مسئلہ کا حل ہے، نہ کہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو کبد یا مشقت میں پیدا کیا ہے (البلد ۴) یہ ایک عام انسانی تجربہ ہے کہ زندگی مشقتوں سے خالی نہیں۔ علمی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے۔ نفسیات نمیلُو (Nemilov) نے اپنی کتاب عورت کا المیہ (Biological Tragedy of Woman) میں بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ ناقابل تصور ہے کہ انسانی زندگی المیہ سے خالی ہو:

مشقت جب خود فطرت کے قانون کے مطابق، انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے تو ہمیں اس کو مان کر اس کا حل تلاش کرنا چاہئے، نہ کہ اس کا انکار کر کے۔ برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو انسانی آبادیوں کے لئے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مگر کوئی شخص یہ نہیں سوچتا کہ وہ برسات کی بارش کو روکے۔ بلکہ ہر شخص یہ سوچتا ہے کہ بارش کے باوجود وہ کس طرح اپنے بچاؤ کی تدبیر کرے۔

یہی طریقہ ہم کو ٹینشن (ذہنی تناؤ) کے مسئلہ کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔ ہم ٹینشن کو ختم نہیں البتہ ہم ٹینشن کو بطور واقعہ مان لیں تو یقینی طور پر ہم اپنے آپ کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکتے یہی اس مسئلہ کا فطری حل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹینشن سے خالی زندگی گزارنے کے لئے واحد کامیاب فارمولا یہ ہے کہ ٹینشن کو انسانی زندگی کے ایک لازمی حصہ کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ The only successful formula for a tension-free-life is to accept the tension as an essential part of human life. واقعہ یہ ہے کہ میرا مسئلہ وہی ہے جو بہت سی مسلم لڑکیوں کا مسئلہ ہے۔ اور وہ میری شادی کا میری ماں آج کل پریشانی میں ہیں ورنہ وہ خود آپ سے رابطہ قائم کرتیں۔ میرے رشتہ کے لیے بہت سے پیغامات آئے۔ ان میں سے کوئی رشتہ میرے والدین کو پسند نہ آسکا۔ میں اللہ پر بہت یقین رکھتی ہوں۔ مگر جب میں اپنے والدین کو پریشان دیکھتی ہوں تو میں اپنا اعتماد کھودیتی ہوں۔ عمر ۲۰ سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں اور میں نے کمپیوٹر کی ٹریننگ لی ہے۔ آج کل میں ایک اسلامک ویب سائٹ پر کام کر رہی ہوں۔ میری گزارش ہے کہ آپ مجھے کچھ دعا بتائیں اور مشورہ دیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہر ایک کے نکاح کا ایک مقرر وقت ہے۔ اللہ کی رحمت سے میں اپنے کام میں کامیاب ہوں۔ (ایک پاکستانی خاتون، انٹرنیٹ سے ترجمہ)

مذکورہ قسم کا مسئلہ بہت سی مسلم لڑکیوں کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں اصل غلطی والدین کی ہے۔ والدین عام طور پر اپنی بیٹی کے لئے ایک آئیڈیل لڑکے کی تلاش میں یہ تلاش اکثر برعکس نتیجہ کا سبب بنتی ہے۔ والدین اپنے جذبہ محبت کے تحت یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ دنیا میں نہ کوئی آئیڈیل لڑکا ہے اور نہ کوئی آئیڈیل لڑکی۔ ایسی حالت میں صحیح بات یہ ہے کہ آئیڈیل کو چھوڑ کر پریکٹیکل کے اصول پر عمل کیا جائے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ شادی کی کامیابی کا انحصار اس پر نہیں ہے کہ والدین کو اپنی پسند کا لڑکا یا لڑکی مل شادی کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں زندگی کی حقیقتوں سے آشنا ہوں اور حقائق کی بنیاد پر، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر باہمی زندگی کی تعمیر کریں۔ ایسی حالت میں والدین کے لیے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو زندگی کے عملی حقائق سے باخبر کریں۔ وہ انہیں تیار کریں کہ وہ شادی کے بعد تحمل اور دانش مندی کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں۔ اور ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہوئے زندگی کی جدوجہد کریں۔ اگر لڑکے اور لڑکی میں اس قسم کا شعور حیات موجود ہو تو یقینی طور پر وہ کامیاب زندگی حاصل کر لیں گے، خواہ شادی کے وقت بظاہر ان کی معاشی حالت زیادہ بہتر نہ ہو۔ مذکورہ قسم کی صورت میں والدین کے لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ وہ لڑکی کی رضامندی لے کر اور اللہ کے بھروسہ پر بلا تاخیر نکاح کا معاملہ کر دیں۔ کامیاب زندگی کے معاملہ میں وہ اللہ پر بھروسہ کریں، نہ کہ اپنی سوچ اور تدبیر پر۔

نیشنل اور انٹرنیشنل مسائل میں آپ کا مثبت اپروچ بالکل درست ہے۔ ہم کو خوشی ہے کہ آپ جیسا ایک آدمی انڈیا میں موجود ہے بلکہ یہ پورے ایشیا کے لئے خوشی کی بات ہے۔ میرا شبہہ اور اندیشہ صرف یہ ہے کہ کیا مسلمان آنے والے زمانہ میں ہندوستان میں پر امن طور پر رہ سکتے ہیں۔ (عدنان کریمی، کالا ڈیرہ، مالک پیٹھ، حیدرآباد ۲۲)

مسلمان اس ملک میں تعمیری سوچ اور امن پسندی کے ساتھ رہیں گے یا نہیں، یہ اب مستقبل کا اس کا جواب خود حال کے اندر مل چکا ہے۔ اللہ کے فضل سے ہماری کوششوں کے نتیجہ میں اب یہاں کے مسلمان بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ وہ اعراض کا طریقہ اختیار کر چکے ہیں جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ فساد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ وہ مسائل کو نظر انداز کر کے مواقع کو استعمال کرنے کا فارمولا عملاً اپنا چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شہر اور بستی کے مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ دیکھنے کا مزاج ترک کر کے وطنی مزاج کے تحت جینا سیکھ گئے ہیں، جس کے نتیجہ میں یہاں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔ وہ احتجاج غیر کا طریقہ چھوڑ کر تعمیر خویش کے اصول کو اختیار کر چکے ہیں، جس کا مثبت نمونہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں لوگ اخبار اور میڈیا کے ذریعہ اپنی رائے بناتے ہیں۔ اپنے مخصوص مزاج کے تحت زیادہ منفی واقعات کو لیتا ہے، وہ مثبت واقعات کور پورٹ نہیں کرتا۔ لئے اس ہونے والے واقعہ سے لوگ ابھی پوری طرح باخبر نہیں۔ مگر جلد وہ وقت آئے گا جب کہ یہ واقعہ اتنا نمایاں ہو چکا ہوگا کہ لوگ اخباروں میں چھپے بغیر اس کو جانیں گے اور ٹی وی اسکرین پر دکھائے بغیر اس کو دیکھیں گے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں مسلم عوام میں بہت کم واقفیت ہے۔ اس کی کیا مسلمان کے لئے اس پر عمل کرنا واجب ہے یا فرض ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس کا اطلاق کس طرح سے کیا جا سکتا ہے۔ مہربانی کر کے الرسالہ میں اس کو بتائیں۔

محجوب کے بارے میں بھی معلومات صحیح نہیں ہیں۔ آپس میں اس کو لے کر غلط فہمیاں ہیں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ نا انصافی بھی ہو رہی ہے۔ عوام میں اس کو لے کر الجھن و تشویش ہے۔ میں بھی گزارش ہے کہ آپ ایک مضمون ضرور لکھیں۔ قرآن میں اس کا ذکر لوگ نہیں بتاتے لیکن کچھ علماء

نے اس کو صحیح بتایا ہے۔ کچھ نے اختلاف بھی کیا ہے (مہدی حسن، وارانسی)

مذکورہ دونوں مسئلہ کے بارے میں الرسالہ میں مضامین آچکے ہیں۔ دوسرے علماء نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس معاملہ میں اصل مسئلہ واقفیت کا نہیں ہے بلکہ عمل کے جذبہ کا ہے۔ مسلمانوں میں عمل کا جذبہ نہیں، اس لئے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کا آپ نے ذکر کیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعلق حکومت سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق افراد سے ہے۔ کی اصل یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ دوسرے مسلمان کا مددگار بننا چاہتا ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو انصاف اور دیانت کی روش پر دیکھنا اسی جذبہ کی مخلصانہ تعمیل کا نام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی نہیں، اس لیے ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل بھی جاری نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے لیے سچی خیر خواہی موجود ہو تو خود فطرت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل جاری ہو جائے، خواہ اس کے شرعی مسائل لوگوں کو بتائے گئے ہوں یا نہ بتائے گئے ہوں۔

محجوب پوتے کی وراثت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محجوب پوتے کو وراثت نہ دی جائے۔ مطلب صرف یہ ہے کہ محجوبیت کی بنا پر بظاہر جو وراثتی لنک ٹوٹ رہی ہے اس کو وصیت کے ذریعہ پورا کر دیا اگر کسی خاندان میں آپ ایسا نہ دیکھیں تو اس کا سبب شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کی سرکشی ہے۔ بہن کا حق شرعی طور پر معلوم اور مسلم ہے مگر بہت کم مسلمان ہیں جو بہن کو اس کا باقاعدہ شرعی حق دیتے ہوں۔ مجھے صوفی سنتوں کے جیون چرتر پڑھنے کا شوق ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تذکرۃ الاولیاء کا اردو میں ترجمہ جناب مولا نا قاری محمد عادل خان صاحب کا اس کتاب میں حضرت ذوالنون مصری کے حالات و مناقب میں آپ کا ایک ارشاد ہے۔

کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے اور قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ“ (79.p) اس ارشاد میں ”قلیل کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے“ تو سمجھ میں آگیا لیکن ”قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ ہے“ سمجھ میں نہیں آیا۔ براہ کرم اس پر روشنی ڈالنے کی مہربانی فرمائیں۔ (رام دیو، جی ایچ ۴/۹۷۲، چھتھم وہار، نئی دہلی، ۱۱۰۰۶۳)

جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس ملفوظ میں قلیل گناہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں لمم کہا گیا ہے (النجم ۳۲) اس سے مراد گناہ کرنا نہیں ہے بلکہ گناہ ہو جانا ہے۔ گناہ کبیرہ سرکشی کے تحت ہوتا ہے اور گناہ صغیرہ بشری تقاضہ کے تحت۔ جو آدمی گناہ کبیرہ سے بچنے کا اہتمام کرے اور بشری تقاضہ کے تحت اتفاقاً کبھی گناہ صغیرہ کا مرتکب ہو جائے تو ایسا شخص قابل معافی ہے، نیز تو بہ اور احساس گناہ کی صورت میں وہ انسان کی روحانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔

میں سوامی ویویکا نند کا پیرو ہوں۔ میں ان کی ایک کتاب آپ کو بھیج رہا ہوں۔ سوامی جی کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جانے کے الگ الگ راستے ہیں۔ چاہے وہ ہندو ازم ہو یا مسیحیت ہو یا اسلام ہو یا سکھ ازم ہو یا یہودیت ہو۔ میرے نزدیک اسی کا پر چار کیا جانا چاہئے تا کہ لوگوں کے اندر ایکتا پیدا ہو۔ (ڈی این ملہوترا، دلشاد گارڈن، دہلی)

وحدت ادیان کے اس تصور سے مجھے اتفاق نہیں۔ سچائی کبھی متعدد نہیں ہو سکتی۔ سچائی اگر ایک نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ وحدت ادیان کے اس نظریہ کے حق میں کوئی بھی منطقی دلیل موجود نہیں۔ نظریہ صرف تمثیلات کے اوپر قائم ہے اور تمثیل سے کبھی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ چنانچہ کہا گیا ہے: Anology is the weakest form of Argument. سچائی کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی کو یقین عطا کرے۔ دنیا میں جینے کے لئے آدمی کو یقین کا

سرمایہ درکار ہے اور سچائی آدمی کو یہی یقین دیتی ہے ۔ " میں نے سچائی کو پالیا " یہ یقین صرف کسی ایک چیز پر قائم ہو سکتا ہے ، نہ متعدد چیزوں پر۔

انسانی سماج میں ایکتا بلاشبہ ضروری ہے۔ مگر یہ ایکتا " میں بھی سچا تم بھی سچے " جیسے مصنوعی نظریے پر قائم نہیں ہو سکتی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ یہ ہے کہ اخلاقی تقاضہ کے تحت ہر ایک دوسرے کو قابلِ عزت سمجھے۔ میرے نزدیک مذہبی اتحاد کا درست فارمولا یہ ہے کہ ایک کی پیروی کرو، اور ہر ایک کی عزت کرو:

Follow one, and respect all. کیا دماغی صلاحیتیں خداداد ہوتی ہیں یا کسی۔ انسانی دماغ محدود ہے یا غیر محدود۔ انسان تمام علوم کو اپنے ذہن میں سمیٹ سکتا ہے۔ انسانی دماغ اصلاً ہے۔ برائے مہربانی آپ اپنے مطالعہ کی روشنی میں انسانی دماغ کی کارکردگی اور صلاحیتوں کے بارے میں ہم کو مطلع فرمائیں (محمد مجاہد الدین ، سکندر آباد)

انسانی دماغ ابھی تک ایک پر اسرار حقیقت ہے۔ پانچ ہزار سال کی تحقیق کے باوجود بھی تک انسانی دماغ کے بارے میں بہت کم معلوم کیا جا سکا ہے۔ میرے تجربہ اور مطالعہ کے مطابق، انسانی دماغ لامحدود صلاحیت کا خزانہ ہے۔ یہ دماغی صلاحیت ہر انسان کو تقریباً یکساں طور پر حاصل ہوتی مگر تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ اپنی ابتدائی حالت میں ایک خوابیدہ صلاحیت کی مانند ہے۔ اور تجربہ اس صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کا نظریہ بتاتا ہے کہ دماغی صلاحیت کو جگانے میں سب سے زیادہ دخل اس چیز کا ہے جس کو ذہنی جھٹکا کہا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ اتنا زیادہ نہ ہو کہ آدمی کی شخصیت کچل کر رہ جائے۔

تاہم میرے تجربہ کے مطابق، ذہنی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر

اعتراف کا مادہ ہو۔ وہ حقیقتوں کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے اور بغیر کسی تحفظ کے اس کو قبول کرلے۔ میں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو اعلیٰ ذہنی ترقی کے مرتبہ پر پہنچے ہوں۔ میرے نزدیک اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر بند ذہن کے ساتھ جیتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنے مانوس تصورات کے سوا کسی اور تصور کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کو اختیار کر پاتے ہیں۔

ہم نے بار بار پڑھا اور سنا ہے کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنم میں جائیں اب عملی زندگی میں دیکھا جائے کہ ہم رشوت نہ لیں یہ تو ہمارے بس کی بات ہے مگر رشوت نہ دیں تو ہمارا جینا مشکل ہو جائے گا۔ ہمارے گھروں میں بجلی اور پانی نہیں آئے گا۔ اب اگر رشوت دیتے ہیں تو خدا کے ڈر سے دل کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ سوال کا جواب تفصیل سے دیں تا کہ میرے علاوہ بہت سے لوگوں کو جانکاری ملے۔ ایسے سماج میں آخر آدمی کیسے جئے گا۔ (بشیر احمد کالو، کشمیر)

آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي (مسند احمد، جلد ۲، صفحه ۱۶۴) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: الراشی والمرتشى كلاهما في النار (رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں آگ میں جائیں گے)

رشوت لینے والے اور رشوت دینے والے کا حکم اس وقت یکساں ہے جب کہ رشوت دینے والا ایک ایسی چیز کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دے، جو شرعی اعتبار سے اس کا حق نہیں۔ اسی طرح رشوت لینے والا جو اپنی خدمت کے لئے حکومت سے تنخواہ پانے کے باوجود مزید رشوت کا طالب ہو، وہ بھی اس حدیث کا مصداق ہے۔

لیکن اگر کہیں ایسا ہو کہ وقت کا نظام اس طرح بگڑ جائے کہ آدمی اپنا جائز حق بھی رشوت دیے بغیر نہ پاسکے تو ایسی حالت میں اضطرار کا اصول منطبق ہوگا اور اپنا واقعی حق لینے کے لئے اس کا دینا جائز قرار پائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں۔ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعت کی یہ تقسیم درست ہے۔ اور اگر درست ہے تو ان دونوں قسموں کے درمیان کیا فرق ہے۔ سے مستفید فرمائیں۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی)

عام طور پر بدعت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ: کل ما احدث فی الدین فهو بدعة (نئی ہر چیز جو دین میں نکالی جائے وہ بدعت ہے)۔ مگر یہ تعریف پوری طرح واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعت (innovation) زندگی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ زندگی میں بار بار نیا پن لانا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا مسلسل سفر ممکن نہیں ہوتا۔

تاہم نئی چیز کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ خود دین خدا میں کوئی نئی چیز نکالنا جس کا ثبوت قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ مثلا ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرنا۔ یہ طریقہ قرآن وسنت سے ثابت اس لیے اس کو غیر مطلوب بدعت قرار دیا جائے گا۔

بدعت یعنی چیز کی دوسری صورت وہ ہے، جو زمانہ کی ضرورت یا حالات کی تبدیلی کی بنا پر اختیار کی جائے مثلاً قرآن میں اعداد قوت (الأنفال ٦٠) کا حکم آیا ہے۔ اس کی تشریح حدیث میں رمی سے کی گئی ہے۔ یعنی تیر مارنا۔ مگر موجودہ زمانہ میں تمام مسلم ملکوں میں اعداد قوت کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے معنی میں لیا جاتا ہے، نہ کہ تیر کمان کی فراہمی کے معنی میں۔ یہ بظاہر ایک نئی چیز ہے مگر وہ مطلوب بدعت ہے، نہ کہ غیر مطلوب بدعت۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں عبادتی بدعت اور معاملاتی بدعت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

برادر محترم محمد ساجد خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۰ جون ۲۰۰۱ء کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ آپ نے ایک صاحب کا قصہ بتایا۔ کہنا تھا کہ الرسالہ پڑھنے والے کچھ افراد کو میں نے دیکھا، وہ بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ حالانکہ میری آمدنی ان سے زیادہ ہے مگر مجھے اطمینان والی زندگی حاصل نہیں۔ یہ الرسالہ کا کرشمہ نہیں، بلکہ وہ اسلام کا کرشمہ ہے۔ قرآن کے مطابق، اسلام آدمی کو نفس مطمئن (الفجر) بناتا ہے۔ اسی نفس مطمئن کا وہ نتیجہ ہے جس کا آپ نے ذکر کیا۔ جب بھی کسی انسان کو حقیقی معنوں میں اسلام حاصل ہو جائے تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ اس کو ایک اتھاہ اطمینان کی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الا بذکر الله تطمئن القلوب (الرعد ۲۸)۔

موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر شاید ان میں سے کوئی بھی سرگرمی نہیں جو لوگوں کو حقیقی اسلام کا تحفہ دے رہی ہو۔ کوئی تحریک مسلمانوں کو پر اسرار کہانیاں سنا رہی ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کے اندر خوش عقیدگی کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک حکومت واقتدار کو نشانہ بنائے ہوئے ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ کوئی تحریک غیر مسلموں کے خلاف جہاد کا نعرہ لگارہی ہے جس سے صرف نفرت کا ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک ملی مسائل کا اٹھائے ہوئے ہے جس سے صرف قومی ذہن بنتا ہے۔ کوئی تحریک فقہی مسلک پر زور دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں صرف کٹڑ پن اور تفریق کا ذہن بنتا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ذہن حقیقی معنوں میں اسلامی ذہن نہیں۔ موجودہ مسلم تحریکوں میں مشترک طور پر یہ بات ہے کہ وہ اسلام کو اس طرح پیش کرتی ہیں جیسے کہ اس کا تعلق انسان کی حقیقی زندگی سے نہ ہو۔ ان کے مطابق، اسلام یا تو فخر کی چیز ہے یا برکت کی چیز یا شہادت کے نام پر لڑ کر مر جانے کی چیز۔ انسان کوروز مرہ کی زندگی میں جو عملی مسائل پیش آتے ہیں،

گویا کہ ان کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں، ان کے لئے اسلام میں کوئی رہنمائی نہیں۔ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کی اصل اسپرٹ کو زندہ کرنا چاہتا ہے، اور جن لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ زندہ ہو جائے، ان کے لیے اسلام زندگی کا گائیڈ بن جاتا ہے، ایک ایسا گائیڈ جو زندگی کے ہر چھوٹے اور بڑے معاملہ میں اس کا قابلِ عمل رہنما ہو۔

اسلام اپنے ماننے والے انسان کے اندر اطمینانِ قلب کا جو مزاج پیدا کرتا ہے، اس کے دو خاص سبب ہیں جس کا میں یہاں ذکر کروں گا۔

ان کے اندر دو خاص صفتیں پائی جاتی ہیں۔ یہی دونوں صفتیں ان کے اندر وہ مزاج پیدا کردیتی ہیں جن کا مذکورہ صاحب نے ذکر کیا۔ ایک یہ کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک اعلیٰ مشن دیتا ہے، دعوت کا مشن۔ یہ مشن ہر قسم کی مادی چیزوں سے بلند ہے۔ جو لوگ اسلام کو اپنی زندگی میں بطورِ مقصد شامل کر لیں ان کو اسلام ایک اعلیٰ مشن کا حامل بنا دیتا ہے۔ صاحبِ مشن ہونے کا یہ احساس آدمی کو اتنا زیادہ اونچا اٹھا دیتا ہے کہ ہر دوسری چیز اس کے لئے حقیر بن جاتی ہے۔ عام لوگ دولت، عزت، شہرت، عہدہ، وغیرہ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں مگر اسلامی مشن کے حامل ایک شخص کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ اس کو ان تمام چیزوں سے زیادہ بڑی چیز حاصل ہے۔ ان چیزوں کا ملنا یا نہ ملنا دونوں اس کی نظر میں برابر ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے برعکس صاحبِ مشن ایسی چیز میں جیتا ہے جس میں نہ کھونے کا اندیشہ ہے اور نہ کم ہونے کا خوف۔ یہ احساس اس کو ابدی طور پر مطمئن بنا دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام کو بطورِ مشن لے کر اٹھنے والے شخص کی زندگی فطری طور پر سادہ اور غیر متکلفانہ ہو جاتی ہے۔ ان کے اندر دنیا کے بارہ میں قناعت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ حرص اور حسد کا جذبہ ان کے سینہ سے نکل جاتا ہے جو تمام بے چینیوں کا اصل سبب ہے۔ کا مسلک یہ بن جاتا ہے اتنے کم پر راضی رہو کہ جو کچھ تم کو مل جائے وہی تم کو کافی معلوم ہو۔ یکم نومبر ۲۰۰۱ء

Printed page